ہمیں بھی

یہ واقعہ 4 اگست کو لاہور میں پیش آیا‘ ملک بھر میں پولیس کے سات ہزار شہداء کا دن منایا جا رہا تھا‘ یہ وہ پولیس اہلکار تھے جنہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں عوام کو بچاتے بچاتے اپنی جانیں دیں اور قوم نہ صرف ان کے نام بھول گئی بلکہ ان کے بچوں اور بیوائوں کو کسمپرسی میں چھوڑ دیا‘پولیس کے اس یوم شہداء پر صبح ساڑھے آٹھ بجے محمد اسلم نام کا ایک سائیکل سوار ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مال روڈ سے جیل روڈ پر آ گیا۔

ٹریفک وارڈن بصیر انور علاقے کا پٹرولنگ آفیسر تھا‘ وارڈن نے اسے روک لیا‘ دونوں کے درمیان تکرار شروع ہو گئی‘ گالی گلوچ بھی ہوئی‘ یہ لڑائی جاری تھی کہ درمیانی عمر کے ایک صاحب آئے‘ جیب سے موبائل فون نکالا اور ویڈیو بنانا شروع کر دی‘ بصیر انور نے وائرلیس کے ذریعے سیکٹر میں اطلاع کر دی‘ پولیس اہلکار آئے اور سائیکل سوار کو شادمان سیکٹر لے گئے۔

ویڈیو بنانے والا بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے شادمان پہنچ گیا اور دروازے پر کھڑے ہو کر ویڈیو بنانا شروع کر دی‘ پٹرولنگ افسر عنصر آگے بڑھا اور اس سے موبائل فون چھین لیا‘ ویڈیو بنانے والے نوجوان نے اپنا تعارف کرایا تو پتہ چلا یہ جیو ٹیلی ویژن کا کیمرہ مین ہے اور اس کا نام محمد ریحان ہے‘ سائیکل سوار محمد اسلم نے پولیس سے تحریری معذرت کر لی‘ پولیس نے اسے وارننگ دے کرجانے کی اجازت دے دی‘ ریحان کو اس کا موبائل فون بھی واپس کر دیا گیا‘ ریحان نے اس دوران اپنے کرائم رپورٹر احمد فراز کو فون کر دیا‘ احمد فراز اپنے ایک ساتھی اور کیمرہ مین کے ساتھ شادمان سیکٹر آیا اور بصیر انور کو مارنا شروع کر دیا۔

سیکٹر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے‘ میں نے یہ فوٹیج دیکھی‘ فوٹیج میں احمد فراز‘ ان کا ساتھی اور کیمرہ مین ریحان بصیر انور کو مارتے صاف نظر آ رہے ہیں‘ پولیس اہلکاروں نے بڑی مشکل سے بصیر انور کو احمد فراز سے بچایا‘ یہ احمد فراز کی منتیں بھی کرتے نظر آئے‘ پولیس کے سینئرز کو اطلاع ہوئی ‘پولیس نے احمد فراز اور ریحان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی‘ پولیس نے ریحان کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ بھی مارا‘اس چھاپے کے بعد لاہور کے صحافیوں نے پولیس کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔

ٹریفک وارڈن بصیر انور ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے‘ یہ بی کام ہے‘ یہ 2006ء میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ٹریفک پولیس میں شامل ہوا‘ احمد فراز بھی بہت اچھے رپورٹر ہیں‘ یہ کافی عرصے سے صحافت میں ہیں‘ یہ دھیمے مزاج کے انسان ہیں اور لوگ عموماً ان کی تعریف کرتے ہیں چنانچہ میرا خیال ہے ریحان کیمرہ مین وہ شخص ہے جس نے احمد فراز اور بصیر انور کے درمیان غلط فہمی پیدا کی اور صحافت اور قانون دونوں کو آمنے سامنے بھی کھڑا کر دیا‘ریحان کو یوں سڑک پر کھڑے ہو کر موبائل فون سے ویڈیو نہیں بنانی چاہیے تھی۔

یہ اگر ویڈیو بنا رہے تھے تو پھر انھیں باقاعدہ اپنا تعارف کرانا چاہیے تھا اور گلے میں اپنا بیج بھی لٹکانا چاہیے تھا‘ کیمرہ مین کو پولیس کا پیچھا کر کے شادمان سیکٹر بھی نہیں جانا چاہیے تھا‘ اسٹوری کا پیچھا کرنا رپورٹرز کا کام ہوتا ہے کیمرہ مین کا نہیں‘ احمد فراز کو بھی شادمان سیکٹر میں کسی صورت پولیس اہلکار پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا‘ بصیر انور کی کیپ اور یونیفارم دونوں ریاست ہیں اور ہم اگر اس ریاست کے شہری ہیں تو پھر ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے‘ ہم اگر خودقانون کے منہ پر تھپڑ مار دیں گے تو پھر پیچھے کیا بچے گا‘ پھر ریاست کہاں جائے گی؟ میں پولیس کا ناقد ہوں۔

میں سمجھتا ہوں انگریز نے یہ پولیس 1862ء میں ہندوستانیوں کے دل میں اپنے اقتدار کی دھاک بٹھانے کے لیے بنائی تھی‘ انگریز چلا گیا لیکن انگریز کی پولیسنگ آج تک موجود ہے‘ ہماری پولیس آج بھی صاحبان اقتدار کو سلیوٹ اور عام آدمی کو ذلیل کرتی ہے‘ یہ سائیکل والے پر پورا قانون نافذ کر دے گی اور طاقتور کو سارا قانون پائوں میں روندنے کی اجازت دے دے گی چنانچہ ہمیں پولیس کے سسٹم کو الف سے یے تک تبدیل کرنا ہو گا‘ ہمیں پولیس کو حاکموں کی فورس کے بجائے عام شہری کی پولیس بنانا ہو گا‘ پولیس آج جتنی عزت طاقتور طبقوں کو دیتی ہے اتنی عزت اسے سائیکل سوار محمد اسلم کو بھی دینی چاہیے لیکن اس حقیقت کے باوجود ہمیں شہری کی حیثیت سے اپنی ذمے داری بھی تسلیم کرنا ہوگی۔

پولیس نے 15برسوں میں سات ہزار اہلکاروں اور افسروں کی قربانی دی‘ یہ قربانی چھوٹی نہیں ‘ فوج کے ساڑھے چھ ہزار جوان شہید ہوئے ہیں‘ ہم روز ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں‘ ریاست ان کے لواحقین کو نقد انعام بھی دیتی ہے‘ تنخواہ کے برابر رقم بھی دیتی ہے‘ پلاٹ بھی اور بچوں اور بیوائوں کو تعلیم اور علاج کی مفت سہولت بھی لیکن ہم نے آج تک پولیس کے شہداء کو کیا دیا؟

آپ کسی دن پولیس کے ریکارڈ سے شہداء کے لواحقین کی درخواستیں نکلوا کر دیکھ لیجیے‘ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے‘ پولیس ہر احتجاج پر مار بھی کھاتی ہے اور گالی بھی‘ یہ لوگ روزانہ انکوائریاں بھی بھگتتے ہیں اور سزائیں بھی‘ پنجاب میں پولیس نے 2017ء میں اپنے اہلکاروں کو 64458 سزائیں دیں‘ ان میں جرمانے سے لے کر معطلیاں‘ ڈی موشن اور نوکری سے برخاستگی تک شامل تھی اور یہ پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

پولیس کے اہلکار جلوس روک لیں تو یہ معطل ہو جاتے ہیں اور یہ اگر نہ روکیں تو بھی نوکری سے فارغ ہو جاتے ہیں‘ یہ مجرم کو گرفتار کر لیں تو پھنس جاتے ہیں اور اگر نہ کریں تو بھی فارغ ہو جاتے ہیں‘ یہ ایم پی ایز اور ایم این ایز سے بھی تھپڑاور گالیاں کھاتے ہیں اورعوام کی نفرت بھی بھگتتے ہیں‘ پولیس کا بڑے سے بڑا افسر ٹیلی ویژن کے ایک ٹِکر کی مار ہوتا ہے‘ آپ اس کے بارے میں ایک خبر چلا دیں اور یہ فارغ ہو جائے گا ‘پولیس پروٹوکول سے لے کر آگ بجھانے تک کا کام کرتی ہے اور آخر میں ہر ڈیوٹی پر ذلیل بھی ہوتی ہے اوریہ زیادتی ہے۔

ہم پولیس سے عزت‘ قانون اور انصاف کی ڈیمانڈ کرتے ہیں لیکن ہم نے کبھی سوچا کیا ہم ان کے ساتھ انصاف کرتے ہیں‘ یہ لوگ اگر قانون کی پوری پابندی کریں تو کیا ہم یہ قبول کر لیتے ہیں اور کیا ہم پولیس کو انسانوں کے برابر عزت دیتے ہیں؟مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے جی نہیں‘ ہمارا ان کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں‘ ریاست نے آج تک پولیس کے اوقات کار طے کیے اور نہ ہی انھیں مناسب معاوضہ دیا‘ یہ 24 گھنٹے کے ملازم ہوتے ہیں اور گولی اور گالی ان کا مقدر ہوتا ہے لیکن عوام اس کے باوجود انھیں عزت نہیں دیتے‘ یہ ظلم ہے‘ ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔

دنیا میں میڈیا کے لوگ دانشوروں میں شامل ہوتے ہیں‘ یہ انسانی حقوق‘ برابری اور انصاف کے داعی سمجھے جاتے ہیں‘ انسان کو دنیا میں آج جتنی عزت اور آزادی ملی اس میں میڈیا کی بہت بڑی کاوش شامل تھی‘ صحافی اگر عام شخص کی آواز نہ بنتے توآج سماج وہاں نہ ہوتا جہاں یہ آج ہے ‘ میڈیا آمریت کے خلاف جمہوریت کا پہلا مورچہ ہے‘ یہ مورچہ نہ ہوتا تو آج ملک میں جمہوریت زندہ نہ ہوتی لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہم میڈیا کے لوگ تھانوں میں جا کر پولیس اہلکاروں کو تھپڑ ماریں‘ ہم انھیں گالیاں دیں‘ ہم ان کی ٹوپیاں زمین پر پھینک دیں اور ان کی وردی میں ہاتھ ڈال دیں۔

دنیا کا کوئی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا‘ ہم اگر معاشرہ ہیں تو پھر ہمیں وردی اور وردی والوں کو عزت دینا ہوگی‘ ہمیں انھیں ریاست ماننا ہو گا‘ میں احمد فراز اور ریحان کیمرہ مین سمیت ملک کے تمام صحافی دوستوں سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے اگر بصیر انور کی جگہ رینجرز یا فوج کا کوئی جوان ہوتا تو کیا ہم اس کے ساتھ بھی یہ سلوک کرتے؟

کیا ہم اس کی فوٹیج بھی بناتے‘ کیا ہم اس کا پیچھا بھی کرتے اور کیا ہم اس کے دفتر میں بھی گھس کر اس کو تھپڑ مارتے؟ مجھے یقین ہے ہم ہرگز ہرگز ایسا نہ کرتے‘ ہم ایسا کیوں نہ کرتے؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں فوج یا رینجرز کا جوان اکیلا نہیں ہوتا‘ اس کے پیچھے پورا ادارہ کھڑا ہوتاہے اور یہ ادارہ اپنے بصیر انوروں کی عزت‘ ان کی ٹوپی اور ان کی یونیفارم کی حفاظت کرتا ہے چنانچہ احمد فراز ہو‘ پورا میڈیا ہو یا پھر وزیراعظم پاکستان ہو فوج اپنے لوگوں کی تکریم کے لیے ڈٹ جاتی ہے لہٰذا ہم کبھی یہ جرأت نہیں کریں گے جب کہ پولیس ایک یتیم ادارہ ہے۔

پولیس کے اعلیٰ افسر اپنے جونیئرز کو اون کرتے ہیں اور نہ ہی حکومت چنانچہ عوامی نمایندے ہوں یا عوامی میڈیا یہ جب چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے یہ پولیس پر پل پڑتا ہے‘ یہ زیادتی ہے‘ یہ ظلم ہے‘ یونیفارم پولیس کی ہو‘ کسٹم کی ہو‘ اے ایس ایف کی ہو یا پھر رینجرز یا فوج کی ہو ہمیں اسے ریاست ماننا ہو گا‘ ہمیں اسے عزت دینی ہو گی اور ہمیں اپنے کیمرہ مینوں اور رپورٹروں کو بھی کنٹرول کرنا ہو گا‘ ہم کون ہوتے ہیں کہ جب چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں موبائل فون کو تلوار کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہم کون ہیں کہ ہم پر کوئی قانون نافذ ہو سکتا ہے اور نہ ہی قاعدہ۔

آخر ہم میں اورپولیس اہلکاروں پر ڈنڈے برسانے والے پارلیمنٹیرینز میں کوئی فرق تو ہونا چاہیے‘ ہمیں کم از کم قانون بنانے والوں کی طرح قانون شکن تو نہیں ہونا چاہیے‘ اگر ہم بھی بدمعاش ہو جائیں گے تو پھر اس ملک میں قانون اور انصاف کی بات کون کرے گا چنانچہ ہمیں بھی اپنی ادائوں پر غور کرنا ہوگا‘ ہمیں بھی اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوگا‘میڈیا اگر قانون سے بڑا ہو جائے گاتو ریاست کیسے چلے گی؟۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *