تجارتی جھگڑوں کی قیمت اخبار چُکا رہے ہیں؟

مہر ندیم

امریکی اخبارات ٹرمپ کی طرف سے شروع کی گئی تجارتی جنگ کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں  اس وجہ سے پیپر امپورٹ پر بڑھتے ہوئے ٹیرف  اخراجات کی وجہ سے میڈیا پر جو بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ رواں سال پرنٹ میڈیا کی قیمتوں میں ردو بدل کر کے  اس معاملے میں امریکی کانگریس ڈیپارٹمنٹ نے کردار ادا کیا تھا  جب اس ادارے نے کینیڈین  گراونڈ وُڈ پیپر کی درامد پر 22 فیصد ٹیکس ڈیوٹی عائد کر دیی تھی۔ اس فیصلے سے پبلشرز کے اخراجات بڑھنے لگے ااور انہوں نے توازن پیدا کرنے کے لیے سٹاف میں کمی کی اور اشاعت میں بھی حد درجہ کمی کر دی جس سے ریڈرز کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔پال تاش نامی ٹائمز پبلشنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: پانی ہماری ٹھوڑی تک پہنچ گیا ہے اور یہ ٹیرف اسے اوپر لے کر جا رہے ہیں۔ تاش پچھلے ماہ ایک سرکاری سماعت کے دوران واشنگٹن میں ان ڈیوٹیز پر گفتگو کر رہے تھے  جن کی درخواست واشنگٹن میں موجود پیسفک پیپر کمپنی نے کی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کینیڈا گرانڈ وڈ پیپر  کو سبسڈائز کرنے کے بعد امریکی پروڈیوسرز سے ناجائز منافع حاصل کرتا ہے۔

اگرچہ ڈیوٹیز کو اس قدر اہمیت نہیں دی گئی جتنی ٹرمپ ی طرف سے چینی اشیاء پر عائد کیے گئے ٹیرف کو دی گئی ہے لیکن  اس کے اندر امریکی ٹریڈ پالیسیوں کا وہ خطرہ موجود ہے جو ٹرمپ  کی وجہ سے امریکی بزنس پر پڑے گا۔ پیپر ٹیرف کی وجہ سے نیوز پرنٹ قیمتیں پچھلے 9 سال میں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں  اور اس وجہ سے بہت سے مشہور اشاعتی اداروں کو قیمتوں سے نمٹنے کے لیے سٹاف میں کمی کے اقدامات شروع  کر دیے ہیں۔

امریکی انٹرنیشنل ٹریڈ کمشن نے ستمبر 2017 میں اس بات پر اتفاق کیا کہ کینیڈین امپورٹس کی وجہ سے امریکی پروڈیسرز زخمی ہیں ۔ کامرس نے جنوری اور مارچ میں اس پراڈکٹ پر لگائی جانے والی ڈیوٹی پر سخت تنقید کی۔ڈیپارٹمنٹ نے اپنے آخری فیصلے میں ڈیوٹی ریٹ میں کمی کی  اور 2 کینیڈین  کے لیے یہ بلکل ختم کر دیا گیا جب کہ تیسرے کے لیے یہ 22 اعشاریہ 2 سے کم کر کے  16 اعشاریہ 9 پر لایا گیا۔ حتمی فیصلہ اگلے ماہ امریکی خود مختار ایجنسی دی ٹریڈ کمیشن کی طرف سے جاری کیا جائے  گا۔ لیکن اس کمی سے امریکی اخباروں کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔سیم فشر جو الینیائس پریس ایسو سی ایشن کے صدر ہیں نے اپنےتازہ ترین بیا ن میں کہا: کم ٹیرف سے فائدہ تو ہوتا ہے لیکن اس سے وہ خطرہ ٹل نہیں سکتا  جو نیوز پیپر انڈسٹری کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

نیو یارک ڈیلی نیوز نے جولائی کے آخری عشرہ میں تقریبا نصف تعداد میں سٹاف کو فارغ کر دیا جب کہ پرتاغ پوسٹ گزٹ  اور ٹامپا بے ٹائمز  اپنے پرنٹ ایڈیشن میں کمی لانے پر غور کر رہے ہیں۔امریکہ بھر سے 11 سو اخبارات کمپنیوں کی ایک ایسو سی ایشن نے  ڈیوٹیز کے بارے میں کامرس سیکرٹری وِلبر راس کو خط لکھا  اور بتایا  کہ کم اشاعت والے ادارے ان بڑھتی پیپر پرائس کی وجہ سے اپنی بقا کھو جانے کے خطرہ سے دو چار ہیں۔

 سینیٹر کے اقلیتی لیڈر چک سکومر جن کی نیو یارک ریاست میں  17000 افراد اخبارات سے متعلقہ شعبہ میں نوکری کرتے ہیں،  نے بھی پچھلے کچھ ماہ میں ان ڈیوٹیز کے خلاف آواز بلند کی ہے  اور کہا ہے کہ یہ کمیونٹی پیپرز کو مزید تباہی کے راستے پر ڈالنے کی وجہ بن سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے لیڈے نے بفلو نیوز میں شائع ہونے والے کالم میں لکھا: یہ غیر مناسب اور ناجائز ٹیرف ہے  جس کی وجہ سے بہت سے لوکل پیپرز کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔

نارتھ پیسفک پیپر کا کہنا تھ کہ کینیڈا کی طرف سے غیر مناسب کمپٹیشن کی وجہ سے انہیں اپنی ایک پیپر مشین بند کرنا پڑی ۔ انہوں نے بتایا کہ قیمتیں بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ  سستے داموں امپورٹ کر کے جان بوجھ کر مصنوعی طریقے سے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کہ نمائندہ کامرس راس کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف امریکی فرموں کو ناجائز  غیر ملکی ٹریڈنگ ایکٹویٹیز سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں   اور اس کے کچھ دیر تک مشکلات کے عمل سے گزرنے کے بعد غیر معمولی فوائد سامنے آئیں گے۔ بہت سے اخباری دفاتر کو ڈر ہے کہ  وہ ان فوائد سے مستفید ہونے تک اپنی بقا یقینی نہیں بنا پائیں گے۔ الیونس پریس ایسوسی ایشن کے مالک فیشر نے کہا: ہم جب تک طاقت رکھتے ہیں ان ٹیرف کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *