جمال نقوی کی جرأت رندانہ (حصہ اول)

زاہدہ حنا

زاہدہ حنا

گنگا جمنا اور تصوراتی دریا سرسوتی کا سنگم۔ سرسوتی جو زمین کے اندر گم ہوگئی ہے لیکن گنگا اور جمنا جب گلے ملتے ہیں تو ان کی یک جائی میلوں تک ایک لکیر کی صورت نظر آتی ہے۔ لوگ اشاروں سے بتاتے ہیں کہ یہ رہی گنگا اور وہ رہی جمنا۔ اس سنگم کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اب تک اس کا حسن نگاہوں میں کھنچا ہوا ہے۔

الٰہ آباد کا مشہور تاریخی شہر جہاں اس سنگم کی زیارت کرنے اور جس کے پانی میں نہا کر اپنے پاپ دھونے کے لیے ہر سال دنیا اور ہندوستان بھر سے کروڑوں ہندو آتے ہیں، دریا میں ڈبکی لگاتے ہیں اور اپنے حسابوں پاک پوتر ہوکر گھر جاتے ہیں۔

اسی الٰہ آباد کے ایک مسلمان گھرانے میں ایک لڑکا جمال پیدا ہوا۔ گھر میں تعلیم کا ایسا چرچا تھا کہ 1930ء کی دہائی میں اس کی لڑکیاں بھی ایم اے اور پی ایچ ڈی کرتی تھیں۔ یہ کمال میں نے جمال بھائی اور شیرشاہ سید کی ماؤں میں دیکھا جنھوں نے چٹنی روٹی کھا کر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پڑھایا اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ جمال بھائی کی والدہ امیربانو نے جو بیوہ ہوچکی تھیں اس زمانے کی تمام روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے منشی فاضل کا امتحان لاہور جاکر دیا جو الٰہ آباد سے بارہ سو میل دور تھا۔ شیرشاہ کی والدہ عطیہ بیگم بیٹیوں اور بیٹوں کے ڈاکٹر بن جانے کے بعد سیکنڈری اسکول سے میڈیکل کالج تک تعلیم حاصل کرکے خود ڈاکٹر بنیں۔ سالہا سال سے کراچی میں ان کا کئی منزلہ ڈاکٹر عطیہ اسپتال، شہر میں مشہور ہے۔ کیا باہمت اور باوقار عورتیں تھیں۔

جمال الدین نقوی، امیر بانو اور سید نہال الدین کے بیٹے تھے۔ کم عمری میں ہی والد کا انتقال ہوگیا لیکن ان کی ماں یہ جانتی تھیں کہ تعلیم کا سلسلہ کسی قیمت پر منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ امیر بانو صاحبہ نے اپنے تمام بچوں کی تعلیمی زندگی میں کوئی رخنہ نہیں آنے دیا۔

ہندوستان میں یہ زمانہ سیاسی اتھل پتھل کا تھا۔ ایک طرف انڈین نیشنل کانگریس تھی، دوسری طرف مسلم لیگ کا ابھار ہو رہا تھا۔ اسی زمانے میں جمال صاحب کمیونسٹ خیالات کے زیر اثر آئے۔ اس دور کو انھوں نے اپنے وجود پر سرخ نظریے کا پہلا حملہ قرار دیا ہے۔ یہ حملہ ان کے رشتے کے ایک بھائی کی جانب سے ہوا۔ جمال صاحب نے لکھا ہے کہ وہ مجھے جس طرح اپنے نظریات سمجھاتے، مجھ پر ایک جادو سا ہو جاتا۔ ان کے اندر ایک باغی روح تھی۔ میری جواں سال نظروں میں میرے یہ بھائی علم و دانش کا مجسمہ تھے۔ مجھے کورس کی کتابوں سے زیادہ ان کی باتوں میں دلچسپی ہونے لگی۔ میں بھی انھی کی طرح کمیونسٹ بننا چاہتا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب مسلم لیگ کے جید قائدین کی طرف سے نوجوان طلبا کو سیاست میں سرگرمی سے حصہ لینے کی تلقین کی جاتی۔ جمال صاحب نے طالب علمی کے زمانے سے ہی سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ لیکن یہ مسلم لیگ کی نہیں قوم پرست اور سرخ سیاست تھی۔

مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد ان کی والدہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو سمیٹ کر انھیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔ یوں الٰہ آباد کے اس خاندان نے پاکستان کا رخ کیا۔ جمال صاحب نے پاکستان میں سیاسی طور پر نہایت سرگرم اور متحرک زندگی گزاری۔ ایک استاد، دانشور اور سیاسی مدبر کے طور پر نام کمایا لیکن عمر کے آخری حصے میں انھوں نے اپنے سیاسی خیالات کے بارے میں نہایت اہم فیصلے کیے۔ یہ ان کی جرأت رندانہ تھی کہ جب انھوں نے کمیونسٹ پارٹی سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تو خود نوشت لکھ کر اس کا بہ بانگ دہل اعلان بھی کیا۔ ان کی کتاب Leaving the left behind شایع ہوئی تو وہ ان کے چاہنے والوں پر بم کی طرح گری۔ انھوں نے ساری زندگی ایک کٹر کمیونسٹ کے طور پر گزاری تھی لیکن جب انھیں احساس ہوا کہ وہ غلطی پر تھے تو انھوں نے اس کے اعتراف میں دیر نہیں لگائی اور کلیجہ کھول کر رکھ دیا۔

اپنی بات میں ان کی زندگی کے ابتدائی برسوں سے شروع کروں گی جب وہ 1950ء کی دہائی میں کراچی کے اسلامیہ کالج میں اپنی تعلیمی زندگی مکمل کر رہے تھے۔ یہاں وہ ایک دلچسپ نکتہ بیان کرتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگی قائدین کالج اور یونیورسٹی کے طلبا کو عملی سیاست میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے پر اکساتے تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دوسرے تعلیمی اداروں کے طلبا نے اگر جی جان سے پاکستان کی مہم نہ چلائی ہوتی تو شاید برصغیر کی سیاسی تاریخ مختلف ہوتی۔ لیکن اب پاکستان بن چکا تھا۔ اب حکمران مسلم لیگی اشرافیہ کا نکتہ نظر کچھ اور تھا۔

جمال صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اشرافیہ جس طرح ملک کو چلا رہی تھی طلبا اس سے مطمئن نہ تھے۔ ہمارا مستقبل خطرے میں تھا۔ 1950ء کی دہائی میں قومی سیاسی معاملات پر محلاتی سازشیں غالب تھیں۔ حکمران سیاسی اشرافیہ اور فیوڈل طلبا کی سیاست میں شرکت سے خوفزدہ تھے۔ ملک کے بانی جناح اور لیاقت علی خان بھی طلبا کی سیاست میں شرکت کے خلاف تھے۔ یہ ایک دلچسپ تضاد ہے جو کھل کر سامنے آتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے مخلص قائدین کس طرح اپنا نکتہ نظر بدل دیتے ہیں۔

یہاں سے اس روشن خیال اور مضطرب نوجوان کا قصہ شروع ہوتا ہے جس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پاکستانی سیاست کو دوسری ڈگر پر چلانا چاہا۔ طلبا سیاست میں ان دنوں کئی نوجوان ابھرے جن میں ڈاکٹر سرور، ڈاکٹر ہاشمی، ڈاکٹر ادیب رضوی اور ڈاکٹر ہارون بہ طور خاص قابل ذکر ہیں۔جمال صاحب ہمیں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن، جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم جمعیت طلبا کے بارے میں بتاتے ہیں اور یہ بھی کہ ان کے مقابلے پر ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن ابھری لیکن بااثر افراد کی سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ ڈاؤ میڈیکل کالج کے کچھ طلبا جب اس میں شریک ہوئے تو  یہ بھی کچھ منظم ہوئی اور کراچی کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں ڈی ایس ایف کے حمایتی پیدا ہونے لگے۔ وہ پنڈی سازش کیس اور ملک میں ترقی پسند خیالات رکھنے والے افراد کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان کے طلبا کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی ہمیں بتاتے ہیں۔

ہم ان کی اس خودنوشت میں 6 جنوری 1953ء کو نکلنے والے طلبا جلوس اور اس پر ہونے والے لاٹھی چارج، فائرنگ اور اس کے نتیجے میں کئی بے گناہوں کی شہادت کے بارے میں بھی پڑھتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں حکومت کراچی شہر میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کا وعدہ کرتی ہے اور پھر طلبا کے دباؤ کے نتیجے میں کراچی یونیورسٹی قائم بھی ہو جاتی ہے۔

جمال صاحب کی خودنوشت میں پاکستانی طلبا کی سیاست اور اس وقت کے سیاسی حالات کی منظر کشی ملتی ہے۔ اپنی انھی سرگرمیوں کی بنا پر وہ جیل بھیج دیے جاتے ہیں جہاں انھیں سجاد ظہیر، سبط حسن اور حسن ناصر کے ساتھ وقت گزارنے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

کراچی میں انھیں ان کے سیاسی خیالات اور جیل یاترا کی وجہ سے ملازمت نہیں ملتی تو وہ حیدرآباد چلے جاتے ہیں جہاں مرزا عابد عباس انھیں ایک نجی کالج میں انگریزی کے استاد کی ملازمت دے دیتے ہیں۔ وہیں ان کی ملاقات سوبھو گیان چندانی، سلیم عاصمی، موہنی سنگھ، احمد انسان (بعد میں احمد الطاف)، شمیم واسطی اور دوسرے لوگوں سے ہوتی ہے لیکن وہ جس شخص کا بہت محبت سے ذکر کرتے ہیں وہ جام ساقی ہے جس نے اپنی زندگی کمیونسٹ پارٹی کے لیے وقف کررکھی تھی۔

جام نے اپنی بیوی کی خودکشی برداشت کی اور بیٹے کی موت۔ زندگی کے لگ بھگ 9 برس شاہی قلعہ کے عقوبت خانے میں گزارے۔ قید تنہائی اس پر مستزاد تھی۔ اس کے ساتھ اتنا بھیانک جسمانی تشدد ہوا کہ وہ ذہنی طور پر غیر متوازن ہوگیا۔ خفیہ ایجنسیاں اس سے پہلے حسن ناصر پر وہ غیر انسانی تشدد کرچکی تھیں کہ نتیجے میں وہ جان سے گزر گیا۔ وہ ہمیں نذیر عباسی کے بارے میں بتاتے ہیں جو انھیں بیٹوں کی طرح پیارا تھا۔ جمال صاحب اور نذیر عباسی ایک ہی وقت میں اور ایک ہی ساتھ گرفتار ہوئے تھے۔

وہ لکھتے ہیں کہ میں نے آخری مرتبہ اس کی آواز سنی جب اس نے اپنی شناخت کراتے ہوئے کہا ’’میں نذیر عباسی ہوں‘‘۔ دونوں کی آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔ پھر وہ دونوں باہر لے جائے گئے، انھوں نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا لیکن اس کی آواز ان کے کانوں میں گونجتی رہی، ’’میں نذیر عباسی ہوں ‘‘ بیٹے کی طرح عزیز نوجوان کی آواز کی یہ کترن انھیں ہمیشہ ڈستی رہی۔

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *