جس دن تبدیلی کا اشارہ ملا پی سی بی کو خیر باد کہہ دوں گا، نجم سیٹھی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین، سابق کرکٹ کپتان اور اپنے دور کے عظیم آل راؤنڈرعمران خان پاکستان کے وزیراعظم بننے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں اور ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے نئے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے گیند عمران خان کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعظم عمران خان بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ہوں گے اور اگر وہ اپنے کسی شخص کو پی سی بی میں لانا چاہتے ہیں تو مجھے اشارہ کردیں میں استعفیٰ دے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ نیا چیئرمین مقرر کرنا، پیٹرن ان چیف کا استحقاق ہے لیکن ابھی میں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ عمران خان کی حکومت آنے کی صورت میں کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو جائے گا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا آپ عمران خان کے آنے کے بعد چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں کہا کہ 'میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ذات کی خاطر عدم استحکام اور انتشار سے دوچار نہیں کرنا چاہتا، اگر مجھے عمران خان یا ان کے کسی بھی مشیر کی جانب سے یہ اشارہ مل گیا کہ وہ مجھے چیئرمین کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہتے اور اپنا آدمی لانا چاہتے ہیں تو میں از خود پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیر باد کہہ کر گھر چلا جاؤں گا'۔

عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد نجم سیٹھی کا اپنے مستقبل کے حوالے سے یہ پہلا انٹرویو ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر کھل کر اظہار کرنے سے گریز کیا لیکن تاہم واضح طور پر اپنا پیغام پہنچادیا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاوں گا جس سے پی سی بی کو نقصان ہو، کرکٹ سے میری روزی روٹی وابستہ نہیں ہے، میں ٹی وی پر اپنا شو بھی شروع کرسکتا ہوں، میں نے کوئی کوئی غلط کام نہیں کیا ہے کہ گھبراؤں۔

خیال رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں پنجاب اسمبلی کی نو منتخب آزاد رکن جگنو محسن نے جہاں اپنے سیاسی مقاصد واضح کیے وہیں اپنے شوہر نجم سیٹھی کے مستقبل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نجم سیٹھی آئندہ 8 سے 10 دنوں میں اس بارے میں اہم فیصلہ کریں گے اور وہ یہ فیصلہ اپنی عزت نفس کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔

اس حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ ابھی تک میرا بورڈ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے لیکن میں اسی صورت میں کام کروں گا جب عمران خان یا ان کے لوگ مجھے کام جاری رکھنے کے بارے میں کہیں گے، اپنے مستقبل کے بارے میں کسی دباؤ پر کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات شفاف انداز میں چلائیں ہیں اور ہر سال بورڈ کا آڈٹ بھی باقاعدگی سے کرایا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے دو ایڈیشنز کے آڈٹ ہوچکے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پہلے پی ایس ایل کا آڈٹ مکمل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جس دن بورڈ میں تبدیلی کا اشارہ مل گیا میں پی سی بی کو خیر باد کہہ دوں گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کی ٹائٹل اسپانسر شپ کے علاوہ مختلف حقوق کی فروخت کا عمل شروع کررکھا ہے۔ ایک نجی بینک سے تین سالہ ڈیل ختم ہونے کے بعد پی ایس ایل کی ٹائٹل اسپانسر شپ اور کو-اسپانسرشپ سمیت تقریباً نو نئے معاہدے کرنا ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم سے تین اکتوبر تک دبئی میں آئی سی سی کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی بھارتی بورڈ کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ کے کیس پر فیصلہ کرے گی۔ اگر اس موقع پر نجم سیٹھی کو عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو پاکستان کا کیس کمزور پڑ سکتا ہے کیوں کہ نجم سیٹھی اس کیس میں اہم گواہ ہیں اور بھارتی بورڈ نے آئی سی سی میں جواب دیا ہے کہ انہیں حکومت نے پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اگر نجم سیٹھی کو نئی حکومت نے اکتوبر سے پہلے تبدیل کرنے کا اشارہ دے دیا تو بھارت یہ مؤقف بھی اختیار کرسکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی حکومت کے زیر اثر ہے۔

نجم سیٹھی گذشتہ سال اگست میں تین سال کے لیے پی سی بی چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ رواں ماہ ان کا ایک سال مکمل ہوجائے گا جبکہ ان کے عہدے کی معیاد اگست 2020 میں مکمل ہوجائے گی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بیشتر چیئرمین سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں جن پر یہ بات صادق آتی ہے کہ پیا جسے چاہے وہی سہاگن۔

2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری سونپ دی گئیں جو ان عام انتخابات کے موقع پر پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ تھے۔

ذکاء اشرف نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا لیکن اس تمام تر صورتحال کا ڈراپ سین یہ ہوا کہ شہریارخان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور نجم سیٹھی نے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا اور جب شہریارخان اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوئے تو نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی سی بی میں چیئرمین کا عہدہ خالی ہوتا ہے تو قائم مقام چیئرمین کا عہدہ پی سی بی کے الیکشن کمشنر کو مل جائے گا جو اپنی نگرانی میں انتخابات کرائیں گے۔انتخابات کے لیے بورڈ کے پیٹرن کو نجم سیٹھی کی جگہ نئی نامزدگی کرنا ہوگی اور الیکشن کا عمل ایک ماہ میں مکمل ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *