پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے درپیش چیلنج

پلیز کبھی بھی  IMFکی طرف مت جائیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے  چین کےنقش قدم پر چلنے کے وعدے سے بھی باز رہیں  اور  پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے وعدے سے بھی گریز کریں۔

آئیں سب سے پہلے IMF کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ دنیا میں کوی بھی ملک ایسا نہیں ہےجو یہ دعویٰ کر سکے کہ فنڈ کی شرطوں پرسختی سے عمل کرتے ہوئے ملک غربت سے متوسط درجے تک ترقی کر گیا ہے۔ غالب یقین ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ممالک نے  یہی مشاہدہ کیا ہو گا کہ ان کے ملک میں کھانے پر خانہ جنگی اور فسادات پیدا ہوئے۔

وجوہات سادہ ہیں۔ آخری  حد میں  قرضہ دینے والا صرف ان ممالک کو ادھار دیتا ہے جو فنڈ کی شرائط کا حرف بحرف پورا اترنے کا عہد کریں  اور یہ شرائط اس ملک کی معیشت کو مزید سست کرتی ہیں  اور اس طرح یہ قرض دار ملک ہمیشہ سے آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنس جاتا ہے۔

1958 سے 2013 تک پاکستان نے زیادہ سے زیادہ 21 فنڈ پروگراموں  سے معائدہ کیا ہے۔ اور حیرت کی بات ہے  کہ پاکستان ان 21 پروگراموں میں سے صرف 6 کو مکمل کر پایا۔ ان 6 میں سے 3 1988 میں پی پی پی کی دوسری حکومت کے دوران کامیابی سے مکمل ہوئے۔ بقایا 2 میں سے  پہلا بنیادی طور پر سن 2000 میں(پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دوران) مکمل ہوا کیوں کہ یہ فرنٹ لوڈڈ تھا  جس کا مطلب ہے کہ پیسہ صرف معاشی اور سیاسی شرائط پر صرف کیا گیا جو پروگرام کے ساتھ منسلک تھیں، وہ فوجی حکومت کی طرف سے پوری کی گئیں۔ اوران 6 میں سے آخری جو مکمل کیے گئے ان کا آخری معائدہ 2013 میں آنے والی پی ایم ایل این کی حکومت نے کیا۔ یہ پروگرام  17 بار ڈسکاونٹ حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو سکا۔

لیکن دیکھیے اس آخری پروگرام کی تکمیل کے بعد معیشت کے ساتھ  کس طرح کا سلوک کیا گیا۔ قرضہ ناممکن  حدود تک پہنچ گیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ وقت کے سب سے اوپری سطح پر ہے اور کرنسی پیچھے جا رہی ہے۔

21 میں سے 15 معائدے مکمل نہیں ہو سکے کیوں کہ   یکے بعد دیگرے حکومتوں نے اصلاحات کے وقت  ہاتھ روک لیےاور اپنی ذمہ داری پر انتظامات سے علیحدگی اختیار کر لی  اور فنڈ نے بھی دوسرے مرحلے میں  شرائط پر عمل میں سر د مہری دیکھی  تو ہاتھ اٹھا لیا۔

چونکہ اصلاحات کے پہلے مرحلے نےمعاشرے کے بے زبان غریب تر طبقات پر شدید اثر ڈالا جیسا کہ قیمت ہر عبہ میں بڑھ گئی  صارفین  پر ٹیکس عائد کیے گئے، سبسڈی ختم کی گئی،  اس لیے حکومتوں نے  بھی عوام کو ریلیف دینے یا فنڈ سے معاملات بہتر کرنے میں سرد مہری دکھائی۔

فنڈ شرائط کا دوسرا مرحلہ مشقت کے تمام عوام پر برابر تقسیم سے تعلق رکھتا تھا  جس کے لیے ٹیکس اصلاحات، اور سپیشل ٹیکس چھوٹ کے خاتمہ جیسے اقدامات کی ضرورت تھی ۔ چونکہ رولنگ ایلیٹ اس کےلیے رضا مند نہ تھا اس لیے فنڈ پروگرام سے باہر نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا۔

اس لیے  IMFکی طرف جانے کے بجائے،مارکیٹ سے قرضہ کے ذریعے موجودہ فرائض کو پورا کرنا معاشی طور پر فائدہ مند ہو گا۔ ادھار لینا غلط نہیں ہے چاہے اس کے زریعے ماضی کے قرضوں کا کچھ حصہ ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔  ہمیں فوری طور پر جی ڈی پی کی شرح کے لیے  25 سے 30 فیصد تک انویسٹمنٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ ہماری بچت کی  موجودہ شرح جی ڈی پی کے 11 سے 12 فیصد سے زیادہ نہیں ہے، بڑے قرضوں کو  ادا کیے اور ساتھ ہی ایک تیز شرح اور تعداد کے ساتھ غیر ملکی انویسٹمنٹ کو مدعو کرنے کے بغیر اپنی انویسٹمنٹ کی شرح کو بہتر بنانے کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔

 اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کی قیادت میں نئی حکومت  ا ورسیز پاکستانیوں کے ہاں اچھی ساخت کا فائدہ اٹھا سکتی ہے  اور انہیں  اپنی رقوم وطن بھیجنے اور ملک میں سرمایہ کاری پر انہیں آمادہ کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر  کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ  تازہ ترین ٹیکس اصلاحات کو جلد از جلد متعارف کروا سکے۔

ٹیکس چوری اور چھوٹ کیوجہ سے ہماری  انفارمل اکانومی بہت پھیل چکی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فارمل اکانومی سے دو گنا آگے ہے۔ لیکن اگر یہ فارمل اکانومی کے برابر  ہو تو بھی  یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی حکوت کرپشن کو محدود سطح تک لا سکے۔

ایک سوشل  جمہوریت میں ٹیکسیشن کا سب سے اہم مقصد معاشی انصاف فراہم کرنا ہے  جس کا تعلق ٹیکس کا بوجھ شہریون پر برابر تقسیم کرنا ہے ۔ غریب کے فائدے کے لیے امیر سے ٹیکس لینا سماجی جمہوریت میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں، کامیاب حکمران، فوج اور سویلین دونوں، نے ٹیکس کو اپنے سکون اور  آرائش کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مخصوص ٹیکس قوانین کے ذریعے وہ امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر   بناتے  رہے ہیں۔ ہمارے پیشہ ور معاشی منتظم  بے یقینی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ایک طرف  تو   ٹیکس کی وصولی میں بہتری لا کر مالی خسارہ کو روکنے کا دباو ہے  تو دوسری طرف وہ  امیر اور برتر طبقہ کو  ٹیکس کی مد میں دی گئی رعایت کو ختم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔

1977 سے آج تک سول اور فوجی حکومتوں نے امیر طبقہ کو ٹیکس چھوٹ اور رعایات دے کر  کھربوں روپے کے ریونیو قربان کر دیے ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں نے ترقی یافتہ ٹیکس جیسے، اسٹیٹ ڈیوٹی، گفٹ ٹیکس، کیپیٹل گین ٹیکس اور اسی طرح کے مزید ٹیکس اکٹھے کرنے کے لیے  کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔

جنرل ضیاء کے 11 سالہ دور حکومت  اور جنرل مشرف کے 9 سال کے قریب دور حکومت کے دوران غیر حاضر زمین مالکان (بشمول اور جرنیلوں کے جنہوں نے ریاستی زمین کسی بھی طرح کے انعام میں حاصل کی ہو)  نے  زرعی انکم ٹیکس یا دولت ٹیکس کا ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا۔ زرعی آمدنی کی ٹیکسیشن  1973 کے آئین کی تحت صوبائی حکومت کا  مخصوص حق ہے۔ اس سے متعلق تمام چاروں صوبوں میں قوانین ہیں لیکن کل مجموعہ 2 بلین(زراعت کا حصہ جی ڈی پی میں تقریبا 22 فیصد ہے) سے ابھی تک کسی سال میں نہیں بڑھا۔ کسی نے حساب نہیں لگایا کہ پاکستان 1977 سے اب زرعی زمین کی ٹیسکیشن نہ ہونے کی وجہ سے    کتنا نقصان برداشت کر چکا ہے۔  ٹیکسیشن ریفارمز کمیشن جو ابھی نافذ نہیں ہوا  کی رپورٹ کے مطابق مختلف ایگزمپشن، نان ٹیکسیشن اور سٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈرز کے ذریعے  ٹیکس کی مد میں  100 ٹریلین سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔  اگر ہم یہ ٹیکس سےممکنہ آمدنی کا نقصان نہ کرتے تو ہمیں کوئی قرضہ بالکل  نہ لینا پڑتا۔

اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ  حالات سے نمٹنے کے لیے کرنسی کو چھاپنے اور ادھار لینے سے گریز کرنے میں مضمر ہے۔ رقم  کو ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے خرچ کرنا جس کی وجہ سے رقم غریب کے ہاتھ میں جائے  جس کی وجہ سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہو اور پھر سپلائی میں اضافہ کیا جاے  جس کی وجہ سے گروتھ میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے۔

سی پیک کا فائدہ لیتے ہوئے ہم اپنے ملک کو ایک وئیر ہاوس  یا ٹرانس شپمنٹ میں بدل سکتے ہیں  اس کے لیے ہمیں دوسرے ممالک سے زیرو ٹیرف پر  راء میٹریل خرید کر   اسے اچھی  پراڈکٹ کی صورت میں تیار کر کے ایکسپورٹ کرنا ہو گا ۔چائنہ،افغانستان، ایران  اور انڈیا   کے ساتھ ہماری سٹریٹیجک جغرافیائی صورتحال  بہت ہی فائدہ مند ثابت ہو گی اور ہمیں ایک کامیاب ریجنل ٹریڈ سینٹر بنا دے گی۔

چائنہ کی برابری  کیسے کی جا سکتی ہے؟  اس طرح کی گستاخی وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے چین کے اس منزل تک سفر کا مطالعہ نہیں کیا۔ ۔ 1947 اور 1979 کے دوران چائنہ نے سخت محنت کی، چیزوں کے استعمال سے پرہیز کیا اور اثاثے اور دولت جمع کی۔ بچپن سے قبر تک چائنہ کے کسی بھی شہری کو خواجہ سراؤں کی وردی کی طرح  کے دو جوڑوں سے زیادہ کی اجازت نہیں تھی ۔ ہر شہری کو ایک کمرے کے فلیٹ میں رہنا پڑتا تھا۔ ہر جوڑے کو ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت تھی۔  بہت ہی کم قیمت کے تین وقت کھانے کی اجازت تھی۔

1979 میں جب چائنہ نے دنیا (Hong Kong) کی طرف اپنی کھڑکیاں (Shenzhen)کھولیں اس کے شہریوں کے پاس اپنی کافی بچت تھی  ان کے پڑوس کی بنائی گئی چیزیں خریدنے کے لیے ایسے دولت مند لوگوں سے جو ہانگ کانگ سے یہاں اپنے بزنس یونٹ قائم کرنے آئے تھے۔ جلد ہی چائنہ والے دنیا کے دوسرے حصوں سے انویسٹرز کو مدعو کر رہے تھے کہ وہ آئیں اور چائنہ میں  تقریبا ایک بلین آبادی کے لیے فیکٹریاں لگائیں جس کا ایک بڑا حصہ متوسط آمدن  والی کلاس میں شمولیت کو تیار تھا۔   جب  گلوبلائزیشن یہاں پہنچی، چائنہ نے اپنی سستی لیکن ماہر لیبر کے ساتھ دنیا کی سب سے پر کشش مارکیٹ بن گیا جہاں  ملٹی نیشنلز کے لیے بہت کم قیمت پر ایکسپورٹ مارکیٹ کے لیے اشیا تیار کی جاتی تھیں۔ ایسے چائنہ نے اپنی کروڑوں لوگوں کو غربت سے اوپر اٹھایا۔ اور صدی کے کے بدلتے ہی چین ایشین سنچری کی قیادت کر رہا تھا۔

اس لیے جب تک ہم اپنے آج کو  قربان کرنے پر تیار نہیں ہوتے بلکل اسی طرح جس طرح چین نے تیس برس تک قربانی کا راستہ اپنایا،  تب تک ہم چینیوں کی طرح امیر ملک نہیں بن سکتے۔

اور ہم ایشین ٹائیگرز جیسے کیوں نہیں بن سکتے؟ ایشین ٹائیگرز آمادگی کے ساتھ امریکہ اور یورپ کے ملٹی نیشنلز کی ایک مٹھائی کی  فیکٹری بن گئے۔ ۔  امیر دنیا کے انٹر پرائزرز نے   اپنی دولت اور ٹیکنالوجی ان ممالک میں متعارف کروائی  اور یہاں کے مزدوروں کوکم رقم پر کام  کرواکر یہاں کی پراڈکٹس واپس اپنے ممالک میں بجھوائیں۔ ڈیڑھ دہائی کے عرصہ کے اندر یہ ساری فیکٹریاں ایشین ٹائیگرز بن گئیں۔

دوسری طرف ہم یہ عشرے بھارت کے ساتھ جنگیں کرتے ہوئے  اور ساتھ ہی اپنے فوجی یو ایس اور سعودی عرب کو ادھار دیتے ہوئے کھو چکے ہیں ۔ اس طرح ہم نے پاکستان کو ایک سیکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے جس کی وجہ سے مسلسل جمہوری حکومتوں کا ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا مطالبہ بھی دم توڑ گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *