سرخیاں‘ متن اور ٹوٹا

ظفر اقبال

عمران جھُرلو وزیراعظم‘ دھاندلی کی پیداوار ہیں: سعد رفیق
سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ''عمران جھُرلو وزیراعظم‘ دھاندلی کی پیداوار ہیں‘‘ اور یہ بات ہم اس لیے جانتے ہیں کہ نواز شریف بھی جھرلو وزیراعظم تھے اور دھاندلی کی پیداوار‘ کیونکہ انہیں بھی خلائی مخلوق نے جتوایا تھا‘ بلکہ ہر بار ایسا ہی ہوتا رہا ہے‘ اس لیے ہم سے زیادہ جھرلو کا ثقہ گواہ اور کون ہو سکتا ہے‘ بلکہ جھرلو کا لفظ ایجاد ہی ہمارے عہد میں ہوا تھا؛ البتہ اس ہار پہ جھرلو الٹا ہو گیا ہے‘ حالانکہ جھرلو ایک مستقل مزاج چیز ہے‘ تاہم اگر مجھے جیت جانے دیا جاتا تو کیا تھا؟ کیونکہ تھوڑے عرصے بعد انتقامی کارروائی کرتے ہوئے نیب نے ویسے ہی مجھے اندر کر دینا تھا اور اس طرح میری رکنیت بھی ختم ہو جاتی‘ کیونکہ ایک سے زیادہ انکوائریاں زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''عمران کی گنتی رکوانے کی بھاگ دوڑ‘ تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے‘‘ میں اسی لیے تھوکتا ہی نہیں کہ چاٹنا نہ پڑ جائے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
ماحول پہلے ہی بن چکا تھا‘ نتائج اسی طرح 
آئے‘ الیکشن کی کیا ضرورت تھی: راجہ ظفر الحق
نواز لیگ کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ ''ماحول پہلے ہی بن چکا تھا‘ نتائج اسی طرح آئے‘ الیکشن کی کیا ضرورت تھی‘‘ کیونکہ عمران خان نے کرپشن کے خلاف تقریریں کر کر کے ماحول پہلے ہی بنا رکھا تھا‘ بلکہ اس کے نتیجے میں نواز شریف سزا بھی ہو چکے تھے اور ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ عمران خان ہی کامیاب ہوں گے‘ تو نتیجہ بھی اس ماحول کے مطابق ہی آنا تھا‘اس لیے بہتر تھا کہ الیکشن کرانے کی بجائے ‘عمران خان کی کامیابی کا اعلان پہلے ہی کر دیا جاتااور ہمیں بھی صبر آ جاتا کہ ماحول کے آگے کسی کا کیا بس چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''الیکشن آرگنائزڈ طریقے سے ہوئے ہیں‘‘ جبکہ ہمارے وقتوں میں آرگنائزڈ الیکشن کی نوبت ہی نہیں آتی تھی اور بنے بنائے نتائج کا اعلان کر دیا جاتا تھا اور ہم مٹھائیاں بانٹنا شروع کر دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ''ہمارے پہلے سے موجود خدشات درست ثابت ہوئے‘‘ گویا ہماری پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔
جمہوریت کی خاطر ‘عمران خان کے خلاف
تحریک نہیں چلائیں گے: خورشید شاہ
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید علی شاہ نے کہا ہے کہ ''جمہوریت کی خاطر‘ عمران خان کے خلاف تحریک نہیں چلائیں گے‘‘ کیونکہ جمہوریت ملک میں ہمارے ہی دم قدم سے اب تک زندہ ہے اور اگرچہ زرداری صاحب اور ان کے رفقاء دیگر معززین نے اپنی کارگزاریوں اس کو بام عروج تک پہنچا دیا تھا‘ جن کی وجہ سے ان کے خلاف متعدد انکوائریاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''ایسے بدترین الیکشن کبھی نہیں دیکھے ‘‘ اگرچہ ہمارے لیے تو خصوصاً پنجاب میں ہونے والے گزشتہ الیکشن بھی ایسے ہی تھے‘ جیسے خدا کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ ''چیف جسٹس کو منی لانڈرنگ کیسز میں ریمارکس نہیں دینے چاہئیں‘‘ کیونکہ ہمارا تو ان ریمارکس کی وجہ سے ہی خون خشک ہو جاتا ہے‘ جبکہ ہم پہلے ہی خون کی کمی کے شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''کام سچی شہرت کے لیے کیے‘‘لیکن حاصل بدنامی ہوئی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
سیاست ان دیکھی پابندیوں کی زد میں ہے: اویس نورانی
جمعیت العلمائے پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور ایم ایم کے ترجمان صاحبزادہ شاہ محمد نورانی نے کہا ہے کہ ''سیاست ان دیکھی پابندیوں کی زد میں ہے‘‘ اور یہ شاید اس لیے ہے کہ ہماری بینائی خاصی کمزور ہو چکی ہے‘ اسی لیے یہ پابندیاں ان دیکھی لگ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''عمران خان نے یوٹرن کے ریکارڈ بنائے‘‘ اور چونکہ اس کے خلاف کرپشن وغیرہ کا کوئی احترام نہیں ہے‘ اس لیے اسی الزام کو پیش کر رہے ہیں ‘ورنہ ہم تو ایسے ریکارڈ بنانے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''کٹھ پتلی حکومت اخلاقی بنیادسے محروم رہے گی‘‘ جبکہ کٹھ پتلی کا لفظ بھی ہم نے بڑی محنت سے وضع کیا ہے اور اس پر گزارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امید ہے کہ یہ کافی عرصے تک کام دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''آئینی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہو جانا بہت بڑا المیہ ہے‘‘ جبکہ ہمارے عوام ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمن صدر مملکت...؟
ایک اطلاع کے مطابق ہمارے دوست مولانا فضل الرحمن نے صدر مملکت بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اوّل تو کوئی آدمی کسی ایسے عہدے کے حصول کی خواہش کا اظہار نہیں کرتا‘ لیکن مولانا چونکہ ہر شرط سے بے نیاز ہیں‘ اس لیے اگر انہوں نے اس خواہش کا اظہار کر ہی دیا ہے ‘تو پورا ضرور ہونا چاہئے‘ کیونکہ وہ جب سے الیکشن ہارے ہیں ‘انہیں جمعیت کی صدارت یا سربراہی میں بھی کوئی مزہ نہیں آ رہا‘ جبکہ بیروزگاری ان کے سر پر چڑھ بول رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چونکہ صدر کو دستخطوں کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیے وہ اس کے موزوں ترین آدمی ہیں‘ کیونکہ انہیں سالہا سال تک کشمیر کمیٹی کے صدر کے طور پر بھی کچھ نہ کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہے۔ اس لیے وہ ہر طرح سے اس عہدے کے مکمل طور پر مستحق ہیں‘ ہم چونکہ مولانا صاحب کے دیرینہ نیازمند ہیں‘ اس لیے ان کی پرزور سفارش کرتے ہیں۔
آج کا مقطع
کوئی آساں نہیں عزت کمانا
کہ اس میں بھی‘ ظفرؔ خواری بہت ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *