قومی اسمبلی کا اجلاس شروع، عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

اسلام آباد: حالیہ انتخابات کے بعد قومی اور سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلیوں کا پہلا اجلاس آج ہونے جارہا ہے، جہاں نو منتخب اراکین اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔

مجموعی طور پر ملک کی 15ویں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کریں گے اور وہ نو منتخب اراکین سے حلف لیں گے۔

انتخابات میں سب سے زیادہ نشتیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے اسد قیصر کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور دیگر جماعتوں کے گرینڈ اپوزیشن الائنس کا اسپیکر کا امیدوار پیپلز پارٹی سے ہوگا۔

قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیے تحریک اںصاف کے چیئرمین اور نامزد وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور قومی اسمبلی کے کارڈ کے لیے رجسٹریشن کروائی۔

عمران خان کے علاوہ ساتھ پی ٹی آئی کے دیگر رہنما شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، شفقت محمود اور دیگر بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے جبکہ ان کے ساتھ ساتھ لیگی رہنما راجا ظفر الحق اور دیگر بھی موجود ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے، ان کے علاوہ پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور دیگر اراکین بھی اسمبلی میں موجود ہیں۔

چیئرمین پی پی پی کی آمد کے موقع پر ایک دلچسپ لمحہ دیکھنے میں آیا، جب تحریک اںصاف کے چیئرمین عمران خان نے بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ تصاویر بنوائیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس اور ریڈ زون میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں خصوصی طور پر اضافی سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر مملکت ممنون حسین نے نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی درخواست پر قومی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو طلب کیا تھا۔

ساتھ ہی ملک کے 21 ویں وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب کے باعث انہوں نے اپنا غیر ملکی دورہ بھی منسوخ کردیا تھا۔

قومی اسمبلی کے علاوہ تین صوبائی اسمبلیوں سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بھی آج ہی طلب کیا گیا ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس 15 اگست کو ہوگا۔

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف سرفہرست

ملک میں حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے اور قومی اسمبلی میں جنرل نستوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو ملا کر 158 نشستوں کے ساتھ سر فہرست ہے۔

تاہم 172 ارکان کی مطلوبہ تعداد تک پہنچنے کے لیے تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے وہ پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ق)، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، بلوچستان عوامی پارٹی(بی اے پی) اور دیگر کی حمایت حاصل کرچکی ہے۔

قومی اسمبلی میں نشستوں کی بات کی جائے تو مخصوص نشستوں کے ساتھ مسلم لیگ (ن) 82 اراکین کے ساتھ دوسری جبکہ پیپلز پارٹی کی 42 نشستوں کے ساتھ تیسری پوزیشن ہے۔

اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل قومی اسمبلی میں ایک اقیتی نشست اور 2 خواتین کی نشستیں حاصل کرکے 15 نشتیں حاصل کرچکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *