میں نے پارلیمنٹ میں جو دیکھا

عمر نے میری طاقت کو محدود کر دیا ہے۔ لیکن پھر میں میں پیر کے دن اپنے گھر سے نکل کر قومی اسمبلی پہنچا تا کہ نئی اسمبلی کے افتتاحی پروگرام کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کر سکوں جیسے 1985 کے الیکشن میں کیا تھا۔ 8 سال تک مارشل لاء نافذ رہنے کے بعد جنرل ضیا نے غیر جماعتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا  تا کہ پارلیمنٹ کو بحال کیا جا سکے۔ جماعت اسلامی اور پیر پگارا گروپ کے علاوہ ساری پارٹیاں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کا حصہ بن گئیں اور اس سکیم سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہماری سیاست تاریخی کے مشاہدین کو پکا یقین تھا کہ  زیادہ تر ووٹرز بھی اس انتخابی عمل سے دوری اختیار کریں گے  اور ضیا کے حکومتی پلان میں اس کا ساتھ دینے سے گریز کریں گے۔ بہت سے شہروں کا میں نے ایک رپورٹر کی حیثیت سے دورہ کیا  تو معلوم ہوا کہ لوگوں میں انتخاباات کے لیے بہت جوش پایا جاتا ہے۔ اس سے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ پارلیمنٹ کے دوبارہ وجود میں آنے کے بعد  بہت سے پارلیمانی ممبران   اپنے آقاوں کےلیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

میں اس الیکشن کے بعد اسمبلی کے پہلے اجلاس میں گیا  کہ دیکھ سکوں کہ میرے تجزیات کی کیا صورتحال رہی۔ میں نے دیکھا کہ میرے تحفظات درست تھے ۔ تب سے میں نے روزانہ کی بنیاد پر نیشنل اسمبلی کی پروسیڈنگز پر کالم لکھنے شروع کیے۔ ہر لمحہ کوریج دینے والے میڈیا کے دور میں اب اس طرح کے کالم فضول ثابت ہو رہے ہیں ۔ ہر لمحہ کچھ نیا سننے کو ملتا ہے ۔ 2018 کے الیکشن میں جو عجیب و غریب نتائج آئے ہیں اس کے بعد تو اسمبلی کا ہر انتخاب اپنی ایک خاص دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی دلچسپ صورتحال کو دیکھنے کےلیے میں بھی گھر سے نکل پڑا  تا کہ پیر کی صبح پارلیمنٹ کے ابتدائی اجلاس کو دیکھ سکوں۔ لیکن افسوس یہ کہ گیلری میں لوگوں کی تعداد کی توجہ صرف لوگوں کی ظاہری صورت اور لباس پر تھی۔ اہم سوال یہ تھا کہ عمران خان آصف زرداری  اور شہباز شریف سے کیسے ملتے ہیں  کیونکہ وہ پچھلے پانچ سال سے ان دونوں کو لٹیرے اور ڈاکو جیسے القابات سے نوازتے آئے ہیں۔

عمران خان نے اس موقع پر اپنے آپ کو ایک بڑا فاتح ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ خود نیچے آئے اور آصف زردار سےمصافحہ کیا۔ بجھے دل کے ساتھ شہباز شریف کو بھی ویلکم کیا  لیکن بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ بہت گرم جوشی سے ملے ۔ جب ان تینوں شخصیات کو رجسٹر پر سائن کرنے کے لیے بلایا گیا تو بھی لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنے رہے۔ جئے بھٹو کے نعرے سب سے زیادہ دلچسپی کے حامل تھے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے بھی جارحانہ نعرے بازی دیکھنے کو ملی۔

تقریبا ہر پی ٹی آئی ممبر عمران خان سے اکیلے ملاقات کا خواہشمند نظر آیا  اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کرتا رہا  جو کہ ایسی سیٹ تھی جو لیڈر آف دی ہاوس کےلیے ریزرو تھی۔ جب تک وزیر اعظم کا انتخاب نہیں ہو جاتا تب تک یہ سیٹ خالی رہے گی۔ اسمبلی آفیشلز کو کئی بار مداخلت کر کے اس کرسی کو خالی رکھنا پڑا ۔ شاہ محمود قریشی خان صاحب کی بائیں بازو بیٹھ کر عوا م کی توجہ حاصل کرتے رہے۔ لیکن میری توجہ ظاہری حال احوال پر نہیں تھی۔

ایک پر تجسس رپورٹر کے لیے سب سے بڑا سوال قومی اسمبلی کے سپیکر کا انتخاب ہے۔ عمران خان کی جماعت کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے  لیکن یہ اکثریت بہت معمولی ہے۔ ن لیگ اور پی پی کا اتحاد چھوٹی جماعتوں سے مدد لے کر  پی ٹی آئی کو سپرپرائز دے سکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے اسد قیصر کو سپیکر کے لیے نامزد کیا ہے ۔ وہ پہلی بار اسمبلی میں آئے ہیں  اور انہیں صوبائی میٹریل قرار دیا جا رہا ہے۔ پی پی کے خورشید شاہ ایک سیزن ویٹرن ہیں۔ وہ 1990 سے ہر بار اسمبلی میں منتخب ہو کر آتے رہے ہیں۔ شاہ صاحب اک منجھے ہو ئے سیاستدان ہیں جو صبح سویرے بیدار ہوتے ہیں۔ ان کے مخالفین بھی ان کی نرم خوئی اور معاملات کو سلجھانے کی قابلیت کے معترف ہیں۔

اگر اپوزیشن بہترین مہم چلاتی ہے تو خورشید شاہ کو سپیکر منتخب کروا سکتی ہے ۔ لیکن لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس چیز میں دلچسپی نہیں رکتھی۔ آصف زرداری جو بہت سمارٹ سیاستدان ہیں پی ٹی آئی حکومت کو زیادہ سرپرائز دینے کے ارادے نہیں رکھتے ۔ ورنہ کچھ فون کالز سے ہی ان کے لیے معاملہ حل کروانے کے لیے کافی ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ بات سوچنا کہ زرداری خورشید شاہ کو پسندد نہیں کرتے درست نہیں ہو گی۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر زرداری عمران کو کوئی سرپرائز دے بھی دیں تو بدلے میں انہیں ن لیگ سے کوئی بڑا صلہ ملنے کی امید نہیں ہے۔

اصل مسئلہ شہباز شریف ہیں۔ آصف زرداری شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ بات یہااں پر ختم نہیں ہوتی۔ زرداری انہیں اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن پر بھی دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتے۔ ن لیگ اپنے نامزد امیدوار بدل کر بھی اتحاد کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

ایک دوسرے پہلو سے بھی سپیکر کا الیکشن سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ن لیگ کو لگتا ہے کہ 2018 کا الیکشن ان کا تھا جو ان سے چرا لیا گیا ہے۔ ابھی تک مائنس نواز والی گیم ختم نہیں ہوئی ہے۔ چالوں سے متاثرہ ن لیگی ممبران  کو لگتا ہے کہ کچھ خفیہ طاقتیں ن لیگ کے بیچ فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش میں ہیں  ااور اس طرح خفیہ بلیٹنگ کے ذریعے سپیکر کے انتخاابات میں حالات بدل سکتے ہیں۔

بہت سے لوگوں نے سرگوشیاں کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ پی ٹی آئی کے  آقاوں نے ڈیپ سٹیٹ کی مدد سے پی ٹی آئی کو یقین دلا رکھا ہے کہ 20 سے زیادہ ن لیگی ممبران  بھی  اپنی پارٹی کے امیدوار کی بجائے پی ٹی آئی کے امیدوار کو ٹکٹ دیں گے تا کہ نواز شریف کے بیانیہ کو جھٹکا دیا جا سکے۔

وقت آ گیا ہے کہ یہ لوگ اصل طاقتوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور حالات کو اپنانے کے لیے اپنے ہاتھ کھول دیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ کون سچا ثابت ہوتا ہے۔ لیکن سخت مقابلہ کی صورتحال کی وجہ سے قومی اسمبلی کے سپیکر کا انتخاب بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جسے ہر کوئی دیکھنا چاہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *