عظیم صحافی مظہر علی خان کی یاد میں

مظہر علی خان جو کہ پاکستان کے ایک مشہور، شاندار اور قابل احترام ایڈیٹر گزرے ہیں  کی سوویں  یوم ولادت کے موقع پر  پاکستانی صحافی کمیونٹی کا فرض بنتا ہے کہ وہ  آزادانہ اور منصفانہ صحافت کی اقدار کو یاد کریں اور انہیں اپنانے کا عہد کریں۔ مظہر علی  (1917-1993) اپنے کالج کے دنوں سے ہی شاندار مقرر، سپورٹس کے شوقین اور   قوم پرست اور نان کمیونل سٹوڈنٹ یونین کے لیڈر کے طور پر شہرت رکھتےتھے۔ برٹش انڈین آرمی میں کچھ عرصہ گزار کر  وہ سر سکندر حیات  جو پنجاب کے یونیسٹ پرائم منسٹر تھے، کی بیٹی سے شادی کے لیے ایک شرط پوری کرنے  غرض سے  وہ اپنے خاندان اور قریبی لوگوں کو محرک کرنے کی کوشش میں تھے جب دی پاکستان ٹائمز کے میاں افتخار الدین نے انہیں  اپنی ایڈیٹوریل ٹیم کا حصہ بنانے کی دعوت دی۔ یہ اخبار پاکستان کے قیام کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا ۔ تبھی سے مظہر نے صحافت کے شعبہ میں قدم رکھا جو ان کی زندگی کا سفر بن گیا۔ پاکستان ٹائمز جائن کرنے سے چار سال بعد ہی مظہر علی کو  فیض احمد فیض کی جگہ ایڈیٹر کے عہدہ پر فائز کر دیا گیا  جب فیض کو راولپنڈی سازش کا نشانہ بنایا گیا ۔ مظہر اس عہدہ پر اپریل 1959 تک موجود رہے  ۔ تب تک پاکستان ٹائمز کے ساتھی اخبارات  'امروز' اور 'روزنامہ لیل و نہار'  کو ایوب حکومت نے قبضہ میں لے لیا  جس کا مقصد ملک کے میڈیا کو تسلط میں لا کر اسے پابند بنانا تھا۔ مظہر کے اس ایڈیٹر کے عہدہ پر موجوددگی کے عرصہ میں پاکستان ٹائمز مالی استحکام اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گیا۔ یہ ایک ایسی آوا ز بن گیا جسے انتظامیہ کے لیے نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا۔ ایک صوبائی پولیس سربراہ  کو اس وقت نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے جب ان کی طرف سے ناجائز طریقے سے ملازمین سے اپنے گھر کے کام کرواتے ہوئے تصاویر پاکستان ٹائمز میں چھپ گئی تھیں۔ اگرچہ اس اخبار کی جنرل پالیسی اور ترجیحات کی فہرست فیض اور مظہر نے مل کر طے کی تھیں لیکن  اخبار اپنی ترقی کی منازل تک مظہر کی ایڈیٹر شپ کے دوران ہی پہنچ پایا۔

بہت سے طریقوں سے  وہ دور پاکستانی صحافت کا سب سے سنہری دور تھا۔ اس وقت ملک میں اعلی درجہ کے ایڈیٹرز موجود تھے  جن کی منصفی اور اعلی اقدار سے ملک کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ لوگوں کی خواہشات کو الفاظ دے کر  پوری صداقت اور ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیتے اور عوام سے بھر پور داد اور عزت کماتے تھے۔ قانون دانوں سے زیادہ صحافی عوام کے نمائندہ نظر آتے  تھے۔ وہ ریاست کی طرف اپنے فرائض کو پہچانتے تھے لیکن حب الوطنی کے نام سے اپنے حقوق گنوانے پر تیار نہ ہوتے تھے۔ ریاست نے جبری قوانین کے ذریعے آزادی اظہار رائے پر قدغنیں لگانے کی کوشش کی  لیکن کچھ ایڈیٹرز ایسے تھے جو ہر طرح کے جبر کے سامنے ڈٹ جاتے تھے۔ وہ اہم معاملات پر فائدہ مند مباحثے کا راستہ ہموار کرتے  جن میں ون یونٹ سسٹم اور ایسٹ بنگال  کو اقتدار میں حصہ جیسے اہم معاملات شامل تھے۔

اگرچہ مظہر یا فیض میں سے کسی نے کبھی کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی  تا کہ وہ اپنی ایڈیٹوریل آزادیاں نہ کھو دیں اور دوسری طرف لیفٹسٹ طبقہ اکثر اقلیت میں ہی رہا  لیکن اسٹیبلشمنٹ پاکستان ٹائمز کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی رہی۔ مظہر علی خان کی زیر کمان پاکستان ٹائمز نے سوشلسٹ اور کیپٹلسٹ دونوں سائیڈز سے اچھے تعلقات قائم رکھ کر اپنی آزادانہ صحافت پر کبھی آنچ نہ آنے دی ۔ اپنے ملک میں سیکولر جمہوریت کے لیے آواز اٹھانے کا عمل جاری رکھا اور عام آدمی اور ورکرز کے حقوق کے لیے بر سر پیکار رہے۔ انہوں نے اخبار کو افتخار الدین کی ہی پارٹی سے بھی دور رکھ کر اپنے اخبار کو کسی بھی سیاسی جماعت کا آلہ کار بننے سے محفوظ رکھا جب کہ افتخار الدین نے خود بھی کبھی ایڈیٹر ز کے ڈومین میں مداخلت کی ہمت نہیں کی۔

مظہر علی خان نے یہ ہدف سچائی اور مقصد پسندی سے جڑے رہ کر حاصل کیا ، ڈسٹرکٹ کے نمائندوں کو سپیس دیا، ایک بہترین ریفرنس سیکشن کا قیام عمل میں لائے، سٹاف کو ڈکشنری اور ریفرنس بکس سے استفادہ کرنا سکھایا،   اور خاص طور پر کیسنگ رپورٹ کی مہارت سکھائی۔  وہ ایک با قاعدہ انسان تھے، بے کار لوگوں سے دوری اختیار کرتے تھے  اور نیوز پیپر دفاتر میں چھٹیوں کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے اپنے اخبار کو جرنلسٹ ٹریڈ یونین کا حصہ بنایا جس کی وجہ سے سٹاف ممبران کو یونین میٹنگز میں شرکت کے لیے سفر کرنا آسان ہو گیا۔ مظہر کا ایک اہم اصول یہ تھا کہ انہوں نے کبھی اخبار کو اپنے یا فیملی ممبران کے فائدہ اور شہرت کے لیے استعمال نہیں کیا۔ ویو پوائنٹ کے دنوں میں طاہرہ مظہر خان نے بحثیت صدر ڈیموکریٹک یونین ایسوسی ایشن ایک بیان شائع ہونے کے لیے بھیجا ۔ مظہر صاحب نے ایڈیٹر کی بیوی ہونے کی وجہ سے یہ بیان شائع کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس کی بجائے لیٹر ٹو ایڈیٹر والی سیکشن میں ایک بہت مختصر بیان شائع کیا گیا۔

مظہر علی خان کے کیریر سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح پاکستان کے ادبی اور صحافتی ٹیلنٹ کو  شاہی  حکمرانوں نے جبر کے ذریعے دبائے رکھا۔ وہ ایسے ایڈیٹرز گروپ سے تعلق رکھتے تھے جو  اپنے اخبار کے لیے زیادہ سے زیادہ لکھنا چاہتے تھے۔ وہ ایک بہترین اور منجھے ہوئے رائٹر بن گئے۔ 1981 میں انہوں نے کوٹ لکھپت جیل سے 'ویوپوائنٹ' کے لیے اپنا ایڈیٹوریل لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

ان کے کیریر کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے 12 سال تک وہ پاکستان ٹائمز کے لیے لکھتے رہے۔ اس کے بعد 16 سال تک انہیں اپنی تحریری صلاحیتوں کو آزمانے سے باز رکھا گیا  اور اس دوران وہ صرف چند کالم ہی 'فورم' نامی ایک ہفتہ وار شمارہ کے لیے  لکھ پائے  جو ان کے بنگالی دوست  ڈاکٹر کمال حسن اور رحمان سبحان  نے جاری کی تھا۔ جب بھٹو نے ڈان کے ایڈیٹر الطاف گوہر کو جیل میں ڈال دیا تو اس مختصر عرصہ میں مظہر علی خان ڈان کے ایڈیٹر بھی رہے۔ وہ اپنی تحاریر 1975 میں جاری رکھنے کے قابل ہوئے جب انہوں نے اپنا شمارہ 'ویو پوائنٹ  ' کے نام سے جاری کیا۔

17 سال کے لیے یہ شمارہ جمہوری نظام کے قیام کے لیے جد و جہد میں مصروف رہا۔ ماہر لکھاریوں نے اس  شماراہ کے لیے سیاسی، معاشی، سماجی، اور ثقافتی موضوعات پر تحاریر لکھ کر شائع کروائیں  اور بہت کم صحافی قابل قدر کالم لکھنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ ہفتہ وار رسالہ جنرل ضیا کے لیے کانٹا بن گیا  تو اس نے اس پر سینسر شپ  لگانے کا فیصلہ کیا اور باقی تمام صحافتی ذرائع سے زیادہ اس شمارہ کو نشانہ بنایا گیا۔

خوش قسمتی سے ان کی دو تحاریر بعنوان 'پاکستان: پہلے بارہ سال' اور 'پاکستان: بنجر سال' جو کہ او یو پی میں شائع ہوئی تھیں ہمارے پاس موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کیسے مظہر نے پاکستان کے سیاسی لٹریچر میں محرک کردار ادا کیا۔ ان تحاریر کو پڑھ کر ایک قاری اچھی نثری تحریر کا مزہ لے سکتے ہیں اور یہ تحاریر آج بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ  ریاست نے آج 50 سال بعد بھی ان مسائل کے حل سے انکار کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ 1992 میں 'ویوپوائنٹ' بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا کیونکہ مظہر کے پاس اسے جاری رکھنے کے وسائل ختم ہو چکے تھے۔ ایک سال بعد وہ خود بھی تاریخ کا حصہ بن گئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *