دوبئی سے عمان

میں نے اپنی جیب سے پرس نکالا۔ اور ٹوکری میں ڈال دیا۔ موبائل فون اور چند سکے بھی ٹوکری میں گئے۔ پھر بازو پر بندھی گھڑی کی باری آئ۔ امیگریشن افسر نے گردن آگے کرکے میری پینٹ کی جانب دیکھا اور کہا۔ پینٹ پر بندھی بیلٹ بھی اتارو۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ سیکیورٹی چیک تھا۔ اور سب کے ساتھ یہی سین تھا۔ بیلٹ اتار کر ٹوکری میں ڈال دی۔ اور دونوں ھاتھوں سے پینٹ کو پکڑ لیا۔ کیونکہ پینٹ ڈھیلی تھی۔ مگر جس مضبوطی سے ھم نے پینٹ تھام رکھی تھی۔ یوں تھا جیسے کریکٹر ڈھیلا ھے۔ ھمارا نہیں اس بدو امیگریشن افسر کا۔ جو اپنے کام کی جانب کم اور ھماری جانب زیادہ متوجہ تھا۔ اب اس نے اپنی گردن کو مزید لمبا کیا اور ھمارے بوٹوں کی جانب دیکھا۔ اور پوچھا ۔ چمڑے کے ھیں ھم نے کچھ فخر سے مسکرا کر کہا ۔ جی خالص چمڑے کے۔ اس نے بھنا کر کہا۔ انہیں بھی اتارو اور ٹوکری میں ڈالو۔ ھم نے ایک ھاتھ سے پینٹ پکڑے رکھی اور دوسرے ھاتھ سے بوٹ اتار کر ٹوکری میں ڈال دیے۔ ادھر ٹوکری سکین کے لیے کیمرا باکس میں داخل ھوئ۔ اور ادھر ھمارے جسم کی چمڑی کا سکین شروع ھوا۔ بدو امیگریشن افسر نے کہا۔ بازو دونوں جانب پھیلا کر منہ دوسری طرف کر لو۔ میرا جواب تھا۔ نہیں کر سکتا۔ بدو نے درشتگی سے کہا۔ جو کہا جا رھا ھے۔ کرو۔ یعنی ھماری عزت سر عام اس دوبئی ایئر پورٹ پر عریاں ھونے جا رھی تھی۔ ھم نے پینٹ چھوڑ کر بازو پھیلائے اور پینٹ نیچے فرش پر جا گری۔ اور سرخ رنگ کا انڈر ویئر گلاب کے پھول کی مانند مہکنے لگا۔ ارد گرد کھڑے مختلف قوموں کے لوگ مسکرانے لگے۔ ایک آدھ ھلکی سی سسکاری کی آواز بھی آئ۔ بدو نے نیم باز آنکھوں سے ھمیں دیکھا اور کہا۔ پینٹ اونچی کرو۔ ھم نے رسک لیا اور نیچے جھک کر پینٹ اونچی کی۔ بدو بولا۔ بازو پھیلاو ۔ پینٹ پھر نیچے گر گئی ۔ اب بدو امیگریشن افسر سر کھجانے لگا۔ جیسے حل سوچ رھا ھو۔ ادھر ھماری نیم برھنہ سرخ انڈرویئر سمیت نمائش جاری تھی۔ قطار میں لگے مسافر انہماک سے یہ تماشہ دیکھ رھے تھے۔ بدو نے حکم جاری کیا۔ مسافر کی بیلٹ لائ جائے ۔ ابھی بیلٹ کا سکین جاری تھا۔ دوسرے بدو امیگریشن افسر نے باکس میں ھاتھ ڈال کر بیلٹ کھینچی ۔ اور بیلٹ کا بکل اس کھینچا تانی میں مشین کے اندر پھنس گیا۔ مشین رک گئ۔ بدو نے دوسرے بدو کی جانب ایسے دیکھا جیسے کہہ رھا ھو اب یہ کیا لفڑا ھے۔ ادھر ھماری مضحکہ خیز صورت حال یہ تھی۔ ھم بازو پھیلائے دوبئی ایئر پورٹ پر پر کھڑے تھے۔ ھماری پینٹ نیچے فرش پر پڑی تھی۔ ھمارا سرخ انڈر ویئر جاوداں بہار تھا۔ مسافر مسکرا رھے تھے ۔ ایک آدھ سسکاریوں کی آواز آ رھی تھی۔ اور ھماری بیلٹ سکین مشین کی بیلٹ میں پھنس چکی تھی۔ اور اس قطار میں امیگریشن کا عمل رک چکا تھا۔ گویا ایک طرح کی ایمرجنسی نافذ ھو گئ تھی۔ بدو امیگریشن افسر ھمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رھا تھا ۔ ادھر ھمارا خیال یہ تھا۔ مظلوم کی آہ لگی ھے۔ اور ظاہر ھے یہ مظلوم ھم تھے۔ جس کی نیم عریاں نمائش دوبئی ایئر پورٹ پر جاری تھی۔ پھنسی ھوئ بیلٹ کو نکالنے کے لیے کمک منگوائ گئ۔ جو ایک پیچ کس ، ایک پلاس اور اور ایک سوے پر مشتمل تھی۔ جب ایک بدو امیگریشن افسر ناکام ھوا تو دوسرا آگے آیا۔ کچھ دیر بعد یہ سین تھا۔ ارد گرد کی قطاروں میں بھی امیگریشن بند ھو چکی تھی۔ تمام بدو سر جوڑے بیلٹ نکالنے کی ترکیب کر رھے تھے۔ اور میں اپنی پینٹ کو تھامے اس بھیڑ میں یوں منڈلا رھا تھا جیسے کم کے میلے میں گم ھو چکا ھوں۔ جبکہ ھماری بیگم بے غم ھو کر ایک جانب بیٹھی تھی اور فیس بک پر ھماری ھیت کزائ کی نیوز بریک کر رھی تھی۔
معلوم نہیں کیسے۔ لیکن یکا یک ھماری بیلٹ آزاد ھو گئ۔ اس کے ساتھ ھماری رھائ بھی ھو گئ۔ ھم نے گھڑی باندھی،بیلٹ باندھی، بوٹ پہنے، جیب میں پرس ڈالا، موبائل فون ڈالا، کنگھی کی، پسینہ صاف کیا، سامان لیا اور باھر پارکنگ کی جانب چل پڑے ۔ ظاہر ھے ھماری بیگم ھمارے ساتھ تھی۔
ھم دوبئ سے عمان جا رھے تھے۔ اور ھمارے میزبان ھمارے عزیز از جان شاگرد احمد سبحانی نے دوبئ ایئر پورٹ پر ھمارے لیے ایک پرائیویٹ ٹیکسی کا بندوبست کر رکھا تھا۔ پلان یہ تھا۔ یہ ٹیکسی ھمیں دوبئی ائیرپورٹ سے اٹھاتی اور ھمیں دوبئی اور عمان کے سرحدی مقام ایلین پر چھوڑ دیتی۔ جہاں سے ھم اپنی امیگریشن کرواتے اور سرحد پار کرکے عمان میں داخل ھو جاتے۔ جہاں ھمارا شاگرد ھمیں اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیتا۔ یعنی ھم محفوظ ھاتھوں میں پہنچ جاتے۔ لیکن دو مسئلے تھے۔ ایک تو دوبئ ایئر پورٹ پر ھمارے سفر کا آغاز اچھا نہیں ھوا تھا۔ اور دوسرے اس وقت رات کا ایک بج رھا تھا۔ اور تیسرا یہ کہ ھمارے پاس فون نہیں تھا جو دوبئی میں کام کرتا۔ سم ڈلوانے کا موقعہ ھی نہیں ملا۔ یا اسے ھماری حماقت کہہ لیں ۔
پارکنگ پر ڈرائیور موجود نہیں تھا۔ جبکہ ھمیں یہ اطلاع تھی۔ وہ ھمارے نام کی تختی بلند کیے پارکنگ میں ھمارا انتظار کر رھا ھو گا۔ گویا بیلٹ کی مانند اب یہ ڈرائیور بھی کہیں پھنس چکا تھا۔ کچھ دیر انتظار کیا۔ قریب ھی کھڑا ایک اور ڈرائیور کسی سے فون پر بات کر رھا تھا۔ ھم نے اپنے چہرے پر دنیا بھر کی لجاجت اکھٹی کی۔ لہجے کو گلوگیر کیا۔ منہ جو پہلے ھی فٹے منہ ھو چکا تھا۔ اس پر مزید مظلومیت کا تڑکہ لگایا۔ اور باقاعدہ بھرائ ھوئ آواز میں کہا۔ اگر وہ ھمیں ایک فون کرنے دے تو اس کے بچے تا حیات جئیں ۔ اس نے خشکی سے جواب دیا۔ ابھی اس کی شادی نہیں ھوئ ۔ ھم نے اس کی جلد شادی کی دعا کی۔ اسے بھی ترس آ گیا۔ ھم نے اسے اپنے ڈرائیور کا نمبر دیا۔ اس نے فون ملایا اور ھمارے ڈرائیور کو بتایا۔ تمہارے پسنجر ادھر رل رھے ھیں۔ اس کمبخت نے بتایا۔ وہ باھر کسی فری کی عارضی پارکنگ میں کھڑا ھے۔ ھم وھیں آ جائیں ۔ اگر وہ اندر آیا تو اسے پارکنگ لینا پڑ جائے گی۔ یعنی میری سادگی دیکھ میں کیا چاھتا ھوں۔ ھمیں غصہ تو آیا لیکن اس پر پیار بھی آیا۔ بندہ بچت اور سادگی پر یقین رکھتا ھے۔ ھمارا خیال تھا۔ ھم بے شک خوار ھو جائیں یہ ضرور ترقی کرے گا۔ خیر چلتے چلتے اس کی بتائی ھوئ جگہ پر پہنچے۔ اور نڈھال ھو کر گاڑی میں گر گئے۔ کچھ دیر بعد اوسان بحال ھوے تو ھم نے تقریبا ڈانٹتے ھوے اس سے پوچھا ۔ کیا آپ کو معلوم ھے آپ کی اس بچت اسکیم نے ھمارا کتنا وقت اور کتنی توانائی ضائع کی ھے۔ بغیر کسی معذرت کے بولا۔ آپ فکر نہ کریں ۔ آپ کو راستے میں ایک اچھا سا کھانا کھلاوں گا۔ یعنی اسے معلوم تھا۔ کھانا ھم پاکستانیوں کی نفسیاتی و جذباتی مجبوری ھے۔ اس نے سفید رنگ کا کلف ذدہ شلوار قمیض پہن رکھا تھا۔ فیصل آباد کے کسی گاوں سے تھا۔ اور دو گھنٹے کے سفر میں اس نے ھمیں یہ یقین دلا دیا تھا ۔ کہ وہ ایک رئیس آدمی ھے۔ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ھے۔ اور یہاں دوبئ میں اپنے شوق اور شغل سے گزشتہ دس سال سے ٹیکسی چلا رھا ھے۔ اپنی امارت کے قصے سناتے ھوے وہ ایک بار اتنا محو ھوا۔ کہ بارڈر کا راستہ بھول کر کسی اور جانب نکل گیا۔ ایک گھنٹے بعد اسے اندازہ ھوا۔ ھم اومان کی بجائے ابو ظہبی کی جانب جا رھے ھیں ۔ واپس تو وہ ھوا لیکن آخر تک اس بات پر قلق ظاھر کرتا رھا۔ کہ اس کا ڈیزل فالتو میں ضائع ھو گیا ھے۔ اور اسی سانس میں کہتا ۔ لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
عمان اور دوبئ کی سرحد پر ھمیں اتار کر وہ نکل گیا۔ اور یہاں سے ھمیں پیدل بارڈر کراس کرنا تھا۔ رات گہری ھو چکی تھی۔ ایک چھوٹا سوٹ کیس ھم گھسیٹ رھے تھے۔ جبکہ ایک سوٹ کیس ھماری بیگم کے کنٹرول میں تھا۔ سڑک ناھموار تھی۔ ڈھلان تھی۔ ھوا تیز تھی نہ آھستہ تھی۔ صحرا کی راتیں ٹھنڈی ھوتی ھیں۔ چناچہ فضاء میں خنکی تھی۔ ھر طرف گہری خاموشی طاری تھی۔ دور دور تک کوئ عمارت نظر نہیں آ رھی تھی۔ نہ کوئی بندہ نہ کوئ بندہ نواز۔ چرند پرند بھی سو چکے تھے۔ اور اس بیابان اور اجاڑ میں ھم دو میاں بیوی اپنے سوٹ کیسوں کو گھسیٹتے ھوے دوبئ کی سرحد سے عمان کے بارڈر کی جانب پیدل چلے جا رھے تھے۔ ھمارے فون کام نہیں کر رھے تھے۔ اور ھمیں معلوم نہیں تھا۔ ھماری اگلی منزل کہاں ھے اور کتنی دور ھے۔ اس دوران کسی پرندے کی ایک بلند کریہہ آواز ھوا کو چیرتی ھوئ آئی ۔ ھمارے رھے سہے اوسان بھی خطا ھو گئے۔ یعنی ایڈونچر ایک مس ایڈونچر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔
اس نو مینز لینڈ میں دو تین کلو میٹر پیدل چلنے کے بعد آخر ایک گول گنبد نما عمارت نظر آئ۔ ھم نے صحرا میں اسے غنیمت جانا۔ جیسے صحرا کے سراب سے نکل کر کسی نخلستان میں آ گئے ھوں۔ عمارت بہت خوبصورت تھی۔ھم اندر گئے۔ تو استقبالیہ پر ایک عمانی بدو بیٹھا نظر ایا۔ جو اپنے موبائل فون کے ساتھ کھیل رھا تھا۔ موبائل فون کو دیکھ کر ھماری آنکھوں میں ایسی چمک پیدا ھوئ جیسے رات کے کسی پہر کسی جنگل میں شکار دیکھ کر چیتے کی آنکھیں ٹارچ کی مانند جل اٹھتی ھیں۔ اس وقت تک ھماری مت بلکل ماری جا چکی تھی۔ ھم یہ بھی بھول گئے ھم نے امیگریشن کروانی ھے۔ پاسپورٹوں پر ٹھپے لگوانا ھیں۔ ھم نے اس امیگریشن افسر سے اشاروں میں التجا کی۔ ھم اس کے فون سے اپنے شاگرد کو فون کر سکتے ھیں۔ امیگریشن افسر کچھ دیر ھمیں گھورتا رھا۔ جیسے اسے ھماری یہ بے تکلفی پسند نہ آئ ھو۔ پھر وہ اپنے موبائل فون کو گھورنے لگا۔ جیسے اس کی راے جانچ رھا ھو۔ رات کے اس پہر اسے کسی اجنبی کے ھاتھ جانا برا تو نہیں لگے گا۔ پھر اس نے عربی میں ھم سے نمبر پوچھا۔ ھمیں بلکل سمجھ نہیں آئ۔ ھم نے انگریزی میں اس کا مدعا پوچھا۔ اب کی بار اسے سمجھ نہ آئ۔ آخر اشارے کیے گئے۔ فون مل گیا۔ ھمارے شاگرد نے کہا۔ آپ مزید ایک کلومیٹر چل کر عمان کی جانب آ جائیں ۔ ھم نے چلنا شروع کیا۔ آدھے کلو میٹر بعد ایک اور عمارت سے گزر ھوا۔ انہوں نے ھمارے پاسپورٹ چیک کیے۔ اور پوچھا عمان کا ویزا کہاں ھے۔ ھم نے پوچھا وہ کہاں سے لینا تھا۔ کہنے لگے واپس اسی گول عمارت جائیں ۔ ھم ھونقوں کی طرح انہیں دیکھ رھے تھے۔ اور وہ بدتمیز کھی کھی کر رھے تھے۔ جیسے ھماری سچوئیش کو انجواے کر رھے ھوں۔ ھم واپس چلتے اسی گنبد نما عمارت پہنچے۔ وھی بدو امیگریشن افسر وھیں بیٹھا اپنے موبائل فون سے کھیل رھا تھا۔ ھمیں دیکھتے ھی اس نے اپنا موبائل فون جیب میں ڈال لیا۔ ھم نے جا کر کہا۔ ھم نے عمان کا ویزا لگوانا ھے۔ اس نے فارم دیے۔ ھم نے فارم بھر دیے۔ اس نے ویزا فیس مانگی۔ ھم نے ویزا فیس بھر دی۔ اس نے پاسپورٹ لیے اور ٹھپے لگا دیے۔ ھم نے ٹھپے لگے پاسپورٹ پکڑ لیے۔ اور چلنے سے پہلے پوچھا۔ اس نے پہلی بار ھمیں ویزا لگوانے کا کیوں نہیں کہا۔ اس نے شستہ انگریزی میں جواب دیا۔ تم نے ویزا کب مانگا۔ تم تو فون مانگ رھے تھے۔ ھمیں پہلی بار اندازہ ھوا۔ صحرا میں رات کے اس پہر کی مکمل خجل خرابی نے اگر ھمارے اندر کا بدو باھر نہیں نکالا تو رانگڑ ضرور نکال دیا ھے۔ اور ھم اچھے خاصے ایک مخولیہ کردار بن چکے ھیں۔ مزید ایک کلومیٹر پیدل چل کر ھم عمان میں داخل ھوے۔ جہاں ھمارا عزیز از جان شاگرد احمد سبحانی اپنی خوبصورت ٹھنڈی جیپ میں کھڑا ھمارا انتظار کر رھا تھا۔ دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ھم احمد سبحانی کے ٹائون میں داخل ھوے۔ سپیدہ سحر پھیل چکا تھا۔ فجر کی اذان کی آواز آ رھی تھی۔ ایک خوبصورت خوشنما جدید عمارت کے سامنے سے گزرتے ھوے سبحانی نے بتایا ۔ سر یہ میرا کالج ھے۔ اور میں یہاں لیکچرار ھوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *