عمران خان: ابھی عشق کے میدان اور بھی ہیں !

پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم جناب عمران احمد خان نیازی نے حلف اٹھا لیا۔ وہ اب پاکستانی قوم کے وزیراعظم ہیں۔ وہ سیاسی میدان میں بائیس برس تک بولنگ کرتے رہے ہیں ۔آخر آج ان کی باری بھی آہی گئی۔ یوں بیٹنگ کرنے وہ میدان میں موجود ہیں ۔ بولنگ کے دوران انھوں نے جو کچھ کیا ، وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ ہر ٹیم بولنگ کے دوران میں غلطیاں کرتی ہے لیکن جب وہ بیٹنگ کرنے میدان میں اترتی ہے تو اس پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا مداوا اچھی بیٹنگ سے کرے۔اور اب عمران الیون سے یہی توقع ہے ۔
جناب عمران خان سے ماضی کے وزرائے اعظم کے مقابلے میں کہیں زیادہ توقعات ہیں ۔ وہ ہر گز ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو یا میاں نواز شریف نہیں ہیں ۔متذکرہ تمام لوگ سیاسی میدان میں اپنی خاندانی سیاسی وراثت یا خاندانی دولت کی وجہ سے آئے لیکن عمران خاں کا یہ معاملہ نہیں ۔ وہ کھلاڑی بھی اپنی صلاحیت کی وجہ سے بنے اور سیاست میں آکر بھی طویل جدوجہد کے ذریعے سے یہ ثابت کیا کہ عوام کا اعتماد بھی رکھتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں یہ نرا اعتماد نہیں بلکہ لوگ ان سے ایک طرح کی عقیدت رکھتے ہیں ۔ان کو مسیحا سمجھتے ہیں ۔یہ پہلو انھیں نواز شریف سے ممیز اور بھٹو کے قریب کر دیتا ہے ۔ ان کی سیاسی جدوجہد میں اگرچہ یہ تاثر ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا گیا کہ وہ پاکستان کی اصل مقتدرروایتی قوتوں کے منظور نظر ہیں ۔اور آج جب وہ بر سر اقتدار ہیں تو یہ سوال پوری قوت سے اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا انھیں یہ سیاسی مینڈیٹ اس لیے حاصل ہوا کہ ان مقتدر قوتوں نے ان کو پسندیدہ قرار دے دیا تھا؟ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے تو مورخ اس کا جواب لکھ چکا ہے ۔
اس حوالے سے البتہ وہ پہلے وزیراعظم نہیں ہیں جن کے متعلق یہ سوال اٹھا ہو۔ پاکستان کے ہر وزیراعظم کے بارے میں یہ تاثر قائم ہے ۔ اور لمحہ موجود میںآج بھٹو اور شریف خاندان اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہے تو کم از کم یہ ضرور ثابت ہو چکا ہے کہ جنھوں نے ان سے فائدہ اٹھانا تھا ، انھوں نے ان سے کامیابی سے فائدہ اٹھایا ۔ سیاست و اقتدارکی اس جنگ میں نہ وہ کسی قابل تعریف طریقے سے داخل ہوئے تھے اور نہ وہ قابل اطمینان طریقے سے نکالے گئے ہیں ۔ وہ سمجھتے رہے کہ انھوں نے سیڑھی کو کامیابی سے استعمال کیا ہے لیکن تاریخ نے آج ثابت کیا کہ نہیں، اصل میں انھیں کامیابی سے استعمال کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سانپ اور سیڑھی کے اس کھیل میں نقصان صرف اور صرف عوام ہی کا ہوا ہے ۔جمہوریت کا سفر دائرے میں جاری رہا۔ ساری قوتیں اکھاڑ پچھاڑ پرصرف ہوئیں ۔ سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں کوئی بڑا تعمیری ہدف حاصل نہ ہو سکا۔ توانائی کا بحران ضرور ایک حد تک حل ہوا۔ کچھ یہی حال دہشت گردی کا ہے ۔ لیکن کیا یہ حل دیرپا ہیں ؟یہ سوال تشنہ جواب ہے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ عمران خان بھی اسی کھیل کے ذریعے سے یہاں تک پہنچے ہیں لیکن اس میں ان کی کوششوں اور صلاحیتوں کا حصہ پہلے دو خاندانوں سے زیادہ ہے ۔ اس لیے اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تاریخ دہرانے نہیں دیں گے ۔دائرے کے سفر سے باہر نکلیں گے۔ اگر انھوں نے ایسا کر دیا تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ اصل میں پہلے سیاستدانوں سے بڑے سیاست دان ہیں ۔ وہ روایتی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے ان کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ان کے سو دنوں والے وعدے اسی طرح بقول چیف جسٹس کے سیاسی باتیں تھیں جس طرح انتخابی نتائج کی تحقیق کرانے کی پیشکش محض زبانی جمع خرچ ہے۔ ان کا قوم سے پہلا خطاب ظاہر کرتا ہے کہ اگر وہ ان و عدوں کو سو دن تو کیا تین سو دنوں میں بھی پورا کر لیتے ہیں اور پہلے خطاب میں کیے گئے عزائم کا بیس فیصد بھی پورا کر لیتے ہیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔
پہلے مرحلے میں تو وہ جس مقام پر پہنچنا چاہتے تھے، وہ حاصل ہو چکا۔ اور حلف اٹھانے سے لے کر کابینہ منتخب کر نے تک کے اقدامات یہی بتا رہے ہیں وہ محتاط طریقے سے اپنی اننگز کا آغاز کریں گے۔ اپنے بہی خواہوں کو وزارتیں بھی دی ہیں اور اعلیٰ عہدے بھی۔ اس میں یہ احتیاط ملحوظ رکھی ہے کہ کوئی عہدہ کسی ایسے لیڈر کو نہ دیا جائے جو کل ان کے لیے چیلنج کا باعث ہو سکے ۔ یعنی انھوں نے اپنی اندر کسی ’’ فاروق لغاری، مصطفی کھریا چودھری نثار ‘‘کی گنجایش نہیں رکھی۔ پنجاب کے غیر معروف وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کا انتخاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سردار عثمان کا انتخاب اصل میں جہانگیرترین کا انتخاب ہے ۔ ورنہ محض چند ہی ماہ کے پارٹی تعلق کے بعد سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ پانا ، وہ بھی داغدار ماضی کے ساتھ، کوئی معمولی بات نہیں ۔چنانچہ سردار صاحب نے اپنے پہلے انٹرویو ہی میں صاف صاف کہا ہے کہ وہ اپنے قائد کے ویژن پر چلیں گے ۔ مطلب صاف تھا کہ وہ کون ہوتے ہیں اپنا ویژن رکھنے والے ! عارف علوی کا بطور صدر فیصلہ بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ کافی ’’ویژنری ‘‘ لیڈر ہیں لیکن خان صاحب نے انھیں تحریک انصاف کا’’ ممنون حسین ‘‘ بنا کر توپ سے مکھی مارنے جیسا کارنامہ انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ زبیدہ جلال کی وزارت بتا رہی ہے کہ و ہ اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملانے کی پالیسی بھی جاری رکھیں گے۔اپنے پہلے قوم سے خطاب سے یقیناًانھوں نے بہت سی عوامی داد سمیٹی ہے ۔ان کی باڈی لینگویج بہت مثبت تھی۔ لگتا تھا کہ دل سے بول رہے ہیں ۔ لیکن ذرا گہری نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ بہت ساری خوش گمانیاں اورمعصومانہ خواہشات (Wishfull Thinking)کا مجموعہ تھی ۔ انھیں یہ معلوم کرنا ہو گا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا دائرہ کار کیا ہے ۔ مثلاًتعلیمی اصلاحات اب صوبائی معاملہ ہے ۔ دہشت گردی کا مسئلہ فرقہ واریت سے جڑا ہوا ہے اور فرقہ پرستی مدرسوں سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس کا حل بہت احتیاط چاہتا ہے ۔اس مسئلے کے حل کی شاہ کلید یہ ہے کہ تمام طرح کے تعلیمی نظام یکساں ہوں۔ انگریزی میڈیم ،اردو میڈیم، مذہبی یا سیکولرخیراتی اداروں اور سرکاری سکولوں کے نصاب اور بنیادی سہولتوں میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ کسی ایک فرقے کو یا سب کو یکساں طور پر پروان چڑھانا مزید مسائل کو جنم دے گا۔ اس حوالے سے دنیا میں جو کامیاب تجربے ہوئے ہیں ان کو سامنے رکھنا ہو گا۔ ملائیشیا اس کی بہترین مثال ہے ۔پھر اسلام آباد کے ریڈ زون میں جہاں تمام سفارت خانوں کے دفاتر ہیں ، وہاں وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنا کر پبلک پلیس میں تبدیل کرنا ایک نیک خوہش تو ہوسکتی ہے لیکن کوئی عملی تجویز نہیں ۔ یاد رہے نواز شریف بھی اس کو خواہش کے باوجود عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ مزید یہ کہ اس طرح بچت بھی نہیں ہو گی ۔البتہ ایوان صدر سے لے کر بیوروکریسی تک کو سادگی کی تلقین اور اس کے لیے عملی تجاویز کا عزم بہت قابل تعریف ہے ۔ گورنر ہاؤسز کو البتہ فوری طور پر تعلیمی اداروں یا اسپتالوں میں تبدیل کرنے کا اعلان بہت خوش آیند ہے ۔
ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ عمران خان صاحب کو2014سے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لیے جو فری ہینڈ دیا گیا تھا ، اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ صرف ایک فرق ہی کو لیں ، پہلے اپوزیشن کو میڈیا میں سرے سے ہی کوئی جگہ نہیں ملتی تھی لیکن عمران خان پہلے لیڈر تھے جن کو حکومت کے مقابلے میں زیادہ کوریج ملی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کو حکومت کرنے کے لیے بھی اس طرح کا فری ہینڈ دیا جائے گا ؟ یہ بہت بڑا سوال ہے اور اس کا جواب وقت کے ساتھ ساتھ ہی ملے گا۔
ایک اہم بات اپنے خطاب میں انھوں نے سابق حکمرانون کی کرپشن کے حوالے سے کی ہے ۔ یہ ان کا بہت بڑاٹیسٹ کیس ہو گا۔انھیں عملی طور پر دکھانا ہو گا کہ پانامہ سکینڈل میں صرف ایک خاندان ہی کانام نہیں تھا ، سینکڑوں دوسرے بھی تھے۔ کرپشن میں صرف سیاستدان ہی نہیں بہت سے فوجی جرنیل اور عدلیہ کے لوگ بھی ملوث رہے ہیں ۔ مقدمات صرف نیب ہی کے نہیں آئینی بھی ہیں ، جس میں سرفہرست درجنوں دفعہ کے اشتہاری پرویز مشرف بھی ہیں ۔ کرپٹ سیاستدان صرف مخالف سیاسی جماعتوں ہی کے نہیں ، تحریک انصاف کے بھی ہیں مختصر یہ کہ جناب وزیراعظم کو اپنے اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا اب انھوں اپوزیشن کی یک رخی تخریبی حکمت عملی ترک کر دی ہے اور ایسی تعمیری پالیسی اختیار کی ہے جس میں سزا میں اپنے اور پرائے کا فرق نہیں اور جزا میں سب کی بہبود شامل ہے ۔ بلاشبہ چند ماہ کا ہنی مون وقت ان کے پاس ہے لیکن حقیقت یہی ہے عشق کے اصل میدان اب ان کے سامنے آئے ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *