پرائم منسٹر ( سلیکٹ) کی حکمرانی کے پہلے تین دن کیسے گُزرے

جیل میں بند سیاسی مخالفین کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا

پھول برسانے والے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج لیا گیا

مودی کے خط کی غلط تشریح کر کے دشمن کے ہاتھوں ذلیل ہوئے

وفاقی کابینہ میں پی ٹی آئی کی بجائے مشرف کے ساتھیوں کو لیا گیا

پنجاب کی حکمرانی کسی سیاسی رہ نما یا کارکن کی بجائے ایک نیب زدہ لوٹے اور قاتل کو تھما دی

بچت کا نعرہ لگانے والے بنی گالہ سے ایوان وزیراعظم آنے کے لئے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے، دو گاڑیاں استعمال کرنے کا اعلان کیا اور ستائیس لے کر گھومتے رہے

پروٹوکول کی مخالفت کا نعرہ لگایا اور اسلام آباد کے شہریوں نے برسوں بعد وزیراعظم کے پروٹوکول کے نام پر دیر تک سڑکیں بند دیکھیں

سفیروں کو خالی چائے پلانے والے ایوان وزیراعظم میں سرکاری خرچ پر چھتیس ڈشوں والی پرتعیش دعوتیں اڑاتے رہے

سیاسی انتقام میں پاگل حکمران ایوان وزیراعظم پہنچتے ہی عوامی فلاح پر غور کرنے کی بجائے مخالفین کے ذاتی اخراجات مانگ کر شرمندہ ہوتے رہے

مخالف سیاسی رہنماؤں کے لئے کابینہ نے فیصلہ کیا مگر سنگین غداری کیس کے مجرم بارے غور تک نہیں کیا گیا

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکمران نے اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیری کا نام تک نہیں لیا۔

پرائم منسٹر سلیکٹ کے منہ سے بھارتی فوج کے ہاتھوں بارڈر اور مقبوضہ کشمیر میں شہادتوں پر ایک لفظ نہیں پھوٹا۔

پرائم منسٹر (سلیکٹ) دیکھ کر بھی اُردو نہ پڑھ سکے، وہ لفظ قیامت اور خاتم النبیین تک ادا نہ کر سکے

میرٹ اور قانون پر عمل کا دعوی تین دن میں ہی ہوا ہو گیا جب ایک شہنشاہ بن کے شوکت خانم کے بورڈ آف گورنرز کے رکن کو چئیرمین پی سی بی لگانے کا اعلان کر دیا حالانکہ اس عہدے کا الیکشن ضروری ہے۔

ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کرنے والوں نے دوسرے ہی دن پانچ سو افراد کو بے روزگار کرنے کا اعلان کر دیا اور تیسرے دن یہ اعلان حسب روایت و عادت واپس لینا پڑا

حکمران جماعت کے ایجنڈے پر سیاسی انتقام تو رہا مگر اکانومی کی بہتری کا سب سے بڑا پراجیکٹ سی پیک، لوڈشیڈنگ ختم رکھنے کے لئے بجلی کی پیداوار اور دہشت گردی پر قابو رکھنے کا عزم اور حکمت عملی غائب رہی جو خطرناک ہے۔

پہلے تین دنوں کے پالیسی اجلاسوں میں بھارت کا بڑا برطانوی سرمایہ کار شامل رہا جو قومی مفادات کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں متعدد بھارتیوں کو بلانے کی کوشش کی اور شرمندہ و ذلیل ہوئے۔

قومی اتحاد اور یک جہتی کے لئے کسی ایک اقدام کا بھی اعلان نہیں کیا گیا

ابھی تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *