عبدالغفور جیسی موت

وہ ہر ملنے والے سے صرف ایک ہی درخواست کرتے تھے ’’آپ میرے لیے دعا کریں میرا خاتمہ ایمان پر ہو‘‘ لوگ انھیں خوش حالی‘ ترقی‘ صحت اور عہدے کی دعا دیتے تھے لیکن وہ اسے روک کر فرماتے تھے ’’آپ کی دعا سر آنکھوں پر لیکن مہربانی فرما کر آپ میرے لیے صرف اتنی دعا کر دیں اللہ تعالیٰ مجھے عبدالغفور جیسی موت نصیب کر دے‘‘ ہم حیران ہو کر پوچھتے تھے ’’سر یہ عبدالغفور کون تھا؟‘‘وہ ہمارا سوال ہنس کر ٹال دیتے تھے‘ عزیز صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ہر لحاظ سے نواز رکھا تھا‘ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے‘ 1970ء کی دہائی میں ہارورڈ یونیورسٹی سے بزنس کی ڈگری لے کر آئے تھے‘ وہ صاحب علم بھی تھے‘ کتابوں کے ڈھیر پر سوتے اور کتابوں کے کمبل میں جاگتے تھے۔

دنیا میں جو بھی اچھی کتاب شائع ہوتی تھی وہ عزیز صاحب تک ضرور پہنچتی تھی اور عزیز صاحب اسے گھول کر پی جاتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں صحت کی نعمت سے بھی نواز رکھا تھا‘ وہ 72 سال کی عمر میں 22 سال کے جوانوں کا جسم لے کر پھرتے تھے‘ انھیں زندگی میں کبھی سردرد تک نہیں ہوا تھا‘ وہ پیدائشی امیر بھی تھے‘ والد صاحب زمیندار بھی تھے اور صنعت کار بھی‘ وہ فلور ملوں کے مالک تھے‘ وہ اپنی گندم پیس کر بیچتے تھے اور کروڑوں کماتے تھے۔

والدین کی واحد اولاد تھے چنانچہ خاندان کا تمام مال و دولت اور سارا اثاثہ انھیں منتقل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں سعادت مند اور پڑھی لکھی اولاد سے بھی نواز رکھا تھا چنانچہ وہ ہر لحاظ سے ایک شاندار زندگی گزار رہے تھے لیکن وہ اس کے باوجود ہر وقت خود بھی عبدالغفور جیسی موت کی دعا کرتے تھے اور دوسروں سے بھی یہی درخواست کرتے رہتے تھے‘ ہم وجہ پوچھتے تھے تو وہ فرمایا کرتے تھے ’’بس عبدالغفور مجھے سیدھا اور صحیح راستہ دکھا گیا‘ اللہ تعالیٰ اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے‘‘ اور وہ اس کے بعد خاموش ہو جاتے تھے۔

یہ 1993ء کا حج تھا‘ مجھے انھوں نے بلایا‘ بڑے پیار سے ملے اور فرمایا ’’میں حج پر جا رہا ہوں اور شاید میں وہاں سے واپس نہ آ سکوں‘ بس بیٹا میں نے آپ سے صرف ایک درخواست کرنی تھی‘ میں آپ کو جب بھی یاد آؤں آپ میری اولاد کے لیے ایمان پر خاتمے کی دعا کر دینا‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور عرض کیا ’’آپ کیسے کہہ سکتے ہیں آپ حج سے واپس نہیں آئیں گے اور دوسرا آپ اس بار اپنے بجائے اپنی اولاد کے لیے کیوں دعا کرا رہے ہیں‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’آپ مجھ سے ہمیشہ عبدالغفور کی کہانی سننا چاہتے تھے۔

میں سمجھتا ہوں اب وہ کہانی بتانے اور سنانے کا وقت آ گیا ہے‘ آپ عبدالغفور کی داستان سنو‘ آپ کو میری بات سمجھ آ جائے گی‘‘ وہ رکے اور پھر آہستہ آواز میں بولے ’’عبدالغفور ہماری لاہور کی مل میں ملازم تھا‘ وہ بلا کا کام چور‘ سست اور دھوکے باز تھا‘ وہ مل کی گندم اور آٹا چوری کر کے بھی بیچ دیتا تھا‘ کام میں بھی سستی کرتا تھا اور وہ جی بھر کر نکھٹو بھی تھا‘ ہم نے کئی بار اسے نکالنے کا فیصلہ کیا لیکن پھر میں اپنے والد کی وجہ سے رک جاتا تھا‘ میرے والد نے نصیحت کی تھی‘ میرے بعد کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالنا‘ عبدالغفور مجھے والد کی طرف سے ورثے میں ملا تھا چنانچہ میں اسے برداشت کرنے پر مجبور تھا۔

عبدالغفور کو زندگی میں کسی نے کبھی نماز پڑھتے دیکھا تھا اور نہ ہی کوئی نیکی کا کام کرتے‘ وہ دبا کر سگریٹ بھی پیتا تھا اور چرس بھی‘ وہ پوری زندگی مقروض بھی رہا تھا‘ ہم ہر سال اپنے ایک ملازم کو حج پر بھجواتے تھے‘ ہم اس ملازم کے تعین کے لیے قرعہ اندازی کرتے تھے‘ ہم نے ایک سال قرعہ اندازی کی‘ عبدالغفور کا نام نکل آیا‘ ہم نے اسے حج کی پیشکش کی لیکن اس نے انکار کر دیا‘ لوگوں نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا چنانچہ ہم نے دوسرے ملازم کو بھجوا دیا‘ اگلے سال پھر اس کا نام نکل آیا‘ عبدالغفور نے اس سال بھی انکار کر دیا‘ ہم نے دوبارہ قرعہ اندازی کی‘ دوسری بار پھر اس کا نام آ گیا‘ ہم نے تیسری قرعہ اندازی کی پھر عبدالغفور کا نام آ گیا‘ ہم نے تجربے کے لیے مرتبان میں چوتھی مرتبہ عبدالغفور کی پرچی نہ ڈالی اور اس کی جگہ خالی پرچی ڈال دی۔

چوتھی مرتبہ پرچی نکالی تو وہ خالی نکلی گویا اللہ تعالیٰ ہر صورت عبدالغفور کو حج کرانا چاہتا تھا لیکن وہ نہیں مان رہا تھا‘ ہم نے اس پر بہت زور دیا مگر اس کا کہنا تھا مجھے تو نماز بھی نہیں آتی‘ میں حج کر کے کیا کروں گا‘ میں نے آخر میں اس کے ساتھ سودا کیا‘ میں نے اس سے کہا تم حج پر چلے جاؤ‘ میں تمہیں پورے سال کی تنخواہیں اضافی دے دیتا ہوں‘ وہ لالچ میں آ گیا‘ میں نے مولوی صاحب کا بندوبست کیا‘ مولوی صاحب نے اسے نماز اور حج کا طریقہ سکھایا‘ دعائیں اور آیتیں یاد کرائیں اور ہم نے اسے حج پر روانہ کر دیا‘ عبدالغفور حج پر گیا‘ حج کیا‘ طواف الوداع کیا‘ عشاء کی آخری نماز پڑھی‘ سجدے میں گیا اور سجدے ہی میں انتقال کر گیا۔

وہ مرنے کے بعد دیر تک سجدے میں پڑا رہا‘ ساتھیوں میں سے کسی نے ہلایا تو پتہ چلا عبدالغفور انتقال کر چکا ہے‘ آپ اللہ کے فیصلے دیکھئے‘ اس رات امام کعبہ کا انتقال بھی ہو گیا‘ اگلی صبح امام کعبہ کا جنازہ تھا‘ عبدالغفور کی میت بھی امام کعبہ کے ساتھ حجرے اسود کے سامنے رکھ دی گئی اور لاکھوں حاجیوں نے اس کا جنازہ پڑھا‘ ہمیں اطلاع دی گئی‘ ہم سے نعش کے بارے میں پوچھا گیا‘ ہم نے اس کی بیگم سے پوچھا‘ بیگم کا کہنا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے اگر اسے خانہ کعبہ بلایا ہے تو پھر اس کی تدفین بھی مکہ میں کر دی جائے‘ ہم نے اس کی تدفین کی اجازت دے دی اور یوں وہ مکہ مکرمہ میں دفن کر دیا گیا‘ میں اس کے نصیب پر حیران رہ گیا۔

میں اس کی بیگم کے پاس گیا اور اس سے عبدالغفور کی خوش بختی کی وجہ پوچھی‘ بیگم نے ایک عجیب بات بتائی‘ اس کا کہنا تھا’’ میرے خاوند میں کوئی خوبی نہیں تھی‘ اس نے زندگی میں کبھی کوئی نیکی نہیں کی ‘ میں خود حیران تھی اللہ تعالیٰ نے اسے کس نیکی کا صلہ دیا‘ میں کئی دن سوچتی رہی‘ پھر مجھے اچانک اس کی ایک اچھی عادت یاد آئی‘ ہمارے محلے میں ایک خوبصورت بیوہ ہے‘ یہ جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی‘ محلے کے تمام لوفر اس پر بری نظر ڈالتے تھے‘ اس کی دو چھوٹی بیٹیاں تھیں‘ مکان اس کو اس کا مرحوم خاوند دے گیا تھا‘ گھر کے اخراجات اس کے دیور نے اٹھا لیے تھے لیکن مہنگائی میں اس کا گزارہ نہیں ہوتا تھا‘ وہ اپنی بیٹیوں کو پڑھانا چاہتی تھی‘ وہ اس کے لیے دوسروں کے گھروں میں کام کرنے جاتی تھی لیکن وہ جہاں جاتی تھی لوگ وہاں اس کی عزت پر ہاتھ ڈال دیتے تھے چنانچہ وہ کام چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی تھی‘ میرے خاوند کو پتہ چلا تو وہ اس کی ڈھال بن گیا۔

اس نے اسے اپنی بہن بنا لیا‘ اس نے اپنی منہ بولی بہن کو گھر بٹھایا اور اس کی دونوں بیٹیوں کو اسکول داخل کرا دیا‘ وہ لوگوں سے قرض لے کر‘ آپ کی فیکٹری سے چوری کر کے ان بچیوں کو تعلیم دلاتا تھا‘ وہ ہفتے دس دن بعد اپنی منہ بولی بہن کے گھر راشن بھی دے کر آتا تھا لیکن اس نے راشن دیتے وقت یا بچیوں کی یونیفارم‘ کتابیں اور فیس دیتے ہوئے کبھی اس کے گھر کی دہلیز پار نہیں کی تھی‘ وہ یہ تمام چیزیں ایک بڑی سی ٹوکری میں رکھتا تھا‘ وہ ٹوکری بیوہ کی دہلیز پر رکھتا تھا‘ دروازے پر دستک دیتا تھا اور کہتا تھا مریم بہن میں نے سامان باہر رکھ دیا ہے‘ آپ اٹھا لیں اور مریم وہ سامان اٹھاتے وقت ہمیشہ کہتی تھی ’’جا میرے بھائی اللہ تعالیٰ تمہارا خاتمہ ایمان پر کرے‘‘ ہمیں یہ دعا عجیب لگتی تھی لیکن ہم چپ رہتے تھے‘ آپ نے اسے پچھلے سال بھی حج پر بھجوانے کی کوشش کی لیکن اس نے یہ سوچ کر انکار کر دیا وہ اگر سعودی عرب چلا گیا تو مریم بہن خود کو بے آسرا محسوس کرے گی۔

وہ اس بار بھی نہیں جانا چاہتا تھا لیکن آپ نے اسے پورے سال کی اضافی تنخواہ دے دی‘ عبدالغفور نے وہ ساری رقم مریم بہن کو دے دی‘ وہ حج پر چلا گیا‘ اس کا وقت پورا ہو چکا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے زبردستی مکہ بلوایا‘ مریم بہن کی دعا قبول ہوئی اور میرا خاوند ایمان کی عظیم حالت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلا گیا‘ آپ حیران ہوں گے مریم بہن نے جب یہ خبر سنی تواس کے منہ سے بے اختیار شکر الحمد للہ نکل گیا‘‘ وہ رکے‘ چند لمبے سانس لیے اور پھر گویا ہوئے’’میں یہ داستان سن کر سکتے میں آگیا۔

میں اس کے بعد مریم بہن کے گھر گیا اور میں نے عبدالغفور کی طرح اس خاندان کی ذمے داری اٹھا لی‘ میں اس دن سے مریم بہن‘ عبدالغفور کی بیگم اور اپنے تمام دوستوں سے درخواست کر رہا ہوں آپ میرے لیے دعا کریں اللہ مجھے عبدالغفور کی موت نصیب کر دے‘ میں خود بھی دن میں سیکڑوں مرتبہ ایمان پر خاتمے کی دعا کرتا ہوں‘ میں نے زندگی میں کبھی حج نہیں کیا‘ میں پندرہ سال عبدالغفور کی طرح بلاوے کا انتظار کرتا رہا‘ اللہ تعالیٰ نے بالآخر میری بھی سن لی چنانچہ مجھے بھی عبدالغفور کی طرح زبردستی طلب کیا جا رہا ہے‘ میں جا رہا ہوں‘ مجھے یقین ہے اللہ مجھے عبدالغفور جیسی موت دے گا‘‘ وہ رکے‘ خوشی کے آنسو پونچھے‘ مجھے سینے سے لگایا اور اپنے بیڈروم میں چلے گئے ‘ میں دیر تک ان کے ڈرائنگ روم میں حیران پریشان بیٹھا رہا۔

وہ چند دن بعد حج پر تشریف لے گئے‘ حج کیا‘ مدینہ منورہ تشریف لے گئے‘ عشاء کی نماز کے لیے مسجد نبوی گئے‘ سجدے میں گئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلا لیا ‘وہ جنت البقیع میں صحابہ اکرامؓ کی قربت میں دفن ہوئے‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں عبدالغفور کی موت نصیب کر دی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *