مردِکرخت پر کلام نرم و نازک بے اثر

ایک بار میں ایک سرکاری دفتر میں ایک کام سے گیا ۔وہاں میری بات بلکہ ٹاکرا ایک بڑے میاں سے ہوا ۔ملاقات اچھی ہوتی ہے اس میں خوشگوار خیالات اور نیک خواہشات کا تبادلہ ہوتا ہے جبکہ ٹاکرا میں جس طرح دو بھینسے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں ، ویسے ہی آدمی آپس میں ٹکراتے ہیں ۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی جو کا م زبان سے لیتے ہیں وہی کام بھینسے اپنے سینگوں سے لیتے ہیں تو جناب وہاں بھی ایک ٹاکراہوا ،کام بلکل جائز اور قانونی تھا مگر بڑے میاں زندگی سے خاصے بیزار تھے ۔زمانے بھر نے انہیں جو دکھ رنج دیے تھے ان سب کا بدلہ وہ مجھ سے لینے کے خواہش مند تھے ۔انہوں نے ایک بار عینک دائیں گھمائی میں نے قانون کی کتاب آگے رکھ دی ، انہوں نے عینک بائیں گھمائی میں نے خوش اخلاقی سے لبوں پر مسکراہٹ سجائی مگر نہیں میری کوئی ’’ اتھارٹی متاثر نہ کرسکی ، درشت لہجے میں بولے ’’یہ کام نہیں ہو سکتا ‘‘میں نے کہا یہ شادی نہیں ہوسکتی والا فقرہ سلطان راہی صاحب سے سنا تھا ۔اب تو خیر سلطان راہی بھی نہیں رہے اور شادی بھی ہوجاتی ہے بلکہ قسمت والوں کی ایک نہیں تین تین ہو جاتی ہیں ، ہمارے شہزاد صاحب اس کی زندہ تابند ہ مثال ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ میں نے انہیں کافی دلائل پیش کئے مگر انہیں نہ ماننا تھا ،وہ نہ مانے ۔اس دن مجھے خیال آیا کہ دنیا میں کرخت لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کا م کر نے ، کسی کے ساتھ چھوٹی سی چھوٹی نیکی کرنے اور کسی کو چھوٹی سی چھوٹی خوشی دینے کی توفیق نہیں رکھتے ۔ ان کا بس چلے تو وہ کسی کے لبوں پر مسکراہٹ نہ آنے دیں کسی کو خوش نہ ہونے دیں ، کسی کو مسرور نہ ہونے دیں ۔ خدا نے اگر انہیں دنیا کا انچارج بنایا ہوتا تو وہ ہرایک سے دل کا قرار ، لبوں کی مسکراہٹ ، روح کی خوشی کیا سب کچھ ہی چھین لیتے ۔ کوئی اعتراض کرتا تو موٹی سی عینک کے پیچھے سے یوں دیکھتے کہ وہ بندہ تاب نہ لاتے ہوئے چل بستا ۔ایسے لوگوں کا رویہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے پر مبنی ہوتا ہے ۔مزے دار بات یہ ہے کہ اگر کوئی ان سے پوچھ لے کہ آپ کا اداکارہ کون سی اچھی لگتی ہے تو جھٹ سے مادھوری ’’دکھ سکھ ‘‘ کا نام لیں گے ۔ بندہ پوچھے کہاں مادھوری ’’دکھ سکھ ‘‘اور کہاں آپ ،بابا جی کچھ تو خیال کیا ہوتا !

"ہور کی حال اے !"مزید پڑھٗیے
کرخت لوگوں سے ہماری دنیا بھری پڑی ہے ۔ یہ کہیں نہ کہیں کسی بس میں ، کسی دفتر میں ، کسی ہوٹل میں یا کسی گھر میں ضرور آپ کو مل ہی جائیں گے اور آپ کا جب ان سے ’’واہ ‘‘ پڑے تو آپ کو لگ پتا جائے گا ۔میرے اپنے حساب کے مطابق ہر پانچواں شخص کرخت فردہوتا ہے ۔ بقیہ چار تومیں شہزاد ، عثمان جوئیہ اور آپ ہیں ، پانچویں کو آپ خود ڈھونڈ لیجئے ۔ وہ کوئی نہ کوئی درشت مزاجی کرتا ہو ا آپ کو مل جائے گا ۔
مگر اسے اس نشے میں تنہا نہ چھوڑےئے ، اسے مثبت سوچ کے کیسٹ سنا سنا کر Dumpکیجئے !اس کا بڑا ثواب ہے ۔ اپنے ڈاکٹر صداقت علی صاحب اس اعتبار سے ثواب کما کما کر کم از کم ولی تو ہو چکے ہیں ۔
ویسے میں دیکھا ہے کہ خواتین مردوں سے زیادہ کرخت ہوتی ہیں اگر یقین نہیں آتا تو کسی سے محبت کیجئے ( پہلی غلطی )، اس سے شادی کیجئے (دوسری غلطی ) وہ بیوی بنتے ہی کرخت بلکہ ڈائریکٹ تھانیدار لگ جائے گی ۔ اب آپ اس غلطی کو نبھاتے رہیے کیونکہ وہ مزید کوئی غلطی آپ کو کرنے ہی نہیں دے گی ۔
مزید یہ کہ خواتین نے مل ملا کر بے چارے مردوں کو ’’صنف کرخت ‘‘ کا غلط لقب دے رکھا ہے ۔ حالاں کہ مردوں بے چاروں کا اس کے سوا قصور کیا ہے کہ وہ ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں ! مجھے معلوم ہے کہ مس رفعت عاتکہ خواتین کے بارے میں میری یہ حق گوئی برداشت نہیں کریں گی اور بہت شور مچائیں گی لیکن کیا کیجئے حق گوئی مردوں کا ہی شیوہ ہے ! آپ نے کبھی کسی عورت کو حق گو کے مقام پر فائز دیکھا ہے ؟سقراط بے چارہ بھی مرد تھا لیکن عقل مند تھا اس لئے زہر کا پیالہ پی گیا ۔آج کل کے مرد بے وقوف ہیں وہ روز زہر کا پیالہ پیتے ہیں مگر پھر بھی شادی آج کا مقبول ترین ٹاپک ہے ۔ ابو بکر صدیق میر ے بہترین دوست ہیں ، پیشے کے اعتبار سے سول جج ہیں جب بھی ان کا فون آتا ہے تا ن یہیں پر ٹوٹتی ہے ’’ شادی کب کر رہے ہو ؟‘‘میں انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ اس دورِ کرختگی میں داخل ہونے کا ابھی مجھ میں یارا نہیں ۔
کرخت لوگوں کی موجودگی میں یہ دنیا کس قدر بد صورت لگتی ہے ۔خواہ مخواہ کاٹ کھانے کو دوڑنے والے لوگ ہمارے معاشرے میں اس قدر زیادہ ہیں کہ الا ماں ۔اوپر سے مردِ کرخت پہ کلام نرم ونازک بے اثر ہو تا ہے ۔ آپ ان سے جس قدر بے اخلاقی برت لیں وہ آپ سے یہ برتنے پر آمادہ نہیں ہوتے جیسے آپ حضرت جان سے جتنی مرضی عقل کی بات کرلیں ، وہ کبھی نہیں کرتے ! لیکن ہم بھی بہت ضدی ہیں بقول شاعر وہ اپنی خونہ چھوریں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں ۔ لہٰذا ہمار کرخت لوگوں کے ساتھ ’’ واہ ‘‘جاری رہتا ہے مثلاََ ........سے !
شائع کردہ 24 دسمبر 2004

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *