نواز عمران معاشی جائزہ

نوازشریف حکومت نے گیس، بجلی ، ایل پی جی اور کھاد کی قیمتیں نہیں بڑھائیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر کنٹرول رکھا۔ ڈالر کو بڑھنے نہیں دیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے 23 ارب ڈالر ھو گئے۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس اٹھارا ھزار سے 53 ھزار ھو گیا۔ صرف سی پیک کی شکل میں 63 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئی ۔ اس سرمایہ کاری کو بڑھ کر ایک سو ارب ڈالر تک پہنچنا تھا ۔ سی پیک مکمل ھونے کی صورت میں پاکستان کو سالانہ پچاس ارب ڈالر کی آمدن ھونا تھی۔ 25 لاکھ نئ جابز پیدا ھونا تھیں ۔ معاشی ترقی کی نمو اڑھائی فیصد سے بڑھ کر ساڑھے پانچ فیصد پر چلی گئی ۔ بارا ھزار میگا واٹ بجلی میں اضافہ ھوا۔ صنعتی اور گھریلو لوڈشیڈنگ ختم ھوی۔ ایل پی جی گیس کے معاہدوں کی وجہ سے گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ھوئ۔ پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں ختم ھوئیں ۔ روس ، قازکستان اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائنوں کے معاھدے ھوے۔ دس نئ موٹر ویز پر کام شروع ھوا۔ نئے ائر پورٹس، نئ بندر گاھیں اور نئے صنعتی زون تعمیر ھونے لگے۔ پاکستان 2013 میں دیوالیہ ھونے کے قریب تھا۔ 2016 میں آئ ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا۔ پاکستان 2015 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل گیا۔ مودی کریڈٹ ریٹنگ پر استحکام کی سطح پر آ گیا۔ امریکہ کے اثر سے نکل کر شنگھائی کانفرنس تنظیم کا حصہ بن گیا۔ اس دوران پاکستان پر قرضہ 60 ارب ڈالر سے بڑھ کر 90 ارب ڈالر ھو گیا۔ لیکن اسد عمر سینٹ رپورٹ کے مطابق اس دوران چالیس ارب ڈالر کا قرضہ واپس کیا گیا۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اس دوران 19 ارب ڈالر کا اضافہ ھوا۔ پاکستان معاشی استحکام پر تھا ۔ دنیا بھر کے معاشی میگزین پاکستان کو تیزی سے معاشی ترقی کرتے پہلے دس ممالک میں شامل کر رھے تھے۔ نوازشریف حکومت کا معاشی ویثرن یہ تھا۔ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری سے ریاست کی آمدن بڑھائ جاے۔ اور پھر اس اضافی آمدن کو دفاع اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاے ۔
پھر اس ملک میں بوجہ سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں معاشی نقصان ھوا۔ زرمبادلہ کے ذخائر نیچے آ گئے۔ اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بیٹھتا جا رھا ھے۔ معاشی ترقی کی نمو رک چکی ھے۔ سی پیک سست پڑ رھا ھے۔ اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے بجلی ، گیس ، ایل پی جی، کھاد اور دوسری اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھائ جا رھی ھیں ۔ پاکستان واپس آئ ایم ایف کے پاس جا رھا ھے۔ پاکستان واپس گرے لسٹ پر جا چکا ھے۔ مودی کریڈٹ ریٹنگ گر گئ ھے۔ بجلی پوری ھونے کے باوجود محض بد انتظامی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ شروع ھو گئ ھے۔ امریکہ پھر سے پاکستان کو دھمکیاں دے رھا ھے۔ چین ، روس اور ترکی کے ساتھ معاملات سست روی کا شکار ھیں۔ ان تمام سنجیدہ ایشوز کو سلجھانے کی بجائے وزیراعظم ہاوس کی پرانی گاڑیاں بیچ کر قوم کا دل بہلایا جا رھا ھے۔ یا درخت اگانے کی باتیں ھو رھی ھیں۔ گورنر ہاوسز اور وزیراعظم ہاوس ویسے کے ویسے کھڑے ھیں ۔ لائبریریز اور یونیورسٹیاں انتظار میں ھیں ۔ ڈنمارک کے وزیراعظم کی سائیکل کے کتے فیل ھو چکے ھیں۔ لوٹی ھوئ رقم کی واپسی ، اگر لوٹی گئ ھے، کی کوئ تدبیر نہیں بن رھی۔ 300 ارب ڈالر لوٹ کے کوئ ثبوت مہیا نہیں کیے جا رھے۔ ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کی بجائے لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جا رھا ھے۔ پچاس لاکھ گھر بنانے کا کوئ پلان سامنے نہیں آ رھا۔ سفارتی سطح پر بین الاقوامی ساکھ خراب ھو چکی ھے۔ پروٹوکول کے خلاف تمام پروپیگنڈہ سیکیورٹی کے نام پر جسٹیفائ کیا جا رھا ھے۔ ھیلی کاپٹر اور سرکاری جہاز سستے ثابت کیے جا رھے ھیں ۔ اور اس تمام مہنگائی اور پرائس ھائیک کو یہ کہہ کر جسٹیفائ کیا جا رھا ھے۔ کہ نوازشریف حکومت کی ناکامی کی وجہ سے کرنا پڑ رھا ھے۔ اگر آپ نے نوازشریف حکومت کے ھاتھوں ھی یرغمال بن کر فیصلے کرنے تھے۔ تو پھر آپ لینے کیا آے تھے۔ کرنے کیا آے تھے۔ خان حکومت اس وقت نوازشریف حکومت کے بلکل الٹ چل رھی ھے ۔ نواز حکومت ریاست کی آمدن بڑھا رھی تھی۔ عمران حکومت آمدن بڑھانے کی بجائے پہلے سے موجود ذرائع آمدن اور ریاستی اثاثوں کو مزید نچوڑ رھی ھے۔ تاکہ ان قوتوں کا پیٹ بھر سکے۔ جن کا پیٹ بھرنے سے نوازشریف حکومت نے انکار کر دیا تھا ۔ اور عوامی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے راستے پر چل رھی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *