جون 2013 سے جون 2017 تک پاکستانی معیشت کا ریویو

 "محمد اسحاق ڈار"

جنرل الیکشن کے بعد صوبائی اور قومی حکومتیں وجود میں آ چکی ہیں۔ الیکشن  مہم کے دوران ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت کو سب سے اہم مسئلہ کے طور پر پیش کیا گیا  اس لیے یہ وقت ہے کہ اس کی اصل صورتحال کو پوری جانچ پڑتال کے ساتھ کھول کر بیان کیا جائے ۔ سیاسی مقاصد کے لیے پاکستانی معیشت کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کر کے دنیا بھر میں ملک کا امیج خراب کیا گیا جس سے سرمایہ کاروں کے حوصلے ٹوٹے  اور ملکی مفاد کو نقصان پہنچا۔ امید ہے کہ یہ پروپیگنڈہ آنے والی حکومت کے لیے مشکلات کا باعث نہیں بنے گا اور اس کا پاکستان کے مستقبل پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ اس خطرناک صورتحال کے دوران جس طرح ملکی معیشت پر پروپیگنڈہ کیا گیا  اس سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ اگر واقعی ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو  ملکر محنت کرنا ہو گی  اور ملکی ترقی کو مشترکہ مقصد بنانا ہوگا۔ اس بے بنیاد تنقید کے جواب میں  میرے لیے بہترین قدم یہی ہو گا کہ میں اصل حقائق کو قارئین کے سامنے پیش کر دوں۔

پہلی چار سالوں میں ملک کی معاشی  پرفارمنس

ن لیگ کی حکومت جون 2013 میں اقتدار میں آئی  جب دنیا بھر میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست کہلانے کے قریب ہے  اور کچھ ہی ماہ میں یہ ملک دیوالیہ ہونے والا ہے  کیونکہ دنیا بھر کے فنانشل اداروں نے اس ملک میں بزنس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اللہ کی مہربانی سے پروفیشل اور ماہرانہ طریقے سے معیشت کو واپس بہتری کے راستے پر گامزن کیا گیا ۔ ن لیگ کی معاشی ٹیم نے  بتدریج معاشی معاملات میں بہتری کا سفر جاری رکھا اور وقت کے ساتھ ساتھ معیشت کو میکرو اکنامک استحکام کے راستے پر گامزن کیا۔

میکرو اکنامک استحکام

جون 2017 تک گزارے 4 سال میں ن لیگی حکومت کے زبردست فسکل اور مالی ڈسپلن کی بدولت بہت سے مثبت نتائج سامنے آئے۔ بجٹ خسارہ 8.2 سے گھٹا کر 5.8 فیصد پر لایا گیا  باوجود اس کے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا جس پر سالانہ 100ارب روپے خرچ آ رہا تھا۔ ایس بی پی ریپور یٹ بھی 9 فیصد سے کم ہو کر 6.25 فیصد پر آ گیا ۔ ایکسپورٹ ری فائنانس ریٹ 8.4 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد پر آ گیا ۔ لانگ ٹرم فنانس فیسلٹی ریٹ 8.4 فیصد سے صرف 3 فیصد پر آ گیا جب کہ  انفلیشن ریٹ 2008-12 کے 12 فیصد اوسط کے مقابلہ میں مالی سال 2017 تک محض 4.16 فیصد تک محدود کر دیا گیا۔

ان میں سے زیادہ تر انڈیکیٹرز پچھلے 40 دہائیوں میں بہترین سطح پر لائے گئے۔ فیڈرل ٹیکس کلیکشن جو 2013 میں 1946 بائیو تھا اس میں 3.38 فیصد اضافہ کر کے 2017 تک اسے 3367 بایو تک لے جایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے چار سال میں سالانہ گروتھ 18 فیصد رہی  اور 2018 میں یہ مزید بڑھ کر 3935 بایو پر پہنچ گیا۔ اسی عرصہ میں فاریکن ڈائریکٹ انویسٹ منٹ 1456 مائیو سے بڑھ کر 2731 مایو تک پہنچ گئی  فارین ریمٹنس 13.92 ڈالر سے 19.35ڈالر پر پہن گئی ۔ نیشنل فارین ایکسچینج ریزروز 7.5 بایو ڈالرز فروری 2014 سے بڑھ کر 30 جون 2017 تک 21.4 بایو ڈالرز تک پہنچ گئے۔ اسے سے قبل 30 جون 2016 کو یہ اس سے بھی زیادہ بلند ترین سطح  یعنی 23.1 ڈالر تک بھی پہنچ چکا تھا۔

جی ڈی پی گروتھ

ن لیگ کی پہلی ترجیح پاکستان کے جی ڈی پی گروتھ ریٹ کو اوپر لانا تھا تا کہ غربت  کو کم کیا جا سکے، پر سیپٹا انکم میں اضافہ ہو  اور بہتر میکرو اکنامک معاشی صورتحال پر گرفت حاصل کی جا سکے تا کہ عام آدمی اور ملک دونوں کو فائدہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے گئے  جن  میں کسان پیکج  341 ارب کی مالیت کے برابر بھی شامل ہے جو 2015 میں پیش کیا گیا ۔ اس سے قبل 2013 میں یہ پیکیج  336 ارب کا تھا اور 2017 میں اس میں اضافہ کر کے اسے 704 ارب پر لایا گیا۔ پچھلے چار سال میں ترقیاتی کاموں پر اخراجات کو دو گنا کر دیا گیا  اور 348 ارب سے بڑھا کر 733  ارب تک پہنچا گیا دیا۔ صوبوں کو منتقل ہونے والی رقم بھی 1299 ارب سے بڑھا کر 1997 ارب پر لیجایا گیا جس کی مدد سے صوبے سالانہ ترقیاتی پروگراموں میں  اضافہ کرنے کے قابل ہوئے۔ پرائیویٹ سکٹر کو دئیے گئے قرضوں میں بھی قابل قدر بہتری لائی گئی اور 8 بائیو منفی سے 748 بایو تک لایا گیا۔ نتیجہ کے طور پر  پاکستان 2017 میں جی ڈی پی گروتھ میں 5.3 فیصداور  2018 میں 5.8 فیصد اضافہ کرنے میں کامیاب ہوا جب کہ 2008 سے 2013 کے بیچ جی ڈی پی گروتھ محض 2.82 فیصد کی سطح پر تھی۔ 2013 سے 2017 کے دور کا پچھلے دور سے موازنہ کیا جائے  تو معلوم ہوتا ہے کہ اوسط سالانہ گروتھ برائے انڈسٹریل سیکٹر سالانہ گروتھ  کی شرح انڈسٹریل سیکٹر میں 1.2 کے مقابلے میں 5.13 فیصد، لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 0.32 کے مقابلے میں 5.1 فیصد اور سروس سیکٹر میں 3.6 کے مقابلے میں 5.09 فیصد بہتری واقع ہوئی ۔ جاری سی پیک پروجیکٹ   کی وجہ سے آنے والے سالوں میں جی ڈی پی گروتھ میں مزید اضافہ کی توقع ہے۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی جی ڈی پی 300 ارب امریکی ڈالر کی سطح تک پہنچنے میں کامیاب ہوا  ۔

ایکسپورٹ اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ

حکومت کے لیے ایکسپورٹ میں کمی اور کرنٹ اکاونٹ کا بڑھتا ہوا خسارہ سب سے زیادہ پریشانی کا باعث تھا  جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو 180 بایو  کا پیکیج 2017 میں نواز شریف کی منظوری کے بعد دیا گیا۔ پھر اس پیکیج کو اپ سکیل کر کے شاہد خاقان عباسی نے اس میں 67 بایو روپے کا اضافہ کیا۔ ایکسپورٹرز کے لیے ان سپیشل پیکجز کی بدولت  انہوں نے ایکسپورٹ میں سالانہ 15 فیصد اضافہ کی ہامی بھری۔

کرنسی کا استحکام

پچھلے چار سال میں ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قیمت زیادہ تر وقت مستحکم رہی۔ صرف ایک بار قیمت میں 4 روپے کی کمی واقع ہوئی جس کی وجہ 4 ماہ کے دھرنا کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام تھا۔ جون 2014، 2015 اور 2016 اور 2017 میں قیمت بالترتیب 98.91، 101.78،104.84 اور 104.85 رہی۔ مستحکم کرنسی کی بدولت  ہی ملک میں مہنگائی کی شرح اور سود کی شرح کو مناسب حد تک کنٹرول مین رکھا گیا۔ میں نے ہمیشہ روپے کی قیمت میں کمی کی مخالفت کی ہے  باجوود اسکے کہ ملک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مفاد پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرنسی کی قدر میں کمی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جن میں سے چند وجوہات یہ ہیں۔

ایسے ایکسپورٹر جن کو روپے کی قیمت گرنے سے فائدہ پہنچتا ہو، ایسے لوگوں کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے 180 بایو  اور اس میں 67 بایو کا اضافہ پیکج کے ذریعے دے کر ان کے تحفظات دور کیے گئے۔

روپے کی قیمت گرنے سے پاکستان کے قرضہ میں اضافہ ہوتا دیکھنے کے خواہش مند لوگ

42 بایو امریکی ڈالر امپورٹس کو بہت نقصان پہنچ سکتا تھا۔

اس طرح روپے کی قیمت کم کرنے سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی تھی  اور کچھ ہی عرصہ میں عوام کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں۔

پیسے کی قیمت کم کرنے سے فارین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

پبلک سیکٹر پراجیکٹ بھی روپے کی قیمت گرنے سے متاثر ہوتے ہیں اور قیمتیں آسمانوں پر چلی جاتی ہیں۔

یہ بہت شکر کی بات ہے کہ میرے  وزارت خزانہ کے دور کے اختتام تک روپے کی قیمت مستحکم رہی ۔ یہ یاد رکھنا ہو گا کہ 12 دسمبر 2017کو بلوم برگ کے ایک آرٹیکل میں  یہ کہا گیا تھا:" 2014 سے پاکستانی روپیہ ایشیا کی سب سے مستحکم کرنسی رہا ہے  اور صرف اب  کچھ عرصہ پہلے یہ کمزور ہونے لگا ہے۔ "

یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اتنے لمبے عرصہ تک روپے کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے مستحکم نہیں رکھا جا سکتا جیسا کہ اپوزیشن کی طرف سےد عوی کیا جاتا رہا ہے۔ البتہ وزیر خزانہ کی زیر نگرانی مونیٹری فنڈ اینڈ فسکل پالیسی کوآرڈینیشن بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ  اس امر کو یقینی بنائیں کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان درست اور جامع پالیسی اور پراسیس کے ذریعے ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرے۔ لیکن ملک میں کچھ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو صرف تکے اور بے بنیاد دعوے کر کے ملک دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے ملکی کرنسی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اسی طرح کے اندازوں کی وجہ سے ایٹمی دھماکوں سے قبل بھی پاکستانی روپے کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا  اور روپے کی قیمت اس وقت کی تاریخ میں سب سے کم ہو کر 69 روپے فی ڈالر تک گر گئی تھی۔ ستمبر 1998 میں اپوزیشن نے یہ دعوی کیا کہ دسمبر تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مزید گر جائے گی اور ڈالر 100 روپے سے زیادہ کا ہو جائے گا ۔ اس وقت بھی ہم نے بہترین پالیسی  اور صحیح ایکشن لے کر روپے کی قیمت کو بحال کیا  اور کچھ ہی عرصہ میں روپیہ واپس 52 روپے فی ڈالر پر آ گیا۔ فوجی بغاوت کے دنوں تک روپے کی قیمت مستحکم رہی۔

عوامی قرضے

آج کل میڈیا پر سب سے زیادہ ڈسکس کیا جانے والا معاملہ عوامی قرضے ہیں۔ یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے پبلک ڈیٹ کی ایک اوپننگ فگر ہوتی ہے  جس کے ساتھ بجٹ خسارہ اور پیسے کی قیمت میں کمی کی وجہ سے بہت سے عوامل شامل ہوتے ہیں۔  چونکہ بجٹ کے سارے معاملات پارلیمنٹ میں طے کیے جاتے ہیں اس لیے اس کی کوئی بھی چیز کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی۔ پچھلے چار سال میں پبلک ڈیٹ میں اضافہ کی شرح 2 فیصد سے بھی کم رہی اور یہ بھی  سکیورٹی کی خاطر ضرب عضب آپریشن  کی وجہ سے  اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی تکمیل جن میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پانا شامل تھا کے لیے لیا گیا۔ قرض کی رقم سے ھائی وے ٹرانسپورٹ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن سیکٹر کو مضبوط کیا گیا۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ  امریکہ کے جی ڈی پی کے مقابلے میں عوامی قرضے  2018 میں 106 فیصد، جاپان کے 221 فیصدد، سپین کے 106 فیصد، اٹلی کے 138 فیصد، بیلجئم کے 115 فیصد، اور سنگاپور کے 105 فیصد ہیں جو کہ پاکستان کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہیں۔

کیپیٹل مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر

پھیلتی ہوئی معیشت اور مستقل کے معاشی مقاصد کے لیے  کیپٹل مارکیٹ کی گورننگ کے لیگل فریم ورک کو بہتر کرنا بہت ضروری تھا۔ اس حوالے سے 15 سال سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سٹاک ایکسچینج کو یکجا کرنے کے مسئلے کو  حل کیا گیا۔ 32 سالہ پرانا کمپنیز آرڈیننس 1984 بھی ختم کر کے اس کی جگہ کمپنیز ایکٹ 2016 لایا گیا جو پاکستانی پارلیمان کی تاریخی قانون سازی ہے اور جس کا مقصد گلوبل ٹرینڈ کے مطابق اپنے کارپوریٹ سیکٹر کو  اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ اسلامی فنانسنگ کو پروموٹ کرنے کے لیے شریعت کی پیروی کرنے والی کمپنیوں کو 2 فیصد ٹیکس چھوٹ دی گئی۔

سیکورٹیز ایکٹ 2015 نے 46 سالہ پرانے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج آرڈیننس کی جگہ لے لی جو 1969 میں بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ فیوچر مارکیٹ ایکٹ 2016، ایس ای سی پی ایکٹ 2016، کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کمپنیز ایکٹ 2016، اور دی لمیٹڈ لائیابلٹی پارٹنر شپ ایکٹ 2017 بھی اسی دور حکومت میں منظو رہوئے۔  اس کے ساتھ ساتھ ڈرافٹ انشورنس بل 2017 اور ڈرافٹ مضاربہ بل 2017 کو بھی فائنل کیا گیا  تا کہ ان پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جا سکے۔ کارپوریٹ سکٹر سے متعلق بہت سے رولز اینڈ ریگولیشنز کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سکیورٹیز کمیشن نے پاکستان میں ہونے والی ان اصلاحات کو تسلیم کیا اور ایس ای سی پی کی ریٹنگ کو 32 فیصد سے بڑھا کر 82 فیصد کر دیا۔

پاکستان نے جون 2016 میں ایم ایس سی آئی کے تحت ایک بار پھر ایمرجنگ مارکیٹ کا اعزاز واپس حاصل کیا جو کہ 2008 سے پاکستان سے چھین لیا گیا تھا۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج جون 2013 میں 21006 پر تھا  اور بڑھ کر 30 جون 2017 کو 46565 پوائنٹس تک پہنچ گیا  ار مارکیٹ کیپٹلائزیشن  5.33 ٹریلین سے بڑھ کر 9.52 ٹریلین تک پہنچ گئی ۔ 14 جون 2016 کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کو  ایشیا کی بہترین مارکیٹ کا  اعزاز دیا گیا اور 28 دسمبر 2016 کو بلوم برگ نے اسی سٹاک ایکسچینج کو 2016 کا عالمی سطح پر پرفارم کرنے والا 5واں بڑا سٹاک ایکسچینج قرار دیا۔

عالمی شہرت

عالمی اداروں نے بھی پاکستان کی میکرو اکنامک صورتحال کے تسلی بخش ہونے پر تعریف اور حوصلہ افزائی کی۔  آئی ایف آر ایشیا نے پاکستان کو 'ایشوئر آف دی ائیر 2014 ' کا خطاب دیا۔ (اس دوران پاکستان کا خود مختاری بانڈ  میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں 14 گنا زیادہ  اوور سبسکرائب کیا گیا)

موڈیز نے پاکستان آوٹ لک کو منفی سے مستحکم کے درجہ پر لے آیا۔ اپریل 2016 میں ایک رپورٹ پبلش ہوئی جس کا عنوان تھا: گورنمنٹ آف پاکستان بی 3، مستحکم

سٹینڈرڈ اینڈ پور (ایس اینڈ پی ) نے پاکستان آوٹ لک کو منفی سے مستحکم  اور پھر مثبت کا درجہ دے دیا۔ 31 اکتوبر  2016 کو  پاکستان کی لانگ ٹرم سوورین کریڈٹ ریٹنگ کو ترقی دے کر 'بی ' کر دیا گیا۔  جب کہ اس سے قبل پاکستان  بی مائنس کی سطح پر تھا۔

فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ  کو ترقی دے کر 'بی ' قرار دے دیا۔

انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی بی آر ڈی)  نے پاکستان کے ساتھ فنانسنگ کو واپس بحال  کر دیا  جس کی وجہ پاکستان کے فارین ایکسچینج ریزرو میں بہتری تھی۔

31 مئی 2014 کو  پاکستان 2008 کے بعد سے پہلی بار نیلسن کے مطابق سب سے بہترین تجارتی اعتماد کا حامل تھا۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن  کی ٹریڈ پالیسی ریویو آف پاکستان  نے مارچ 2015 میں  پاکستان کی لڑتی ہوئی معیشت کو حوصلہ افزا قرار دیا،  اور کا کہ بہت سے چیلنجز اور مشکلات کے باوجود  پاکستان نے اس ریویو دورانیہ میں مثبت گروتھ کو ممکن بنایا ہے۔ ادارہ نے یہ بھی کہا کہ  پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف گامزن نظر آ رہی ہے۔

مورگین سٹینلی رپورٹ جو 30 جنوری 2015 کو جاری ہوئی کے مطابق  پاکستانی معیشت اپنے اڑان کے قریب تھی اور اس کی ترقی کی منزل محض کچھ وقت کی دوری پر تھی۔

یو ایس اٹلیکچول  پراپرٹی رائٹ  (آئی پی آر ) نے پاکستان کو اپریل  2016 میں اپ گریڈ کیا

فوربز نے پاکستان کے معاشی پانسا پلٹنے   کو ابھی ایک عالمی کامیابی کی کہانی قرار دیا۔

اٹلانٹک میڈیا کمپنی کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان  کو ساوتھ ایشیا کے ترقی کرتے ہوے معاشی ممالک میں شامل کیا گیا۔

بیرنز ایشیا، ایک فنانشل میگزین ہے  جو عالمی شہرت کی حامل ہے  ۔ اس میگزین کے مطابق  پاکستان کو 'نیکسٹ بِگ تھنگ' قرار دیا گیا اور اسے ساوتھ ایشین ممالک کے معاشی ترقی کی راہوں پر گامزن ممالک کا لیڈر قرار دیا گیا۔

پرائس واٹر ہاوس کوپرز کی فروری 2017 کی رپورٹ کے مطابق  پاکستان  کو  2030 تک دنیا کی  20ویں بڑی معیشت کا  متوقع امیدوار قرار دیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف

جب ن لیگ کی حکومت 2013 میں آئی اس وقت پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں تھا اور اس سے ایک دہائی قبل سے یہ کبھی بلیک اور کبھی گرے لسٹ میں شامل رہا۔ کچھ قانونی کاوروائی اور دوسرے اہم ایکشن کے بعد پاکستان 2014 میں بلیک لسٹ سے گرے لسٹ میں آیا۔  مزید کاروائی اورا کوششوں کے بعد حکومت پاکستان  نے فروری 2015 تک پاکستان کو وائٹ لسٹ میں شامل کروا دیا۔ حال ہی میں دوبارہ پاکستان کو گرے لسٹ مین شامل کرنے کا معاملہ پریشان کن ہے  اور حکومت کو چاہیے کہ فوری ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان کو واپس وائٹ لسٹ میں لایا جا سکے۔

مختصرا یہ کہ 2013 سے 2017 تک پاکستان کی معاشی پرفارمنس بہت تسلی بخش رہی ہے  اور یہ مزید ترقی کے راستے پر گامزن تھی۔ لیکن جولائی 2017 کے بعد کچھ بڑے چیلنجز سامنے آئے جن کو فوری طور پر ہینڈل کرنا بہت ضروری ہے۔ میں  اپنے ملک کے مستقبل کے لیے پر امید ہوں اور پورا یقین رکھتا ہوں کہ مکمل  یکسوئی، کمٹمنٹ اور محنت کے ساتھ پاکستان کے تمام چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے  اور معیشت کے بارے میں منفی سوچ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے سے پاکستان ایک بار پھر میکرو اکنامک سٹیبلٹی کی طرف  چل پڑے گا  اور جی ڈی پی گروتھ میں بھی بہتری لائی جا سکے گی۔

بشکریہ ڈیلی ٹائمز

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *