وزیر اعظم کا ٹینک استعمال کرنا پروٹوکول میں نہیں آتا۔ فواد چوہدری

 "حیدر عباسی"

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی طرف سے ٹینک پر بنی گالہ پر جانے کے عمل کو وی آئ پی پروٹوکول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک حفاظتی قدم ہے جو عمران خان کی زندگی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہو ں نے کہا: ٹینک ڈیزل پر چلتا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے حال ہی میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ ٹینک پر سفر  20 روپے فی منٹ پڑتا ہے جو بہت سستا اور معیاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس کے علاوہ ٹینک کے استعمال کے ذریعے ہمیں روڈز بھی بلاک نہیں کرنا پڑیں گی  کیونکہ ٹینک کے ذریعے خان صاحب ہر راستے میں آنے والی گاڑی کے اوپر سے گزر سکتے ہیں اور گاڑی کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ اس سے شہریوں کو پیش آنے والی تمام مشکلات سے نجات ملے گی اور ملک دشمن کتوں کے دلوں میں خوف بھر جائے گا۔ جب ناقدین نے کہا کہ ٹینک کا استعمال  سادگی کے اصول کے خلاف ہو گا تو مشہور ریاضی دان اور اکانومسٹ فرخ سلیم نے اس اعتراض کو یکسر مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا: اگر آپ فرض کریں کہ  بنی گالہ جاتے ہوئے عمران خان 10 درختوں کو گراتے اور 5 گاڑیوں کو تباہ کرتے ہیں اور ہر کار 10 ہزار روپے کی پڑتی ہے تو ہمیں یہ چکر صرف 1500 ڈالر میں پڑے گا۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ملک  میں  1 ارب درخت لگائے ہیں اور اگر ایک درخت کی قیمت 1 ڈالر ہو تو  بھی عمران کے آنے جانے سے جتنے درخت گرتے ہیں اس کے بعد بھی ملک کو بے تحاشا منافع حاصل ہے۔

مسٹر فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملکی معیشت میں  99 کروڑ 99 لاکھ 98 ہزار 500 ڈالر کا اضافہ محض ٹینک کے استعمال سے  ہی کر دیا ہے جو کہ ایک حیران کن بات ہے۔ ایک اور میڈیا پر رہنےو الی معروف شخصیت مسٹر وجاہت خان نے  عمران خان کے اس عمل کو بے مثال اور نا قابل یقین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹینک کے ذریعے سفر کا عمل آ ج سے کئی برس پہلے شروع کیا جانا چاہیے تھا۔

البتہ وزیر نے  اس بارے میں کوئی معلومات دینے سے گریز کیا کہ حالیہ دورہ میں عمران خان نے کنوینش سینٹر کو کیوں اڑا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے ایسی کسی بھی خبر کو مسترد کر دیا کہ عمران خان نے غلطی سے  اس وقت دوسرا بٹن دبا دیا جب وہ فرانسیسی صدر کی کال موصول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: یہ بلکل من گھڑت بات ہے او ر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *