عارضی اتحادی

"محمد ضیا الدین"

پہلے ہم افغان کولڈ وار میں امریکہ کے خاص اتحادی تھے ۔ نائن الیون کے بعد اہم نان نیٹو ااتحادی بنے اور اب محض عارضی اتحادی رہ گئے ہیں۔ جیسے ہی افغان جنگ اپنے سب سے زیادہ جارحانہ دور میں داخل ہوئی  اور واشنگٹن نے  اس جنگ میں بھارت کو بھی کردار دینے کا فیصلہ کیا تو  ٹاپ امریکی عہدیدار بھارت جاتے ہوئے کچھ وقت کے لیے پاکستان میں بھی ٹھہر جاتے  ہیں تا کہ صورتحال کا اندازہ لگائیں۔ زیادہ تر اس موقع پر ان کا یہی پیار بھرا پیغام پاکستان کےلیے ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی خدمات میں تیزی اور بہتری لائے۔ ڈو مور کے بار بار کے مطالبات سے تنگ آ کر ہم نے اس کا ہم وزن نعرہ ڈھونڈ نکالا اور نو مور کی  رٹ لگانا شروع کر دی۔ جب ٹرمپ نے  پاکستان کے بارے میں سخت زبان استعمال کی اور پاکستان کے کردار کے بارے میں ہتک آمیز رویہ اختیار کیا تو  پاکستان کو محسوس ہوا کہ پاک امریکہ تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے اور  برابری کی سطح پر پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔

اس سے قبل امریکی سیکرٹری خارجہ کی طرف سے عمران خان کو جو کال آئی تھی مبارکباد کے لیے اس کے دوران گفتگو پر بھی دونوں ممالک کے عہدیداروں کے بیانات میں اختلاف واقع ہوا۔ 5 ستمبر کو امریکی سیکرٹری خارجہ کے مختصر دورہ پاکستان کے دوران بھی ہمارے دفتر خارجہ اور امریکی سیکرٹری خارجہ کے بیانات میں بھی  واضح اختلاف نظر آیا۔ ہمارے موقف کے بر عکس امریکی سٹیٹ دیپارٹمنٹ کے جاری بیان میں یہ دعوی کیا گیا کہ امریکی ٹیم نے پاکستان کو واضح طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ علاقائی امن اور استحکام کو متاثر کرنے والے دہشت گردوں اور ملی ٹینٹس کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کریں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بار  بات چیت کے دوران ڈو مور کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے  لیکن یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ  اس بار زیادہ تفصیلات  کے ساتھ الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ جاری کیا گیا ہے ۔ مزید رسوائی کی بات یہ ہے کہ اس بار صرف طالبان کے خلاف کاروائی کا کہنے کی بجائے پورے علاقے میں دہشت  گردی کے خلاف کاروائی کا کہا گیا ہے یعنی بھارت  میں دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا گیا ہے ۔

ادھر بھارت دورہ پر جب پومپیو پہنچے تو وہاں انہون نے  بھارتی  وزیر خارجہ سوشما سوراج سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں  سوشما سوراج نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے بیچ دہشتگردی کے خلاف  کوآپریشن نئی سطح پر پہنچا ہے  اور دونوں ملکوں نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ  ہر بین الاقوامی فورم پر، اقوام متحدہ میں اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سطح پر اس تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا: امریکہ کے حال ہی میں لشکر طیبہ کو دہشت گرد تنظیم ڈیکلئر کرنے کے فیصلے کو بھارت سراہتا ہے۔ اس فیصلے  سے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر امریکہ کی کاوش میں سنجیدگی نظر آتی ہے، اس دہشت گردی کے خلاف جو پاکستان سے شرو ع ہو کر بھارت اور امریکہ دونوں کو بیک وقت متاثر کرتی ہے۔ ممبئی حملوں کی دسویں برسی کے موقع پر   ہم نے ان دہشت گرد حملوں کے ماسٹر  مائنڈز کو سزا اور مظلوموں کو  انصاف کی اہمیت کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سوشما سوراج نے مزید کہا: بھارت ٹرمپ کی ساوتھ ایشیا پالیسی سے متفق ہے  اور  پاکستان پر سرحد پار  دہشت گردی روکنے کے خلاف دباو کی پالیسی  کو بھی بھر پور سراہتا ہے۔ دونوں ممالک کےعہدیداروں نے  افغانستان سے متعلقہ اہم معاملات پر  بھی گفتگو کی اور اہم معلومات کا تبادلہ خیال کیا۔

یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم سوتے میں دشمن کے علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہم اپنے ہمیشہ کے دوست چین پر بھروسہ کر تے ہوئے امریکہ انڈیا پریشر سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن چین اپنی تجارتی جنگ میں بھی مصروف ہے  اور بھی حال ہی میں بڑی مشکل سے بھارت کےساتھ بارڈر کے مسئلے سے نمٹنے میں کامیاب ہوا ہے۔  اس لیے ہمیں اپنی جنگیں اپنے بل بوتے پر لڑنی ہوںگی اور دوسروں پر انحصار سے گریز کرنا ہو گا۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں افغانستان اور بھارت کی پالیسی کو دوبارہ سے پرکھنا ہو گا۔ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے لیے بہترین چیز یہ ہوگی کہ وہ اپنی پالیسی کو دوبارہ سے مرتب کرے  اور اس کے لیے اس بات کر نظر میں رکھا جائے کہ امریکہ جلد یا بدیر افغانستان جنگ سے نکل کر جانےوالا نہیں ہے۔ اسکے علاوہ ہمیں چاہیے کہ افغانستان اور بھارت کو پاکستانی راستہ کے زریعے تجارت کی اجازت دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات میں بہتری لانا ہو گی۔ اس طرح ہم ریجنل اکانومی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ااور اس سے استفادہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف امن عمل میں آسانی ہو گی بلکہ  علاقے میں کروڑوں غریب عوام  کی ترقی کا عمل بھی شروع  ہو سکے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *