چندہ کہانی

پہلے یتیم خانے کا ممتہم کالی عینک لگا کر چندہ مانگتا تھا۔
پھر مدرسے کا مولوی چندہ مانگنے لگا۔
اس کے بعد مسجدیں چندے پر بننے لگیں
مسجدوں اور مدرسوں کی انتظامیہ ان چندوں پر پلنے لگی۔
خانقاھوں اور مزاروں پر چندے میں تیزی آتی گئ۔ اور دھڑا دھڑ نوٹ گننے شروع ھوے۔
مقدس مذھبی اشیاء دکھا کر چندہ مانگا گیا۔
پھر زلزلوں ، سیلابوں اور قدرتی آفات کا مقابلہ چندے سے شروع ھوا۔
پھر چندے سے خیراتی ھسپتال بناے گئے۔
چندے سے اسکول کھولے گئے۔
پھر ماڈرن چیریٹی تنظیمیں آ گئیں ۔ انہوں نے شاعروں اور علماے اکرام کو ھائر کیا۔ اور بین الاقوامی دوروں پر نکل کھڑے ھوے۔ افریقہ کے قحط کے مارے اور پاکستان کے پیاس کے مارے لوگوں کے نام پر چندہ بازی شروع ھوئ۔
پھر ٹی وی چینلز پر چندہ دو جنت لو کا کاروبار شروع ھوا۔
پھر کھلاڑیوں کی چندہ مار مہم شروع ھوئ۔
تب چند گویے اور سنگر بھی لنگوٹ کس کر نعتیں پڑھنے لگے اور چندہ اکٹھا کرنے لگے۔ یہ رومان پرور فضاء بنائ گئ۔ اللہ نے ان کی کایا کلپ کر دی ھے۔
اب حکومت اس منافع بخش چندہ بزنس میں شامل ھو گئ ھے۔ بجائے اس کے کہ حکومت کوئ مضبوط معاشی پالیسیوں سے ریاست کی آمدن بڑھاے اور عام لوگوں کی ان چندہ باز کاریگروں سے جان چھڑواے ۔ وزیراعظم خود کالی عینک لگا کر حب الوطنی کے نام پر اپنے شہریوں کی جیب خالی کروانے لگا ھے۔ بڑے بڑے ادارے اس چندہ مار مہم میں شامل ھیں ۔ ھمارا مطالبہ ھے اسے قانونی اور آئینی تحفظ بھی فراہم کیا جاے ۔ اور تمام سطحوں پر چندہ مہمات کو ایک قومی تشخص قرار دیا جاے۔
بات سروں کی قربانی سے ڈالروں کی قربانی تک جا پہنچی ھے۔ محب وطن لوگ ھیں ۔ قوم کا درد بے شمار ھے۔ کردہ ناکردہ گناہوں کے عذاب میں گرفتار ھیں ۔ جنت کے طلبگار ھیں ۔ بلیک منی کو چندوں کے ذریعے حلال کرنا چاھتے ھیں ۔ محنت کی کمائ میں اضافہ چاھتے ھیں ۔ گھر میں کوئ بیمار ھے۔ کوئ خواہش کوئ ضرورت بیچ بازار ھے۔ اللہ کی خوشنودی درکار ھے۔ معاشرے میں عزت کی چاہ ھے۔ کوئ سیاسی ، عدالتی ، ٹیکس چوری کا مفاد ھے۔ یا رومان پرور حماقت ھے۔ چندہ لینے والے بھی خوش دینے والے بھی خوش ۔
چندے پر ملک چلانا اور عوام چلانا ۔ معاشیات میں ایک نیا اضافہ ھے۔ اس کا یہ نام رکھتے ھیں ۔
جدید چندہ معاشیات کے چیدہ چیدہ نکات ، اسباب اور روحانی و مالی فوائد اور نتائج

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *