تدبیر سے ’’تدبیر لطیف‘‘ تک

اللہ اللہ کر کے الیکشن ختم ہوئے تھے اور ابھی مولانا فضل الرحمن کا ان الیکشنوں بارے مچایا جانے والا کہرام ٹھنڈا بھی نہیں پڑا اور ضمنی الیکشن آن پہنچے ہیں۔ شکست خوردگان کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کریں؟ جن کی ہارتے ہوئے پوزیشن اچھی تھی‘ وہ پرامید ہیں اور جو بری طرح ہارے ہیں‘ وہ موجودہ صورتحال میں مزید مایوس ہیں۔ لاہور کے حلقہ این اے 131 پر ہارنے والے سعد رفیق ان لوگوں میں سے ہیں‘ جو ضمنی الیکشن کے حوالے سے بہت ہی پرامید ہیں لیکن میانوالی ضلع بھر میں بدترین شکست کے بعد اب حلقہ پی پی 87 کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے وہاں کے مسلم لیگ (ن) والے بڑے مایوس نظر آتے ہیں۔ وہ اس ضمنی الیکشن کے حوالے سے وہاں کے مسلم لیگ (ن) والے بڑے مایوس نظر آتے ہیں۔ وہ اس ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان فرما رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنرل الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے پیش نظر اس ضمنی الیکشن میں بھی غیر جانبدار الیکشن کی کوئی توقع نہیں‘ لہٰذا وہ اس متوقع دھاندلی کے پیش نظر بائیکاٹ کا سوچ رہے ہیں۔
سعد رفیق کو محض 680 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ عمران خان نے 84313 ووٹ لئے اور سعد رفیق نے 83673 ووٹ لئے۔ اس سارے معاملے میں اہم بات یہ ہوئی کہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار سید مرتضیٰ احسن نے 9780 ووٹ لئے۔ مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ووٹ دراصل روایتی طور پر مسلم لیگ (ن) کے تھے‘ جسے ایک چکر کے ذریعے کسی اور کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا‘ لیکن یہ سب وہ باتیں ہیں ‘جو ہمارے ہاں ہارنے والے ہر صورت میں کرتے ہیں‘ لہٰذا ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ‘لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ مقابلہ زور دار تھا اور سعد رفیق نے عمران خان جیسے ہیوی ویٹ کو ایک بار تو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ خیر سے سعد رفیق خود بھی لوہے کے چنے تھے‘ لیکن سپریم کورٹ جا کر وہ ''تھوتھے‘‘ بن گئے اور ''تھوتھا چنا باجے گھنا‘‘ کے مطابق وہ ابھی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں‘ جو دوسرے ‘چوتھے کچھ نہ کچھ لیتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں یہ بھی بہت ہے کہ وہ بہت سے دیگر لوگوں کی طرح منظر سے غائب نہیں ہوا۔
سعد رفیق قومی اسمبلی کی نشست این اے 131 سے تو ہار گیا‘ لیکن پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 168 لاہور پچیس سے جیت گیا۔ اب گمان غالب ہے کہ وہ این اے 131 سے ضمنی الیکشن لڑے گا‘ جہاں متوقع طور پر اس کا مقابلہ ہمایوں اختر سے ہوگا۔ ہمایوں اختر پیسے والا بھی ہے اور کاریگر بھی۔ پیسے بارے تو کافی قصے کہانیاں ہیں‘ لیکن کاریگری اس کی ذاتی خوبی ہے اور گمان غالب ہے کہ یہ خوبی خداداد ہے‘ وگرنہ کوئی اپنی ذاتی محنت سے اتنا کاریگر بہر حال نہیں بن سکتا‘ خواہ وہ کتنا بھی زور کیوں نہ لگالے۔ 1990ء سے 2007ء تک موصوف لگاتار چار بار قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ اس دوران 1997ء سے 1999ء تک بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین رہے۔ 2002ء سے 2007ء تک ٹریڈ اینڈ کامرس کی فیڈرل منسٹری فرمائی۔ پہلا الیکشن آئی جے آئی کی طرف سے جیتا۔ دوسرا الیکشن 1993ء میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے لڑا اور جیتا۔ تیسرا الیکشن 1997ء میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے لڑا اور اعتزاز احسن کو ہرایا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف نے تینوں الیکشن لاہور کے مختلف حلقوں سے لڑے۔
1999ء میں پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ہمایوں اختر نے تھوڑا سا برا وقت دیکھا۔ چند ماہ گھر کی نظر بندی اور نیب کی تحقیقات۔ موصوف مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے۔ الیکشن 2002ء میں اپنے مضبوط گڑھ سے مسلم لیگ (ن) کے اکرم ذکی سے بمشکل ایک ہزار ووٹ سے جیت پائے۔ ہمایوں اختر وزارت ِعظمیٰ کا امیدوار بھی تھا‘ مگر بالآخر فیصلہ ظفر اللہ جمالی کے حق میں ہوا۔ 2008ء کا الیکشن پھر (ق) لیگ سے لڑا اور غالباً دو حلقوں سے شکست کھائی۔
پھر پی ٹی آئی کو ہروانے کے لئے ہم خیال گروپ کے لیڈر کے طور پر مسلم لیگ (ن) سے الحاق کیا۔ مسلم لیگ (ن) نے پہلے قومی اسمبلی سے ٹکٹ دیا‘ پھر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واپس لے لیا۔ پانچ سال کی سیاسی گمنامی کے بعد موصوف 2018ء میں تحریک انصاف میں شامل ہوگئے اور اب ضمنی الیکشن کے لئے حلقہ این اے 131 کی ٹکٹ پی ٹی آئی سے مارلی ہے۔ رہے نام اللہ کا۔
ڈیرہ غازی خان کے لغاری برادران نے اپنے نمبر ٹانکنے کی غرض سے شہباز شریف کو حلقہ این اے 192 سے اپنی آبائی سیٹ سے الیکشن لڑوانے کی آفر کر دی۔ جب سے زیادہ سے زیادہ سیٹوں سے لیڈروں کے الیکشن لڑنے کا رواج پڑا ہے‘ لیڈر اپنی آبائی سیٹ کے علاوہ بھی دو چار ادھرادھر کی سیٹوں پر ہاتھ صاف کرنے لگ پڑے ہیں۔ عمران خان نے پانچ جگہوں سے الیکشن لڑا۔ میانوالی کے علاوہ بنوں‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی سے الیکشن لڑ کر جیتا۔ میانوالی کی سیٹ اپنے پاس رکھی اور باقی چار سے استعفیٰ دے دیا۔ اب ان چار سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں‘ یہ سارا خرچہ سرکار کی جیب سے جا رہا ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ آئندہ ایسی سیٹیں‘ جو دوسری‘ تیسری یا چوتھی خالی کردہ سیٹیں ہوں‘ وہاں کے ضمنی الیکشن کا خرچہ سیٹ چھوڑنے والے سے وصول کیا جائے‘ مگر یہ تجویز کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ شہباز شریف لاہور کے علاوہ سوات‘ ڈیرہ غازی خان اور کراچی سے امیدوار سے لاہور کے علاوہ باقی تینوں سیٹوں سے ہار گئے۔
ڈیرہ غازی خان کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 191 شہر اور ملحقہ علاقوں بشمول سخی سرور اور کچھ قبائلی علاقہ پر مشتمل ہے۔ این اے 192 چوٹی زیریں‘ چوٹی بالا‘ کوٹ چھٹہ، فورٹ منرو سے لیکر بواٹہ تک ہے۔ یہ سارا حلقہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے دریا سے لیکر پہاڑ تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں لغاری سرداروں کا حکم چلتا ہے۔ اویس لغاری نے سوچا کہ وہ این اے 191 سے الیکشن لڑتا ہے۔ وہاں پر پی ٹی آئی کی زرتاج گل امیدوار ہے۔ خاتون ہے اور ڈیرہ غازی خان جیسے پسماندہ قبائلی رسم و رواج اور خواتین کے حوالے سے قدامت پسند سوچ والے علاقے میں عورت کو ہرانا کونسا بڑا کام ہے۔ گزشتہ الیکشن میں بھی ہم اس کو ہرا چکے ہیں‘ لہٰذا اویس لغاری یہاں سے الیکشن پر کھڑا ہوگیا۔
لغاریوں کی اصل سیٹ یعنی تمن لغاری والی سیٹ پر ان کے سردار جمال خان لغاری نے الیکشن لڑنے کی بجائے یہ سیٹ شہباز شریف کو ''گفٹ‘‘ کر دی۔ لفظ گفٹ اس لئے لکھا ہے کہ لغاری برادران کو یقین کامل تھا کہ شہباز شریف یہ سیٹ جیت جائے گا‘ تاہم انہیں یہ بھی یقین تھا کہ میاں شہباز شریف اس سیٹ کے علاوہ کہیں اور سے جیتے یا نہ جیتے‘ لیکن لاہور سے تو یقیناجیت جائے گا۔ اور لاہور سے جیتنے کے بعد وہ لاہور کی سیٹ اپنے پاس رکھے گا اور ڈیرہ غازی کی نشست این اے 192 چھوڑ دے گا۔ اس سیٹ پر ضمنی الیکشن ہوگا اور پھر اس سیٹ پر‘ جو گھر کی سیٹ ہے سردار جمال خان لغاری الیکشن لڑے گا‘ جیت جائے گا‘ لیکن سب کچھ الٹ پلٹ ہوگیا۔
زرتاج گل نے اویس لغاری کو نہ صرف شہر میں بدترین شکست دی ‘بلکہ سخی سرور اور قبائلی علاقہ سمیت پچیس ہزار کے لگ بھگ ووٹوں سے شکست دی۔ ادھر حلقہ این اے 192 میں مقصود خان لغاری کے بیٹے محمد خان لغاری نے شہباز شریف کو تیرہ ہزار ووٹوں سے ہرا دیا۔ محمد خان لغاری این اے 192 اور پی پی 292 دونوں سیٹوں سے جیت گیا۔ بعدازاں قومی اسمبلی کی سیٹ رکھ کر صوبائی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوگیا۔ اب اس صوبائی سیٹ پر سردار مقصود خان لغاری امیدوار ہے اور لغاری برادران فارغ ہیں۔ اویس خان لغاری کے ساتھ تو زرتاج گل اور پی ٹی آئی نے جو کیا سو کیا۔ سردار جمال لغاری کے ساتھ تو اس سے بھی بڑا ہاتھ ہوگیا۔ حلقہ این اے 192 پر شہباز شریف کو ''اوبلایج‘‘ کرنا تھا اور گھر کی سیٹ پر ضمنی الیکشن میں کامیاب ہو کر مزے بھی کرنے تھے‘ مگر انسان کی ساری تدبیریں بھلا کب کامیاب ہوتی ہیں۔ تدبیروں سے اوپر بھی ایک طاقت ہے ‘جسے ہم تدبیر کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں اور یہی ہماری بھول ہے۔ اس سلسلے میں بانو قدسیہ کا افسانہ ''تدبیر لطیف‘‘ پڑھنے کی چیز ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *