شہزاد اکبر جیسے ’’کشتہ فروش‘‘

وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی عمران خان صاحب نے جو کابینہ تشکیل دی اس میں شہزاد اکبر کا نام بھی سامنے آیا۔
موصوف قومی اسمبلی یا سینٹ کے رکن نہیں ہیں۔انہیں کبھی تحریک انصاف کے دھرنوں اور جلسوں میں بھی متحرک نہیں دیکھاگیا۔ٹی وی ٹاک شوز دیکھنے والے اگرچہ ان کو 2010ء سے پہچانتے ہیں۔ اس سال ان صاحب نے جو خود کو بین الاقوامی قوانین وغیرہ کا وکیل کہتے ہیں اسلام آباد میں تعینات سی آئی اے کے نمائندے کا نام دریافت کیا۔ اس کے خلاف مقامی تھانے میں باقاعدہ رپٹ درج کروائی۔ الزام ایک قتل کا لگایا جو امریکی ڈرون طیاروں سے میزائل گرا کر پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہوا تھا۔
مقامی پولیس روایتی سستی کی وجہ سے سی آئی اے کے سٹیشن چیف جیسے تگڑے ملزم کے خلاف رپٹ درج کرنے سے گھبراتی رہی۔ بالآخر ان صاحب کو عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ رپٹ بالآخر درج ہوگئی۔ اس دوران مگر ملزم پاکستان سے فرار ہوچکا تھا۔ اس کے فرار کے بعد بھی اگرچہ ڈرون حملے جاری رہے۔ آخری بڑا حملہ طالبان کے امیر ملا منصور اختر پر ہمارے کسی قبائلی علاقے میں نہیں بلکہ کوئٹہ سے افغانستان جانے والی سڑک پر واقعہ ایک مشہور قصبے-نوشکی- میں ہوا تھا۔
ملا منصور کی ڈرون حملے کے ذریعے ہلاکت کی خبر سابق امریکی صدر اوبامہ نے بذاتِ خود ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑے ہوکر دی تھی۔ یہ خبر Break کرتے وقت وہ ویت نام کا دورہ کررہا تھا۔ شہزاد اکبر صاحب مگر اس حملے کو ہضم کر گئے۔ شاید اس لئے کہ ویت نام اسلام آباد کے کسی تھانے کی حدود میں واقع نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے کہ شہزاد اکبر اس ہلاکت کو اس وجہ سے بھی نظرانداز کرنے پر آمادہ ہوئے کیونکہ ملا منصور اختر پاکستانی نہیں ایک افغان تھا۔ اگرچہ اس نے اپنی سہولت کے لئے پاکستانی شہریت کا شناختی کارڈ بھی بنوارکھا تھا۔
ڈرون حملوں کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرنے شہزاد اکبر جب ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوتے تو ان کا تعارف نیب کے ایک سابق پراسیکیوٹر کے طورپر بھی کروایا جاتا۔ ہمیں آج تک لیکن کسی نے تفصیل سے نہیں بتایا کہ اپنی اس حیثیت میں شہزاد اکبر صاحب نے کرپشن کے کونسے Mega Casesکا تعاقب کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کو کیفردار تک پہنچایا تھا۔
نیب کے وکیل ہوتے ہوئے شہزاد اکبر صاحب نے البتہ کچھ اہم حقائق جمع کرلئے ہوں گے۔ انہیں کسی ملاقات میں عمران خان صاحب کے روبرو رکھ کر اس امر پر قائل کرلیا ہوگا کہ اگر ان حقائق کی بنیاد پر کچھ لوگوں کی گرفتاری کا بندوبست ہو جائے تو قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا خاطرخواہ حصہ پاکستانی خزانے میں واپس لایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے قومی اسمبلی یا سینٹ کا رکن نہ ہوتے ہوئے بھی وہ وفاقی کابینہ کے رکن بنادئیے گئے۔ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی۔ شاید ان کی معاونت پر بھروسہ کرتے ہوئے عمران خان صاحب نے وزارتِ داخلہ کا عہدہ اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ چند دنوں بعد اگرچہ احساس ہوا کہ ’’ایہہ کلے بندے دا کم نئیں‘‘۔ کوہاٹ کے شہریارآفریدی کو اس محکمے کا چھوٹا وزیر بنادیا۔ نیب کے معاملات کے نگہبان اگرچہ شہزاد اکبر ہی رہے۔
بہت عرصے سے مگر ہم کو بتایا جارہا تھا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے۔ اس کا چیئرمین،وزیر اعظم اوراس کی کابینہ کو جوابدہ نہیں۔ چیئرمین نیب مگر عمران خان صاحب کو وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ ملنے پر مبارک دینے چلے گئے۔ ان کی اس ضمن میں وزیر اعظم سے جو ملاقات ہوئی اس میں شہزاد اکبر بھی موجود تھے۔ ہمیں یہ احساس ہوا کہ 25جولائی 2018ء کے روز برپا ہوئی تبدیلی کے بعد ان صاحب کا رُتبہ نیب کے سپرچیئرمین جیسا ہوگا۔ یہ کرپشن کے خلاف جہاد پر مامور ادارے کے فکری رہبر ہوں گے۔
چیئرمین نیب کی وزیر اعظم سے ملاقات کے چند روز بعد وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں لئے فیصلوں کی روئیداد سنانے فواد چودھری صاحب جب پی آئی ڈی کے بریفنگ ہال میں تشریف لائے تو شہزاد اکبر ان کے دائیں ہاتھ موجود تھے۔ وزیر اطلاعات کے بجائے شہزاد اکبر صاحب نے مائیک پر زیادہ وقت لیا۔ قوم کو یہ خوش خبری سنائی کہ غیر ملکی بینکوں میں رکھی قوم کی لوٹی ہوئی رقوم کو قومی خزانے میں واپس لانے کا لائحہ عمل طے کرلیا گیا ہے۔ شریف خاندان نے لندن کے ایون فیلڈ والے فلیٹ بھی کرپشن کے ذریعے کمائی دولت اور اس دولت کو منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل ہوئی رقوم کے ذریعے خریدے ہیں۔ احتساب عدالت نے اس حوالے سے فیصلہ سنادیا ہے۔ اس فیصلے کو اب برطانوی عدالت کے روبرو رکھا جائے گا۔ شہزاد اکبر صاحب نے قوی امید دلائی کہ ان کی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے بنائی حکمت عملی کے طفیل برطانوی عدالت ان فلیٹوں کو قرق کرنے کے احکامات جاری کردے گی۔ پاکستان ان فلیٹوں کی ملکیت کا دعویٰ کرے گا۔ ہمیں ان فلیٹوں کی چابی مل گئی تو انہیں نیلام کرکے قومی خزانے میں لوٹی ہوئی دولت واپس آجائے گی۔
شہزاد اکبر صاحب پنجابی والے ’’پولے منہ‘‘ کے ساتھ مذکورہ پریس کانفرنس میں جو داستان سنارہے تھے قانونی امور کے بارے میں مجھ جیسے قطعی نابلد شخص کو بھی قطعاََ دونمبری لگی۔ کئی بار اس کالم میں اس برطانوی قانون کا ذکر ہوا ہے جو حال ہی میں متعارف کروایا گیا ہے۔Unexplained Wealth Order(UWO)اس کا نام ہے۔ اس قانون کے تحت مشکوک ذرائع سے خریدی برطانیہ میں کسی جائیداد کے مالک کو یہ بتانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ اس نے مشتبہ تصور ہوئی جائیداد خریدنے کے لئے پیسہ کہاں سے حاصل کیا۔ مشتبہ ٹھہرایا شخص برطانوی حکام کو مطمئن نہ کرپایا تو اس کی جائیداد ضبط کرکے نیلام کردی جائے گی۔ نیلامی کے ذریعے حاصل ہوئی رقم لیکن صرف برطانوی خزانے میں جمع ہوگی۔ اس قانون کو بارہا پڑھنے کے باوجود میں اب تک دریافت نہیں کر پایا کہ ایون فیلڈ فلیٹس کی قرقی اور نیلامی مالی اعتبار سے پاکستان کے لئے کیسے مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ شہزاد اکبر صاحب جیسے سپرسمجھ دار وکیل اگر کوئی راستہ نکال بھی لیں تو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہی موجود نہیں جو نیلامی کے ذریعے حاصل ہوئی رقوم کا چاہے کچھ حصہ ہی پاکستان لانے کو یقینی بناسکے۔
مجھے شبہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو بھی اب یہ حقیقت دریافت ہوگئی ہے۔ اسی باعث قوم سے خطاب کے ذریعے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی درخواست کرنے پر مجبور ہوئے۔ سوال اب یہ اٹھتا ہے کہ اگر عمران خان صاحب کو اپنی کرشماتی شخصیت کو وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی قوم سے چندہ جمع کرنے کے لئے ہی استعمال کرنا ہے تو شہزاد اکبر صاحب جیسے کشتہ فروش ان کی حکومت میں قومی اسمبلی یا سینٹ کے رکن نہ ہونے کے باوجود بھی وفاقی وزیر والی سہولتوں سے لطف اندوز کیوں ہورہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *