مجھے عمران پر ترس آتا ہے۔ ریحام خان

عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے ایک اہم تفصیلی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے  اپنی کتاب اور اپنے سابق خاوند عمران خان کے بارے میں بات کی لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح ایک اچھی ماں بننا ہے۔

چنائی

ریحام خان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے ریحان نے ان کو اپنی کتاب مکمل کر کے شائع کرنے پر آمادہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران سے کسی قسم کی کڑواہٹ نہیں رکھتیں  لیکن پاکستان میں سیاسی معاملات پر اپنی آواز اٹھاتی رہیں گی۔ ملاحظہ کیجئے مکمل انٹرویو

اس وقت آپ اور عمران خان کے بیچ ایک منفی سوچ اور نفرت کی کہانی نظر آتی ہے  اور یہی نظریہ عوام کے اندر پایا جاتا ہے۔ لیکن ایسی کیا چیز تھی جس نے آپ کو عمران سے  شادی کرنے پر آمادہ کیا؟

میں نے ان سے شادی کرتے وقت یہ خیال کیا تھا کہ وہ ایک ایماندار آدمی ہیں  جو ایک بہترین مسلمان بننا چاہتے ہیں  اور اپنی  پرانی زندگی میں ایک تبدیلی لانا چاہتے ہیں جیسا کہ ان کے اپنے الفاظ ہیں۔ انہوں نے مجھ سے سپورٹ اور مدد کی درخواست کی تھی۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اصل میں وہ ایسے انسان نہیں تھے جیسا میں نے سمجھا تھا  ۔ وہ اپنی عادات بدلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ میری ان سے ذاتی کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ مجھے ان پر ترس آتا ہے کیونکہ ان کے فینز ان کو بہت چاہتے تھے جب سے وہ کرکٹر تھے اس وقت سے   لیکن اب وہ اپنی شخصیت کے ایسے پہلو سامنے لا رہے ہیں جن کی بدولت انہین ہر طرف سے تنقید کا سامنا کرنا ہو گا۔ میں انہیں اس طرح سے گرنے نہیں دینا چاہتی تھی اور میں نے پوری کوشش بھی کی لیکن  میں ناکام رہی کیونکہ انہیں کسی بھی حالت میں وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنا تھا۔

آپ کی کتاب ایک پنڈوراباکس کی طرح ہے جس میں پاکستانی سیاستدانوں کو بری طرح ایکسپوز کیا گیا ہے ۔ آپ کو اس طرح کی بہادری کے لیے طاقت کہاں سے ملی  کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ ا س سے آپ کو بہت دھمکیاں بھی ملیں گی؟

میری زندگی کی ہر مشکل میں میرے بچوں نے میرا ساتھ دیا ہے ۔ اگرچہ میرے بچے ہر وقت میرا حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں لیکن کتاب کے معاملے میں خاص طور پر میرےبیٹے ساحر نے میری بہت مدد کی ہے اور بہت سی چیزیں جو میں ترتیب سے نہیں لکھ پا رہی تھی وہ مکمل کرنے مین اس نے میری بہت مدد کی ہے۔  پبلش کرنے کے طریقہ کار ، پروف اور کاپی ایڈیٹرز کی تلاش، یہ سب کام اس نے کیے اور مجھے ایک مکمل کتاب دی۔ اس کے بغیر میرے لیے یہ کبھی ممکن نہ تھا۔ میرے بچے میرے مقصد سے واقف ہیں اس لیے انہوں نے بہت سی تکالیف اٹھائیں۔ وہ اندرونی طور پر بہت مضبوط اور غیر معمولی انسان ہیں۔ انہیں مختلف قسم کے طریقے سے تنگ کیا گیا، سکول، گھر  اور دوسری جگہوں پر پریشان کیا گیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور سب کچھ خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی کتاب جھوٹ اور پروپیگنڈہ کا مجموعہ ہے ۔ ایک صحافی کی حیثیت سے آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ  کی کتاب با مقصد  ہے یا محض ذاتی عناد نکالنے کا طریقہ؟

یہ دعوی صرف پی ٹی آئی والے کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ کتاب 200 فیصد سچائی پر مبنی ہے۔  کتاب صرف سچائی سامنے لانے کی غرض سے لکھی تھی  جس میں اپنی قوم اور ملک ی سیاسی صورتحال کے بارے میں آگاہی لانا مقصد تھا۔ میرے لیے عمران ایک سیاستدان سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہیں۔ جولوگ مجھے قریب سے جانتے ہیں  انہیں معلوم ہے کہ  میں اپنے اور فیملی ممبرز کے بارے میں بہت حساس ہوں۔

اس الزام کا آپ کیا جواب دیں گی کہ آپ نے جان بوجھ کر کتاب کی ریلیز کاوقت الیکشن کے قریب رکھا؟

میں ان الزامات کی پرواہ نہیں کرتی۔ مجھ پر اور بہت سے الزامات لگائے گئے ہیں۔ میں ان کو  کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ میں اپنے لحاظ  سے وقت کا تعین کرتی ہوں ۔ میں یہ البتہ خیال رکھتی ہوں کہ لوگ کتاب کے ذریعے یہ جان پائیں کہ کون کیا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہیلی کاپٹر کے استعمال کے بارے میں میں نے کئی بار ذکر کیا ہے تا کہ لوگ سرکاری املاک کے غلط استعمال کے بارے میں جان پائیں  کہ کیسے عمران خان دن میں دو بار ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ کتاب میں ان کے شاہانہ لائف سٹائل اور پارٹی کی عادت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ لوگ ان سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ ایک سادہ اور منظم طریقے سے زندگی گزارنے والے انسان ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی بھی اس کتاب کے ذریعے سے عمران کے بارے میں غلط فہمی دور ہو سکتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی اپنی کتاب کو فلم کی شکل میں ڈھالنے کا سوچا ہے؟

کتاب لکھنے سے قبل مجھے اس پر فلم بنانے  اور نیٹ سیریز کی آفر ز آ چکی ہیں۔ ہم سب سے بہترین  آپشن کی تلاش میں ہیں  کیونکہ ہم اس کا تخلیقی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ فلم میں ہم زیادہ مواد دکھا کر زیادہ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔

آپ کا   ایک بہت اچھا ریکارڈ ہے۔ آپ نے مشہور میڈیا ہاوسز میں کام کیا ہے لیکن پھر بھی لوگ آپ کو عمران کی سابقہ بیوی کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس سے آپ کو پریشانی نہیں ہوتی؟

یہ ان لوگوں کے لیے پریشان کن ہے جنہوں نے میری مشکلات دیکھی ہیں ۔ میں ایسی چیزون پر توجہ نہیں دیتی۔ عمران میری زندگی کا حصہ رہے ہیں اور اب وہ وقت میرا ماضی بن چکا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ مجھے عمران کی سابقہ اہلیہ کے نام سے پکاراجاائے۔ اس کے علاوہ چونکہ بھارت میں بہت سے لوگ ان کو جانتے ہیں اس لیے معاملات کے سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے بھی ان کا نام میرے نام کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں یہ صورتحال نہیں ہے ۔ میں خود  بھی سوشل ایکٹوسٹ کی حیثیت سے ایک پہچان رکھتی ہوں۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میرے توجہ کا مرکز بننے کی بڑی وجہ وہی عمران سے شادی ہے۔ ذاتی طور پر  تو یہ اچھا نہیں لگتا لیکن میں برداشت کرتی ہوں  کیونکہ کہ اس سے مجھےایسا پلیٹ فارم  مل جاتا ہے جہاں میں اپنے متعلقہ مسائل عوا کے سامنے لا سکوں۔ بڑے فائدہ کے لیے ذاتی مسائل کو بھولنا بہتر ہے۔

آپ مستقبل میں سیاست میں قدم رکھنا چاہیں گی؟

میں پہلے بھی سیاست ہی کر رہی ہوں  میں ایسے ایشوز اٹھا رہی ہوں جو یا تو پہلے ہی سیاسی ہیں یا انہیں سیاسی ہونا چاہیے۔ سیاست کا مطلب صرف پارلیمنٹ میں بیٹھنا اور وزارت حاصل کرنا نہیں ہے۔ میرے  سیاسی عزائم میں ہمیشہ  حکومتی عہدوں کی خواہشات کی بجائے عوام کے لیے انصاف اور مساوات کے حصول کے لیے جد و جہد پر مبنی رہے ہیں۔ میں مارٹن لوتھر کنگ ، گاندھی، منڈیلا، ایمرلین پانک ہرسٹ جیسے لیڈرز عوام میں پیدا کرنا چاہتی ہوں  جو اپنے عوام کی صحیح طریقے سے نمائندگی کر سکیں ۔ اسی وجہ سے ہم نے عمران خان کو ووٹ دیا تھا لیکن وہ  بھی سٹیٹس کو کا حصہ بن گئے۔

کیا آپ واپس صحافت کے میدان میں آنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟

میں نے صحافت اس لیے ترک کی تھی کہ میری  دلچسپی کے موضوعات کو سپیس نہیں ملتا تھا ۔ مثال کے طور پر میں بچوں کے حقوق اور لاپتہ افراد پر تحقیقات پر پروگرام کرنا چاہتی تھی۔  جب میری شادی ختم ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ ٹی وی جنرلزم محض ایک پروپیگنڈہ میشنری کا ایک ہتھیار ہے۔میں اس شعبہ سے تعلق نہیں رکھ سکتی۔ اس وجہ سے میں نے ا یک یو ٹیوب چینل اور ایک ویب سائٹ   جاری کی جس کی مدد سے  کسی پارٹی کے مخالف ہوئے بغیر اہم سماجی معاملات پر بات چیت اور خیالات کا اظہار کیا جا سکتا تھا۔  میں نوجوان بچوں اور بچیوں کو صحافت کے میدان میں کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتی ہوں اور ان کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ میرا سوشل ایکٹوسٹ کی حیثیت سے  لائف سٹائل مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں باقاعدگی سے ٹی وی پروگرا م کے لیے وقت نکال سکوں۔

تین بچوں کی ماں ہوتے ہوئے آپ کے خیال میں ایسی کیا چیز ہے جو آپ اپنے بچوں کو سکھانا سب سے اہم سمجھتی ہیں؟

میں نے بچوں کو سکھایا ہے  کہ ہمیشہ ایمانداری  کی صفت اپنائیں، خود  سے ایمانداری کا معاملہ رکھیں اور باقی تمام لوگوں کے ساتھ بھی ایماندار رہیں۔ خوش رہنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اگر آپ خود سے ایماندار ہیں تو  آپ کو معاشرے کی غلامی نہیں کرنا پڑتی اور آپ آزادانہ زندگی جی سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ایماندار ہین تو  آپ کے تعلقات حقیقی اور خوشگوار رہیں گے۔

آپ پاکستان میں رہنا چاہتی ہیں یا واپس برطانیہ جانے کا ارادہ ہے؟

میں پاکستان میں ہی رہنا چاہتی ہوں۔ فی الحال میں کتاب کی پروموشن میں مصروف ہوں  اور رواں سال میری بیٹی کے جی سی ایس ای کے امتحانات بھی ہیں۔ وہ بہت چھوٹی ہے اور اکیلی برطانیہ میں نہیں رہ سکتی اس لیے مجھے اس کے پاس ہی رہنا ہو گا۔ البتہ پاکستان ہی میرا اصل گھر ہے  اور چاہتی ہوں کہ اپنے ملک کے مستقبل کےلیے کسی بھی طرح سے اپنا کردار ادا کرتی رہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *