مسلم لیگ ن کی واحد مرد صفت خاتون کلثوم نواز ہم سے بچھڑ گئیں

"گل بخاری"

تین بار پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کی بیوی  منگل کے روز لندن میں انتقال کر گئیں۔ ان کے جسم میں لمفوما نامی کینسر کی تشخیص اگست 2017 میں ہوئی تھی۔ تب سے لندن میں ان کا علاج جاری تھا اور بار بار حالت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں ہسپتال منتقل کیا جاتا تھا طویل علالت کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔بیگم کلثوم نواز 1990 سے 1993 تک، 1997 سے 1999 تک اور پھر 2013 سے 2017 تک خاتون اول رہنے کا اعزاز رکھتی ہیں۔ ہر بار ان کے خاوند کو مدت پوری ہونے سے پہلے ہی حکومت سے باہر کیا گیا جن میں سے دو بار فوجی بغاوت کے ذریعے اور تیسری بار عدلیہ کی  کے ذریعے انہیں باہر کیا گیا۔

گوال منڈی سے تعلق رکھنے والی ایک کشمیری خاندان میں پیدائش پانے والی  کلثوم نواز نے اسلامیہ کالج اور ایف سی کالج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی  اور اردو میں ایم اے  کیا۔ وہ 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ ن کی صدر بھی رہیں۔ وہ اپنے خاوند کی سب سے اہم راز دار اور مشیر تھیں  اور مشرف کی طرف سے بغاوت کے بعد وہ ان کی سب سے بڑی سپورٹر بھی تھیں۔ ان کی سیاسی سمجھ بوجھ، قابلیت اور  ہمت اس وقت سامنے آئی جب پرویز مشرف نے نواز شریف کو 12 اکتوبر 1999 کو حکومت سے برطرف کیا  اور جیل بھیج دیا۔ اپنے خاوند کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار  کلثوم نے ایک جارحانہ مہم  چلائی جس کا مقصد اپنے خاوند کو باہر لانا اور جمہوری حکومت کی بحالی تھا ۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب  ساری پارٹی قیادت فوج کے خوف سے تتر بتر ہو چکی تھی۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی کالمسٹ  محمد تقی نے کہا: عام حالات میں سیاست  کرنا  اور ڈکٹیٹر کے جبر کے سامنے کھڑے ہونا دو الگ باتیں ہیں ۔ اس معاملے میں کلثوم نواز نے بہادر پاکستانی خواتین جن مین فاطمہ جناح، بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بے نظیر  بھٹو اور بیگم نسیم ولی خان کی مثال پر عمل کرتے ہوئے ایک شاندار قومی خدمت انجام دی۔

اٹک قلعہ میں گفتگو کرتے ہوئے جہاں کلثوم کے خاوند قید تھے،  بیگم کلثوم نے مشرف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا  اور کارگل میں مشرف کے مس ایڈونچر کی  کہانی عوا م کے سامنے بیان کی۔ وہ پہلی سیاسی شخصیت تھیں جنہوں نے کارگل میں ہونے والی شہادتوں پر آواز اٹھائی  اور اس جنگ کو ایک بہت بڑا بلنڈر قرار دیا ۔ انہوں نے مشرف کو کارگل تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہ لانے پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کی سب سے اہم سیاسی جنگ جولائی 2000 میں ہوئی جب  کلثوم لاہور سے پشاور براستہ جی ٹی روڈ لانگ مارچ کے لیے نکلیں  جب فوج نے کسی بھی قسم کے جلسے جلوس پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اس وقت نواز شریف جیل میں تھے اور ان پر کرپشن اورا دہشت گردی  کے الزامات تھے  جن میں طیارہ سازش کیس کا خاص طور پر ذکر آتا ہے ۔ ہزاروں پارٹی کارکنان جیلوں میں تھے۔ ریلی والے دن کلثوم کے گھر کا محاصر ہ کر لیا گیا تھا گھر کے ارد گرد ہزاروں پولیس اہلکار تعینات تھے  اور ان پر فوج کا کنٹرول تھا۔ کلثوم نے کہا: کہ اگر انہیں ہاوس اریسٹ کر لیا گیا تو بھی ریلی ضرور نکلے گی۔

اس کے بعد انہوں نے کسی طرح پولیس کو چقمہ دے کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ لیا۔ جاوید ہاشمی کے ساتھ وہ لاہور کی سڑکوں پر مارچ کی قیاددت کر رہیی تھیں ۔ پولیس کو دس میل تک ان کی کار کا پیچھا بھی کرنا پڑا۔ مسلم لیگ ن کی واحد مرد کہلانے والی کلثوم  نواز  نے اپنی کار کے دروازے بند کر لیے اور پولیس کے ساتھ ایک عجیب سی صورتحال پیدا ہو گئی ۔ پولیس نے انہیں جان سے مارنے کی بھی دھمکی دی۔ اگلے دن ٹیلیگراف کی ہیڈ لائن میں لکھا تھا: "پاکستان میں پولیس چھاپوں کے درمیان شریف کی بیوی کی کار کو گھسیٹا گیا " بعد میں کار کو ایک کرین کے ذریعے ایک پولیس کمپاونڈ میں اس حالت میں لے جایا گیا کہ اس میں کلثوم نواز موجود تھیں۔

کمپاونڈ میں کچھ مکینکس نے کار کے دروازے کھولنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر ایک ایمبولینس بھی موجود تھی کیونکہ کار کے اندر بہت گرمی کی وجہ سے کوئی بھی خطرناک صورتحال پیش آ سکتی تھی۔ پولیس کے ساتھ 10 گھنٹے کی اس صورتحال کے بعد انہیں خود ڈرائیو کر کے واپس گھر جانے دیا گیا۔ بی بی سی ااور سیربین کے ساتھ جڑے رہنے والے صحافی شفیع نقی جامی نے  پرانی یادیں تازہ رکرتے ہوئے بتایا: میں نے بیگم کلثوم نواز کا ایک لائیو انٹرویو لیا  جب وہ اور جاوید ہاشمی کار میں پھنسے ہوئے تھے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ بھوک پیاس اور دوسری انسانی ضروریات کا کیا کریں گی تو ان کا جواب تھا: "ہماری پالیسی اس طرح کی مشکلات  کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے۔ "  مجھے ان کا انداز بیان حیران کن معلوم ہوا۔

اس ریلی میں ان کے ساتھ زیادہ لوگ شامل نہیں ہوئے۔ بہت سے پارٹی لیڈرز خفیہ طور پر ملٹری ڈکٹیٹر کے ساتھ ڈیل میں مصروف رہے   اور کچھ لوگ پولیس کے لاٹھی چارج کے ڈر سے چھپے رہے۔ ان میں سے بڑے نام میاں اظہر، خورشید قصوری، اور اعجاز الحق تھے۔ اس موقع پر کلثوم نواز نے کہا: مجھے نہیں پرواہ لوگ نکلتے ہیں یا نہیں۔ میں یہ جنگ اکیلی لڑ لوں گی۔ میں فوجی حکومت کے خلاف عوام کو حرکت میں لاوں گی۔ ان کی اپنی کتاب 'جبر اور جمہوریت' میں بہت سے پارٹی لیڈرز کی بے وفائی کی کہانیاں موجود ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ کلثوم پارٹی قیاددت اور اپنے خاوند کے بیچ پل کا کردار ادا کریں اور اس مقصد کے لیے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کئی دن تک بھوک ہڑتال بھی کی  اور مشرف کو بہت سے خط بھی لکھے جس میں نواز شریف سے ملنے کی اجازت طلب کی گئی  جب انہیں اٹک جیل میں رکھا گیا تھا ۔ ہزاروں ن لیگی ورکرز کو  گھروں سے پکڑ کر جیلوں  میں ڈالا گیا۔ بہت سے لیڈرز روپوش ہو گئے۔

شفی نقی جامی نے نواز شریف سے 2006 میں ملاقات کی جب وہ جلا وطنی کے دور سے گزر رہے تھے۔ شفیع نے کہا: میاں صاحب، کلثوم آپ سے بہتر بولتی ہیں ، بہتر مہم چلاتی ہیں اور  بہتر حکمت عملی تیار کرتی ہیں۔ میں نے انہیں تب دیکھا جب آپ جیل میں تھے۔ اب کلثوم کہاں ہیں؟ " نواز شریف نے مسکراتے ہوئے شفیع کی بات سے اتفاق کیا۔

جب پارٹی کا مشکل وقت ختم ہوا تو کلثوم ایک بار پھر گھر گھرستی کے کاموں میں مشغول ہو گئیں اور سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی۔ عباس ناصر جو ڈان گروپ کے سابقہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھے نے کہا: سیربین انٹرویو سے مجھے جو چیز ابھی تک یاد ہے یہ ہے کہ  میں یہ سمجھنے لگا تھا کہ وہ ن لیگ کے تمام لیڈران سے زیادہ سمجھدار اور چالاک ہیں۔  میں سوچ رہا تھا کہ پہلے سیاست میں کیوں نہ آئیں؟ شریف خاندان کے  ایک دوست نے بتایا کہ کلثوم بہت مذہبی بھی تھیں اور لبرل بھی۔  کلثوم آپا کسی پر حکم نہیں چلاتی تھیں ۔ وہ بس نصیحت کرتی تھیں اور بہت مختصر گفتگو کرتی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود شریف خاندان میں ان کی آرا ء کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا تھا۔ ایک خاندان کے فرد کے مطابق کلثوم نے اپنی بیٹی مریم کو  اپنے  سیاسی جانشین کے طور پر نواز شریف کے علم میں آنے سے کافی پہلے تیار کر لیا تھا۔ کلثوم نے پارٹی کا ماضی، حال اور مستقل تینوں چیزیں ایک عورت، بیوی اور ماں کی حیثیت سے روشن کی ہیں۔ میں جتنی مرضی کوشش کروں، ان کے چہرے کو آنکھوں سے اوجھل نہیں کر سکتی  جب ان کو 1999 میں فورک کے ساتھ کار سمیت اٹھایا گیا تھا جو مسلم لیگ ن کی طرف سے ڈکٹیٹر شپ کی مخالفت کی علامت بن گیا تھا۔ آج اس پارٹی کو سیاست سے اسی طرح فورک کے ساتھ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاریخ ایک زیادہ مشکل  صورتحال کے ذریعے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ کلثوم کے مزاحمتی رویہ نے پاکستانی خواتین کے لیے ایک نئی سمت متعین کی ہے ۔ کلثوم صاحبہ، آپ نے اپنا  کردار ادا کر دیا۔ اللہ آپ کو جوار رحمت میں جگہ دے  اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پچھلے چند دنوں میں جب بھی کلثوم نواز ہوش میں آئیں، تو پوچھتی تھیں کہ نواز اور مریم ان کے ساتھ کیوں نہیں ہیں ۔ کئی ماہ  سے کلثوم نواز سے الگ رہنے کے بعد اب باپ بیٹی کو ان کی نماز جنازہ کے لیے کچھ دیر کی ضمانت مل سکے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *