تین وزرائےاعظم تین المناک کہانیاں

یہ جو پہلی تصویر ھے۔ ایک مردہ بدن بے سروسامانی کے عالم میں ایک بان کی چارپائی پر پڑا ھے۔ اور گھر کے چند ملازم اس کی نمازہ جنازہ پڑھ رھے ھیں ۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو شہید ھیں ۔ اس وزیراعظم نے پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کیا اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ۔ اسلامی ممالک کو اکھٹے کیا اور مغرب کے خلاف تیل کے ھتیار کو استمعال کیا۔ امریکہ نے کہا تھا۔ ھم بھٹو کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ جنرل ضیاءالحق نے ایک ایک کرکے سارا بھٹو خاندان ختم کر دیا۔ یہ جو ایک کٹی پھٹی تصویر ھے۔ یہ پاکستان کی ایک اور منتخب وزیراعظم ھے۔ یہ پاکستان کے لیے میزائل ٹیکنالوجی لے کر آئی ۔ غریب عوام کو شعور دیا۔ اور پھر جنرل مشرف کے دور میں اسے بر لب سڑک ھلاک کر دی گیا ۔
یہ جو تیسرا شخص ھے۔ اور بے بسی اور لاچاری کی تصویر بنا کھڑا ھے۔ یہ پاکستان کا تین بار کا منتخب وزیراعظم نوازشریف ھے۔ اس نے ایٹمی دھماکے کیے ۔ اور امریکہ کو ناراض کیا۔ جنرل مشرف نے اسے جیل میں ڈالا اور جلا وطن کیا۔ یہ واپس آیا اور سی پیک کا آغاز کیا۔ پھر امریکہ کو ناراض کیا۔ اسے جرنل مشرف کے حواریوں نے پھر نااھل کیا۔ اور جیل میں ڈالا۔ جنرل مشرف کے دور میں جب جلا وطن تھا۔ تو اس کا باپ چل بسا۔ اب بیٹی سمیت جیل میں تھا۔ تو بیوی چل بسی۔ بھٹو خاندان کی طرح اب اس کا خاندان ٹارگٹ ھے۔


اپنے ھی منتخب وزراء اعظم کے خلاف یہ المناک ظلم ، یہ بے رحم زیادتی ، یہ بے بسی ، یہ لاچاری اور یہ انتقام آخر کب تک ؟ یہ وزرائے اعظم اپنی فوج اور اپنے ملک کو ناقابل تسخیر بناتے رھے۔ اور ھم ان کی اور ان کے خاندانوں کی لاشوں پر اپنے مفادات اور اپنی طالع آزمائ پوری کرتے رھے۔ راج نیتی کے سینے میں کیا واقعی کوئ دل ، کوئ خوف خدا اور کوئ مذھب ، کوئ احسان مندی کا پہلو نہیں ھوتا ؟
مشکل کی گھڑی میں اپنے وزرائے اعظم کے ساتھ کھڑے ھونے کی بجائے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ھو جاتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *