وہ حماقتِ عظیم جس کا نام بھاشا ڈیم ہے

"دانش مصطفی"

جب وزیر اعظم پاکستان نے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں سے چندہ کی اپیل کی تو میں حیرانی سے دیکھتا رہ گیا۔ ورلڈ ڈیم کمیشن کے مطابق  تقریبا ہر ڈیم پراجیکٹ کی تعمیر کے آغاز سے اختتام تک تقریبا کل قیمت میں 98 فیصد کا اضافہ ہو گیا۔  ہمارا نیلم جہلم پراجیکٹ بھی  ابتدائی تخمینہ سے 500 فیصد زیادہ قیمت میں مکمل ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ پراجیکٹ  اس قیمت سے پانچ گنا زیادہ قیمت میں بنا جو پہلے طے کی گئی تھی۔  اس طرح ڈیمز بناتے بناتے  ابتدائی تخمینہ سے کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ جاتی ہے۔  اس وقت دیامیر بھاشا ڈیم کی متوقع قیمت 14 بلین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس کی قیمت پانچ گنا نہیں بلکہ دوگنی ہو گی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ 28 بلین ڈالر میں مکمل ہو سکے گا۔  اس سے بھی زیادہ قیمت کی ضرورت پیش آ سکتی ہے ۔

پاکستان کا  2016 میں ٹوٹل جی ڈی پی  284 بلین ڈالر تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ایک ایسے پراجیکٹ کی تیاری کر رہے ہیں جو ہماری جی ڈی پی کا 10 فیصد حصہ لے لے گا۔ یورپ میں سب سے بڑا انفراسٹریکچر پراجیکٹ 19 بلین ڈالر کا تھا ۔  لیکن اس کی فنانسنگ برطانیہ کر رہا ہے جس کی اکانومی 2.6 ٹریلین ڈالر ہے ۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں اس  غیر مناسب کمٹمنٹ کے لیے عوام کو  عوام کو اکسایا جا رہا ہے؟   جس کی پہلی بات تو یہ ہے کہ اتنی ضرورت بھی نہیں ہے؟  انجینئرنگ اسٹیبلمشنٹ آف پاکستان کو  پچھلے 20 سال سے یہ معلوم ہے کہ  سیسمک رسک کی وجہ سے دیامر بھاشا ڈیم کوئی فیزیبل پراجیکٹ نہیں ہے۔  یہ ڈیم ایسی جگہ پر بنانے کی کوشش کی  جا رہی ہے جو انڈین اور یوریشین پلیٹس کی باونڈری پر واقع ہے۔  یہ ایسی جگہ ہے جہاں بہت سی فالٹ لائنز آپس میں ملتی ہیں  اور یہ چیز واپڈا کی فیزبلٹی رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے۔ انجینئر بشیر ملک جو کہ ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ٹیکنیکل ایڈوائزر رہ چکے ہیں  اور پاکستان میں ڈیم کی تعمیرات کے بہت حمایتی ہیں  نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی سائٹ پر  زلزلوں کا خطرہ اتنا  زیادہ ہے کہ یہاں کسی بھی طرح تعمیر کا آغاز کرنا بھی مناسب نہیں ہو گا۔

دریائے سندھ پر ڈیم بنانا،  جس کے ساتھ ساتھ ایک دنیا کی بہت بڑی سڑکوں میں سے ایک سڑک بھی چلتی ہے،  ہر لحاظ سے تباہ کن ہے۔ اس سے مستزاد یہ کہ انجینئرز  کنکریٹ سے بنے اس قدر بڑے ڈیم پراجیکٹ  کی تیاری کیسے کر رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بڑے ڈیمز کے پیچھے پانی کے وزن کی وجہ سے  بہت بڑے سکیل کے زلزلے رونما ہوتے ہیں۔ یہ ایک سچی حقیقت ہے۔ یہ سب جاننے کے باوجود  معلوم نہیں کیوں اس ملک کا وقت اور پیسہ اس بے فائدہ اور خطرات سے بھر پور پراجیکٹ پر  کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ  کئی بار افتتاح کرنے کے باوجود  کبھی بھی اس کی تعمیر پر کام شروع نہیں کیا گیا۔  مین سٹریم بیانیہ اس پر یہ اختیا ر کیا جاتا ہے کہ اس کے لیے فنانسنگ کے مسائل درپیش ہیں۔ چینی جو کہ ڈیم بنانے کے بہت شوقین اورچمپین ہیں وہ بھی اس ڈیم سے لا تعلقی اختیار کر چکے ہیں۔ اس کی وجہ کوئی چال نہیں ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر فنانسر کو وہ حقیقت معلوم ہے جو واپڈ ا کو معلوم ہے

 کہ یہ ڈیم ایک بہت بڑا رسک ہو گا  اور ایک ایسے ملک میں جس کی نیٹ ویلیو اس پراجیکٹ کی قیمت کا صرف 10 فیصد ہو وہاں اس طرح کے پراجیکٹ پر پیسا لگانا بے وقوفی ہو گی۔ میرے پاس اس پراجیکٹ کے بارے میں کوئی وحی نہیں آئی نہ ہی میں نے اس پر ذاتی طور پر کوئی ریسرچ کی ہے۔ میں تو ان  مسائل کا ذکر کر رہا ہوں جو حکومت  نے اپنی رپورٹس میں بیان کیے ہوئے ہیں۔

یہ سمجھ نہیں آتی کہ واپڈا ایک ایسے پراجیکٹ پر کیوں زور دے گا جو اسے معلوم ہے کہ  ایک محفوظ پراجیکٹ نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے واپڈا والے یہ سمجھتے ہیں کہ کیوں نہ اس کے نام سے کچھ پراجیکٹس کے کنسلٹینسی اور انجینیرنگ پراجیکٹس کے نام سے جب تک ممکن ہے اپنی کمائی جاری رکھی جائے۔اس کے علاوہ مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کا فوکس ڈیم پر مرکوز کر کے دوسرے سخت سوالات سے بچا جا سکتا ہے  ، خصوصا ایسےسوالات سے جو پانی کی تقسیم اور مینیجمنٹ سے متعلق ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ  واپڈا کے پاس جو ڈیٹا موجود ہے اس کے مطابق بھی یہ بات واضح ہے کہ ہمارے پاس پانی کے ذخائر اتنے نہیں ہیں کہ ان کے لیے بڑے ڈیم بناے جائیں۔ مثال کے طور پر کوٹری سے نیچے دریائے سندھ کا بہاو  5 ملین ایکڑ فیٹ سے بھی کم ہے۔ صرف سال میں جب سیلاب آتا ہے تب یہ سطح  35 ملیین ایکڑ فیٹ تک پہنچتی ہے جو کہ محض تسلی بخش ہے۔

میں نے کبھی دیامیر بھاشا ڈیم پر تحریر نہیں لکھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اس زمین کی سیم کی وجہ سے کوئی اس ڈیم کو فنانس کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ پاکستانی انجینیرز جانتے ہیں کہ یہ پراجیکٹ فیزایبل نہیں ہے۔ ریاضی کے محض بنیادی اصول جاننے والے کو بھی یہ معلوم ہو گا کہ  ڈیم کے لیے چندہ اکٹھا کرنے میں صدیاں گزر سکتی ہیں۔ جب تک ہماری کسی اور مسئلہ کی طرف توجہ نہیں مڑے گی، تب یہ اس ڈیم کے دس بارہ مرتبہ افتتاح کیے جا چکے ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *