سویڈن کے روادار کلچر کا امتحان

جب بھی کہیں نازی سلیوٹ دیکھا جاتا ہے تو فوری طور پر الارم بجایا جاتا ہے  لیکن جرمنی کی سڑکوں پر اگر ایسا کوئی عمل دیکھا جائے تو تھوڑا مختلف طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ یہی حال سویڈن کی بھی ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک یورپین سوشل ڈیموکریسی کی علامت تھا، فار رائٹ طبقہ سے فلرٹ کرنے سے مایوسی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ گرمیوں کے دوران کچھ پولز سے معلوم ہوا کہ کہ سویڈن ڈیموکریٹ نامی پارٹی جس میں بہت سے نازی نسل کے لوگ  شامل ہیں  کو الیکشن میں بہت زیادہ ووٹ مل سکتےہیں اور پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت بھی حاصل کر سکتی ہے۔  لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ ایسا ممکن نہ ہو سکا اور اتوار کے دن ہونے والے الیکشن میں یہ نیو نیازی پارٹی شکست کھا گئی۔ سوشل ڈیموکریٹ نامی پارٹی سب سے آگے رہی   لیکن اس بار اسے صرف 28.4 فیصد وووٹون سے ہی سبقت مل سکی جو کہ 1917 کے بعد پہلی بار اتنی کم شرح ہے۔ مین سٹریم کنزرویٹو ماڈریٹ طبقہ کو 19.8 فیصدووٹ ملے  جو کہ سویڈن کی فار رائٹ پارٹی  سویڈن ڈیموکریٹ سے زیادہ فرق نہیں ہے جس کو 17.6 فیصد ووٹ مل سکے۔

نتیجہ کے طور پر لیفٹ ونگ اور رائٹ ونگ کی جماعتون کو اتحاد کر کے حکومت بنانی پڑی جس میں چند چھوٹی پاررٹیون کو بھی شامل کیا گیا ۔ 40 فیصد سے زیادہ سیٹیں ریکس ڈیگ میں ہیں اس لیے بہت ممکن ہے کہ سویڈن ڈیموکریٹس رائٹ ونگ کی مدد سے حکومت بنا لیں گے۔ اس کا متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سینٹرسٹ اتحاد وجود میں آ جائے  لیکن باوجود اس حقیقت کے کہ اس ملک میں رائٹ اور لیفٹ کے بیچ فرق کم ہو رہا ہے، اس اتحاد کا بننا زیادہ  امکانات ظاہر نہیں کرتا۔  آس پاس کے ممالک میں  قدامت پسند جماعتیں فار رائٹ کے ساتھ تعاون کرنے میں  قباحت محسوس نہیں کرتیں  اس لیے اگر سویڈن میں بھی ایسا ہوتا ہے تو یہ کوئی اچنبھے والی بات نہیں ہوگی۔  باقی ممالک کی سیاسی جماعتوں کی طرح ڈیموکریٹس نے بھی سیاست کا سب سے اہم مرکز ملک میں موجود مہاجرین کو بنایا ۔ 2015 میں اس ملک نے 163000 مہاجرین کو ملک میں جگہ دی   جو کہ کسی بھی دوسرے یورپی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ بہت سے مہاجری کو ٹرین سٹیشنز پر ویلکم کہا گیا  لیکن اب موڈ تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ شکوک و شبہات ہیں کہ مہاجرین کی آمد سے ملک میں جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کی شہادت ملکی ایجنسیوں کے اعداد و شمار بھی دیتے ہیں۔ دوسری بات مہارجرین کے خلاف مقامی لوگوں کا تعصب ہے  جو نسلی خود پسندی جیسے احساسات کو اجاگر کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی نے جمی اکیسن کی قیادت میں نسل پرستی  اور نیو نازی لنکس کے خلاف آوا ز بلند کی لیکن  ان کے  نظریات میں سےسفید فارم ہونے کی  برتری کے احساسات کو چھپایا نہیں جا سکتا۔  کبھی کبھار یہ چیز ان کی طرف سے تمام مسلمانوں کے لیے ایک متعصبانہ رویہ کی عکاس بن جاتی ہے۔ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھ پاتے کہ یہ مہاجرین جنگ زدہ علاقوں سے لائے جاتے ہیں جن میں مغرب نے جنگ اپنے مفاد ات کے تحفظ کے لیے چھیڑ رکھی ہے۔

سویڈن نے تقریبا تین دہائیاں قبل اپنی ایجیلیٹیرین ریاست کی حیثیت سے شناخت کھونے کا عمل شروع کیا  جب سیاست کے دونوں ستونوں نے نیو لبرل آرتھوڈاکس انداز اپنایا  ا سلیے یہ بات حیرت کا باعث نہیں ہونی چاہیے کہ   وہاں عدم مساوات کا عنصر کیوں پنپ رہا ہے۔ اس  کی ساری ذمہ داری سوشل ڈیموکریٹس  مہاجرین پر ڈال دیتے ہیں جن کی تعداد  پچھلے کچھ عرصہ میں تیزی سے کم ہو رہی ہے۔   جرمنی میں فار رائٹ طبقہ کا عروج   بھی مہاجرین کے خوف کی بدولت ہے۔ پچھلے ماہ کیمٹز میں جو واقعہ پیش آیا جس میں نازی سلیوٹ دیکھنے کو ملے اس کی وجہ بھی ایک عراقی اور شامی مہاجر کی  طرف سےایک جھگڑے میں ایک جرمن کیوبن شہری پر چاقو سے حملہ تھا۔

کہاجاتا ہے کہ پولیس نے ایک مجرم کے خلاف چارج شیٹ لیک کر دی تھی۔ کچھ عرصہ بعد  جرمنی کی مقامی خفیہ ایجنسی  کے سربراہ نے چانسلر انجیلا مرکل   کی طرف سے نیو نازیوں کے مہاجرین پر حملہ کے رد عمل کو چیلنج کیا  اور اسے جان بوجھ کر غلط معلومات شئیر کرنے کا نام دیا۔ ان کے اس اقدام سے فار رائٹ عوامل اور پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیز کے بیچ گٹھ جوڑ کا شک پیدا ہوتا ہے ۔ مرکل کے عیسائی ڈیموکریٹس اور ان کے اتحادی بھی اس میں ملوث نظر آتے ہیں۔ بہت ہی مہربان  اور شفیق یورپ  جس  کی مرکل اکثر تقلید کرتی ہیں  اب ایک تباہ کن صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے بعد ترین پہلو پہلے صرف ایسٹرن بلاک میں دیکھے جاتے تھے لیکن اب اب یہ ویسٹ کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں  اور خاص طور پر اٹلی اور فرانس کے علاوہ جرمنی اور سویڈن میں یہ شدت پسندی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

کیمٹس کو کبھی کارل مارکس سٹاڈٹ کے نامسے جانا جاتا تھا  لیکن اگرچہ پہلے ٹوٹلٹیرین سٹیٹس  فار رائٹ کی طرف جھکاو کا زیادہ میلان رکھتی تھیں  لیکن اب یہ مرض  سابقہ سوویت سیٹلائٹس سے بھی آگے جا چکا ہے ۔جرمنی اور سویڈن ابھی  اس کا شکار نہیں بنے ہیں اور اپنی بہتر فطرت پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں   لیکن یورپ  کی سمت کو ٹرمپ پیوٹن کانٹیکسٹ سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *