آپ نئے ٹیکس کیوں لگا رھے ھیں ؟


امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ میں صرف 300 ملین ڈالر روکا ھے۔ پاکستان کے غیر ملکی کرنسی ذخائر اس وقت 17 بلین ڈالرز ھیں۔ جون 2013 میں نوازشریف کی حکومت کے موقع پر غیر ملکی کرنسی ذخائر 6 بلین ڈالر تھے۔ قرضوں کی قسطیں اور سرکلر ڈیٹ ادا کرنے کے بعد اکتوبر 2013 میں یہ ذخائر 3 بلین ڈالر رھ گئے تھے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو ڈیفالٹ ھونے سے بچانے کے لیے نوازشریف کی ذاتی دوستی کے نام پر ڈیڑھ بلین ڈالر کا عطیہ کیا تھا ۔ 2016 میں ن لیگ حکومت نے آئ ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ 28 جولائی 2017 جب نواز شریف کو بر طرف کیا گیا۔ اس وقت پاکستان کے غیر ملکی کرنسی ذخائر 24 ارب ڈالر تھے۔ جون 2013 میں پاکستان پر کل قرضہ 60 ارب ڈالر تھا ۔ مئی 2018 میں یہ قرضہ 90 ارب ڈالر تھا۔ یعنی پانچ سالوں میں اس میں 30 ارب ڈالر کا اضافہ ھوا۔ جبکہ پاکستان کے غیر ملکی کرنسی ذخائر میں18 ارب ڈالر کا اضافہ ھوا۔ ان پانچ سالوں میں سرکلر ڈیٹ اور پرانے قرضوں کی مد میں کئ ارب ڈالر واپس کیے گئے۔ یہ 18 ارب ڈالر اگر واپس کر دیے جائیں تو ن لیگ حکومت کا لیا گیا قرض 12ارب ڈالر بچتا ھے۔ جو کہہ لیں ۔ پرانے قرضوں کی شکل میں ادا ھو گیا۔ اس دوران پاکستان کا معاشی گروتھ ریٹ اڑھائی فیصد سے ساڑھے پانچ فیصد ھو گیا۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس اٹھارا ھزار سے 54 ھزار پر چلا گیا ۔ سی پیک کی شکل میں سرمایہ کاری آئ۔ میگا پراجیکٹس لگے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ھوئ ۔ موٹر ویز بنیں ۔ نئ یونیورسٹیاں، نئے ائیر پورٹ اور بندر گاھیں تعمیر ھوئیں ۔ بھاشا ڈیم کی زمین خریدی گئ۔ اسے ملکی وسائل سے بنانے کا پلان بنا۔ دفاعی بجٹ کو 700 ارب سے بڑھا کر 1200 ارب کیا گیا۔ 2000 ارب ترقیاتی فنڈ کے لیے مختص کیا گیا۔ 1600 ارب قرض ادا کرنے کے لیے مختص ھوا۔ سرکاری ملازمین کو ریلیف ملا۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں پر کنٹرول رکھا گیا ۔ یعنی سب کچھ ٹھیک چل رھا تھا۔ حالانکہ ملک میں دھرنے اور احتجاج جاری تھا ۔ اپوزیشن، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور حکومت ایک پیج پر نہیں تھے۔
پھر کچھ دماغوں میں خوف پیدا ھوا۔ چناچہ ملک کو سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار کیا گیا۔ الیکشن مینج کیے گئے۔ ایک ھی پیچ کی حکومت لائ گئ۔ اس سیاسی افراتفری کے دوران ملک معاشی طور پر نیچے گیا۔ لیکن اتنا نہیں جتنا جون 2013 میں ن لیگ حکومت کو ملا تھا۔ جیسا میں نے اوپر لکھا۔ اس وقت بھی 17 ارب ڈالر کے غیر ملکی کرنسی ذخائر ھیں ۔ امریکہ نے صرف 300 ملین ڈالر کولیشن سپورٹ فنڈ میں روکے ھیں۔ لیکن حکومت آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج لینا چاہ رھی ھے۔ جو امریکہ کی رضامندی کے بغیر ملنے والا نہیں ۔ امریکہ کی شرط سی پیک ھے۔ چناچہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج لینے کے لیے سی پیک پر نظرثانی کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ھے۔ سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع ھو چکا ھے ۔ مزید کے طور پر یہ حکومت بجٹ پر نظرثانی کرنے جا رھی ھے۔ شنید ھے۔ نئے ٹیکس اور اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھا کر 800 ارب روپے اکھٹا کرنے کا پروگرام ھے۔ اس سے مہنگائی اور بے روزگاری کا سیلاب آ جاے گا ۔ اور تحریک انصاف کی حکومت بے حد غیر مقبول ھو سکتی ھے۔ بھاشہ ڈیم کے لیے چندہ جمع کیا جا رھا ھے۔ سوال یہ ھے۔ پاکستان کی معاشی حالت غیر ملکی کرنسی ذخائر کے حوالے سے 2013 سے بہت بہتر ھے۔ پھر آی ایم ایف سے سے یہ 12 بلین ڈالرز کا بیل آوٹ پیکیج کیوں لیا جا رھا ھے۔ عام لوگوں کی جیب سے 800 ارب روپے کیوں نکالے جا رھے ھیں ۔ قوم کو یہ کیوں نہیں بتایا جا رھا۔ ان پیسوں کی فوری طور پر کیا ضرورت ھے۔ اگر قرضوں کی قسطیں ادا کرنی ھیں تو بتایا جاے اگر دفاعی مقصد ھے تب بھی بتایا جاے۔ اگر اسلحے کی خریداری کرنی ھے۔ دھشت گردی کے خلاف جنگ میں خرچہ کرنا ھے۔ کوئ ترقیاتی کام شروع کرنے ھیں ۔ تو بتایا جاے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتایا جاے آپ کی مستقل معاشی و مالی پالیسیاں کیا ھیں؟ اور لوٹے ھوے اربوں ڈالر کب واپس آ رھے ھیں ۔ کم از کم اس پر کام کی رفتار کا ھی کچھ بتا دیں ۔ آپ تو کہتے تھے۔ ھم قرض نہیں لیں گے۔ نئے ٹیکس دہندگان کے ذریعے 800 ارب مزید اکھٹا کریں گے۔ کرپشن پر قابو پا کر ریاست کی آمدن میں اضافہ کریں گے۔ لوٹی ھوئ دولت واپس لائیں گے۔ لیکن یہ آپ کیا کر رھے ھیں ۔ 12 ارب ڈالر کا آی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج مانگ رھے ھیں ۔ اس کے لیے سی پیک کو متنازعہ بنا رھے ھیں ۔ نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ کرنے کی بجائے پرانے ٹیکس دہندگان کی جیب سے 800 ارب نکال رھے ھیں ۔ اور یہ بھی نہیں بتا رھے۔ آپ نے یہ رقم کرنی کیا ھے ؟ یہ تو کوئ جواب نہیں ۔ کہ یہ ملکی مفاد میں کیا جا رھا ھے۔ یا معاشی حالات خراب ھیں ۔ یا پچھلی حکومت لوٹ کر لے گئ ھے۔ اب تو ماشااللہ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور عدلیہ بھی ایک پیج پر ھیں ۔ اپوزیشن مری پڑی ھے۔ اب تو ملک دن دوگنا رات چوگنا ترقی کرنا چاھیے۔ غریبوں کو ریلیف ملنا چاھیے۔ ھم نے تو تمام حقائق اور اعدادو شمار بھی پیش کر دیے ھیں ۔ پانچ سال آپ نے منفی اور جھوٹا نفرت انگیز پروپیگنڈہ جاری رکھا۔ وقت لیکن سچائ سامنے لے آتا ھے۔ اب جواب دھی کی آپ کی باری ھے۔ اب یہ نہیں کہنا۔ یہ جھوٹ ھے۔ بھیا چیک کر لو۔ تمام ڈیٹا انٹر نیٹ پر پڑا ھے۔ اگر پھر بھی یقین نہیں تو یہ بتاو جہاں آپ بیٹھے ھو۔ اگر وھاں کوئ دیوار ھے۔ تو کیا وہ دیوار نظر آ رھی ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *