بیگم کلثوم نواز الوداع

زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہےاور اس دنیا میں موت وہ واحد حقیقت ہے جسے موت نہیں۔ یہ دنیا دارالفنا ہے۔ یہاں ہر شے کو فنا ہونا ہے۔ پرند چرند، پھول، بوٹے، درختوں کی سرسبز ٹہنیوں سے لے کر ہر جاندار شے تک ہر چیز کا مقدر فنا ہونا ہے اور موت کے گھاٹ اترنا ہے۔ زندگی کی یہ سب سے بڑی حقیقت بار باریہی یاد دلاتی اور پیغام دیتی ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اس سے عشق کرنے والے گھاٹے کا سودا کررہے ہیں، پھر یہ بھی ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور ہر روز اس سچ کے مظاہرے بھی دیکھتے ہیں کہ موت کا ایک دن اور وقت مقرر ہے اور وہ ہر حال میں اٹل ہے۔ یہ بھی ایک قابل غور پہلو ہے کہ کبھی موت بہانہ ڈھونڈھتی ہے، وہ بہانہ بیماری، حادثہ یا کوئی بھی وجہ اور سبب ہوسکتی ہے اور کبھی کبھی موت بہانہ بھی نہیں ڈھونڈھتی اور انسان چپکے سے بلا سبب موت کی گھاٹی میں اتر جاتا ہے۔ دوست احباب لواحقین سوچتے رہ جاتے ہیں کہ کیا ہوا اور کیونکر ہمیں مفارقت کا صدمہ سہنا پڑا۔ انسان اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اعلیٰ ترین تخلیق ہے اس لئے بار بار جھٹکوں کے باوجود اسے یقین نہیں آتا کہ اسے بھی ایک دن مرنا ہے اور یہ محلات، عیش و عشرت، بینک بیلنس، شہرت اور دنیاوی ہوس دنیا ہی میں رہ جانی ہے۔ غربت و افلاس تو ویسے ہی خالی ہاتھ ہوتی ہے۔ وہ دنیا میں بھی خالی ہاتھ رہتی ہے اور خالی ہاتھ ہی قبر میں لے جاتی ہے لیکن مال و دولت کا بھی یہی حشر ہوتا ہے، گویا غربت اور امارت دونوں میں صرف ایک ہی قدر مشترک ہے کہ دونوں خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی قول فیصل ہے اور کئی احادیث سے ثابت ہے کہ طویل اور دردناک بیماری معصومیت کی راہ ہموار کرتی ہے۔ طویل بیماری سے گناہ جھڑتے اور بخشش کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا نظام عدل اور انصاف پر قائم ہے اس لئے یہ بات قابل فہم ہے جس نے دنیا میں تکلیف برداشت کی اور طویل بیماری کی اذیت بھگت لی اس کی اگلی منزل آسان ہوجاتی ہے کہ رحیم و کریم کا رحم ا ور کرم بخشش، معافی اور مغفرت کے لئے بہانے ڈھونڈھتا ہے۔

بیگم کلثوم نواز نے طویل اور تکلیف دہ بیماری کا بہادری سے مقابلہ کیا کہ وہ ایک بہادر خاتون تھیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق بیگم کلثوم نواز، صابر، مدبر، بامروت، خوش اخلاق اور ذہین خاتون تھیں۔ وہ مزاجاً نیک، عبادت گزار اور گھریلو مزاج رکھتی تھیں۔ دوبار وزیر اعلیٰ پنجاب اور تین بار وزیر اعظم منتخب ہونے والے خاوند کی بیوی ہونے کے باوجود انہوں نے نہ کبھی انتظامیہ میں دخل دیا، نہ اس حوالے سے کبھی سفارشیں یا حکم نامے جاری کئے اور نہ ہی کبھی تکبر کو قریب پھٹکنے دیا۔ طویل سرکاری ملازمت کے دوران میں نے اکثر دیکھا ہے کہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کی بیگم بھی نصف وزیر اعظم یا نصف وزیر اعلیٰ بن جاتی ہے اور حکمرانی کے مزے اڑانا شروع کردیتی ہے۔ اسی طرح اگر بیوی وزیر اعظم منتخب ہو تودولہا میاں نصف وزیر اعظم بن جاتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ بیگم کلثوم نواز اپنے آپ کو حکمرانی سے اتنا الگ تھلگ رکھتی تھیں کہ بیوروکریسی کو ان کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔ جھکی جھکی نگاہیں، چہرے پہ قدرتی مسکراہٹ ہر قسم کی رعونت سے پاک بیگم کلثوم نواز مشرقی حیا کی عملی تصویر تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی مذہبی خطوط پر کی، چنانچہ میرے تجربے کے مطابق میاں صاحب کی اولاد نے بھی کبھی سرکاری امور میں دخل نہیں دیا نہ سفارش خان بنے۔ میاں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ اور دوبار وزارت عظمیٰ کے دوران مجھے پنجاب اور مرکز میں دو تین محکموں یا وزارتوں کی سربراہی کا موقع ملا۔ان کے تیسری بار وزیر اعظم بننے سے قبل میں ریٹائر ہوچکا تھا، چنانچہ حکومت سے کوسوں دور تھا۔ میاں صاحب کے دس گیارہ سالہ دور حکومت میں مجھے صرف ایک بار ان کے اندرون خانہ سے سفارش موصول ہوئی اور وہ بھی اس انداز سے کہ مجھے سفارش پہ رحم آیا۔ میں وفاقی سیکرٹری وزارت تعلیم تھا تو ایک دن میری ایک ماموں زاد بہن نے دفتر آنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ خود ایم این اے تھیں اور بیگم صاحبہ کی دوست بھی تھیں۔ وہ آئیں تو راز کھلا کہ بیگم کلثوم نواز نے اپنی کسی دیرینہ پروفیسر دوست کی ٹرانسفر کے لئے انہیں میرے پاس بھیجا تھا کہ تم اپنے بھائی سے یہ کام کہہ کر میاں بیوی کو ایک مقام پر اکٹھا کروادو۔ اس جائز کام کے لہجے میں بھی Requestکا رنگ غالب تھا ورنہ بیگمات تو حکم جاری کرتی ہیں اور ملٹری سیکرٹری یا پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے تھرتھرلی مچا دیتی ہیں۔ اسے اتفاق یا حسن اتفاق کہیے کہ مجھے دوران ملازمت کبھی میاں صاحب کے خاندان کی جانب سے نہ کبھی کوئی حکم ملا اور نہ سفارش۔ میرے تجربے کی روشنی میں یہ ایک غیر معمولی صورت تھی۔ میاں صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو ایک بار دورے پہ کراچی گئے۔ قائد اعظم کے مزار پر فاتحہ خوانی کرکے باہر نکلے تو میڈیا ان کا منتظر تھا اور کچھ لوگ بھی اکٹھے ہوچکے تھے۔ میاں صاحب نے جیب سے تقریر نکالی اور نہایت موثر انداز سے تقریر کر ڈالی۔ تقریر اتنی اچھی تھی اور اسلوب اس قدر ادبی تھا کہ میں انکوائری کئے بغیر نہ رہ سکا، پتہ چلا کہ یہ تقریر بیگم صاحبہ نے لکھی تھی اور شاید تھوڑی سی مشق بھی کروائی تھی۔

کل اچانک بیگم صاحبہ کی وفات کی خبر سنی تو شدید صدمہ پہنچا اور ماضی کے بہت سے مناظر یادوں کا روپ دھارے چشم تصور میں گھومنے لگے۔ میں دیر تک سیاست کی نیئرنگی اور زندگی کی بےثباتی پہ غور کرتا رہا۔ تاریخ کے اوراق میں دفن مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کی داستانیں یاد آنے لگیں اور اقتدار کی سنگدلی سے پردہ اٹھنے لگا۔ تاریخ زوال کی بےشمار کہانیاں سناتی ہے اور ہر کہانی میں دنیا کی بےثباتی اور اقتدار کی بےوفائی کا سبق نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کہانی کا یہ پہلو قدرے منفرد ہے کہ میاں صاحب مریم بیٹی کے ساتھ کینسر کے شدید مرض میں مبتلا بیگم کو اسپتال میں چھوڑ کر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پاکستان پہنچ گئے۔ انہیں علم تھاکہ شاید وہ دوبارہ اپنی علیل بیوی کو نہ دیکھ سکیں اس کے باوجود وہ اپنے فیصلے پہ ڈٹے رہے اور یوں بہادری کی ایک نئی داستان رقم کرڈالی حتیٰ کہ پیرول پر بھی رہا ہونے سے انکار کردیا۔ یہ استقامت مشن اور کاز کی عطا ہوتی ہے، جب تک انسان کو اپنے مشن اور مقصد کا سو فیصد یقین نہ ہو، وہ اتنی استقامت کا مظاہرہ ہرگز نہیں کرسکتا۔

موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے جو دنیا، دولت، اقتدار، شہرت اور کروفر کی بےثباتی کو بےنقاب کرتی رہتی ہے مگر انسان یوں جیتا ہے جیسے اسے کبھی مرنا ہی نہیں۔ دنیا دارالفنا ہے۔ یہاں ہر شے کو فنا ہے سوائے نیک اعمال کے۔ بیگم کلثوم نواز لاکھوں لوگوں کی دعائوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں اور سچ یہ ہے کہ یہ دعائیں ہی آخرت کا سچا توشہ ہیں۔ میری دعا ہے اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیں اور میاں صاحب اور ان کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائیں کہ میاں صاحب زندگی کے قیمتی ترین اثاثے سے محروم ہوگئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *