خالی خزانہ

عمران خان نے کہا ھے۔ ھمارے پاس حکومت چلانے کے لیے پیسہ نہیں ۔ اور یہ کہ ھمیں روزانہ 6 ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی مد میں دینا پڑ رھے ھیں ۔ 7 ستمبر کو اسٹیٹ بینک کی ھفتہ وار رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 16 ارب ڈالر کے غیر ملکی کرنسی ذخائر تھے۔
https://www.google.co.uk/amp/s/timesofislamabad.com/14-Sep-2018/pakistan-foreign-exchange-reserves-decline-further%3fversion=amp
جس کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت کا خزانہ خالی ھے۔ 2013 میں ن لیگ کی نئ حکومت کے موقع پر غیر ملکی کرنسی ذخائر ساڑھے چھ ارب ڈالر تھے۔
https://www.dawn.com/news/1024700
جو کہ قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے بعد نومبر 2013 میں ساڑھے تین ارب ڈالر رھ گئے تھے۔
https://www.google.co.uk/amp/s/tribune.com.pk/story/638418/foreign-exchange-reserves-hit-12-year-low-sbp-data-reveals/%3famp=1
یہ پاکستان کی تاریخ کے کم ترین ذخائر تھے۔ ن لیگ حکومت نے خزانہ خالی ھونے کا سیاپا نہیں ڈالا۔ بے شمار میگا پراجیکٹس مکمل کیے۔ کسی ایک پروجیکٹ کے لیے قوم سے چندہ نہیں مانگا۔ 2017 میں غیر ملکی کرنسی ذخائر 24 ارب تک گئے۔ جو سیاسی افراتفری کی وجہ سے 2018 میں 18 ارب ڈالر پر آے اور اب 16 ارب ڈالر پر ھیں۔ جو 2013 کے مقابلہ میں تین گناہ اور نومبر 2013 کے مقابلہ میں چار گنا سے زائد ھیں ۔ لیکن شور یہ مچایا جا رھا ھے۔ خزانہ خالی ھے۔ اور یہ کہ 6ارب روپے روزانہ سود دیا جا رھا ھے۔ بھئ یہ سود تو ن لیگ حکومت نے بھی 2013 میں دیا تھا۔ اور پورے دور میں دیتے رھے تھے ۔ ن لیگ حکومت نے اس دوران قرض لیا جو 2013 کے مقابلے میں 60 ارب ڈالر سے 91 ارب ڈالر ھو گیا۔ لیکن اس دوران بے شمار میگا پراجیکٹس مکمل ھوے۔ کئ ارب ڈالر قرض واپس ھوا۔ اور غیر ملکی کرنسی ذخائر 24 ارب ڈالر تک چلے گئے۔ اس دوران آپ یہ بھی پروپیگنڈہ کرتے رھے۔ کہ سی پیک میں چین کی 64 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری قرض ھے۔ اور پاکستان چین کے معاشی شکنجے میں پھنس گیا ھے۔ لیکن اگر ن لیگ حکومت کے پانچ سالوں میں 30 ارب ڈالر کے قرض میں اضافہ ھوا ھے۔ تو پھر یہ 64 ارب ڈالر کا قرضہ کہاں گیا۔ جب کہ حقیقت یہ ھے۔ سی پیک میں کل قرض صرف 12 ارب ڈالر ھے۔ لیکن آپ آج بھی سی پیک کو متنازعہ بنا رھے ھیں ۔
https://www.google.co.uk/amp/s/www.thenews.com.pk/amp/317285-pakistan-s-external-debt-swells-to-91-761-bn-till-end-march
اچھا یہ تو میں نے غیر ملکی کرنسی ذخائر کے حوالے سے بات کی۔ اب آئیے دیکھتے ھیں ۔ 2018 کے بجٹ میں حکومتی کاروبار چلانے کے لیے جو مختلف رقوم مختص کی گئ تھیں ۔ وہ تو موجود ھیں ۔ جیسے 59 کھرب کے بجٹ میں 12 کھرب دفاع کے لیے، 20 کھرب ترقیاتی فنڈز کے لیے، 16 کھرب ڈیٹ سروسنگ یعنی قرضے اتارنے کے لیے، اس طرع صوبوں کا حصہ ، تعلیم ، صحت اور دیگر خرچے۔ وہ ساری رقوم کہاں گئیں ۔ اگر ھم روزانہ چھ ارب سود ادا کر رھے ھیں تو وہ 16 کھرب کہاں گیا۔ بجٹ میں یہ مختص رقوم پورے سال کے لیے ھوتی ھیں ۔ تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ھیں ۔ حکومت چلانے کے لیے ھمارے پاس پیسے نہیں ۔ کوئ حساب کتاب تو بتائیں آخر ؟ تارکین وطن جو ڈالرز بھیج رھے ھیں ۔ وہ کتنے ھیں ۔ یہ ٹھیک ھے۔ تجارتی خسارہ بہت ھے۔ ڈالر کی قیمت اوپر نیچے ھوتی رھتی ھے۔ اصل زر قرض بھی واپس کرنا پڑ رھا ھو گا۔ لیکن یہی تو ھم پوچھ رھے ھیں ۔ سچ بتائیں جوتا کہاں سے دکھ رھا ھے؟
آپ ھمیں صرف یہ اطلاع نہ دیں ۔ اس وقت خزانے کی صورت حال کیا ھے۔ حالانکہ خزانے کی صورت حال اتنی بھی بدتر نہیں ۔ آپ ھمیں یہ بھی بتائیں ۔ اگر خزانے میں بقول آپ کے پیسہ نہیں تو اس کے محرکات کیا ھیں؟ پیسہ کہاں خرچ ھوا ھے ؟ کتنا ٹوٹل قرضہ اتارا ھے؟ مزید کیا خرچے ھوے ھیں۔ آپ نے اپنی بچتوں سے خزانے کو کتنا فائدہ پہنچایا ھے۔ آپ کہتے تھے۔ روز اربوں کی کرپشن ھوتی ھے۔ آپ نے کتنی کرپشن روکی ھے۔ لوٹی ھوئ دولت کتنی واپس آئ ھے۔ سوٹزرلینڈ کے بنکوں سے کوئی خط و کتابت شروع ھوئ ھے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کرائسس سے نکلنے کے لیے آپ نے اب تک کونسی مستقل معاشی و مالیاتی پالیسیاں متعارف کروائ ھیں یا کوئ خدوخال ھی واضع کر دیں ۔ نئے ٹیکس دہندگان میں کوئ اضافہ؟ آ جا کر وھی پرانا طریقہ اختیار کیا جا رھا ھے۔ کہ بجٹ پر نظرثانی کریں اور ٹیکس اور اشیائے ضرورت کی قیمت بڑھا دیں ۔ صرف ایک میگا پروجیکٹ بھاشا ڈیم کے لیے چندہ جمع شروع کر دیں اور یا پھر آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج لے لیں ۔ اور اس بیل آوٹ پیکیج کے لیے چاھے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے سی پیک کو متنازعہ بنا دیا جاے۔ اور یہ بھی بتایا جاے آپ یہ ٹیکس بڑھوتی اور آی ایم ایف سے قرض کیوں لے رھے ھیں ۔ فوری مقاصد کیا ھیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *