ڈیم فولوں پر آرٹیکل چھ ضرور لگنا چاہیے

ان دنوں میں شدید ڈپریشن کا شکار ہوں اور یہ سوچ سوچ کر روہانسا ہو رہا ہوں کہ اس ملک نے ایسی کیا خطا کی کہ اوپر والے نے جناح صاحب کو اتنی مہلت بھی نہ دی کہ وہ جیتے جی پاکستان کو نیا آئین دے جاتے۔ اور اب 72 برس بعد جب خدا خدا کر کے ایک ایسا چیف جسٹس عطا ہوا جو ملک و قوم کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے تو اس کی ریٹائرمنٹ میں صرف چار ماہ ہی کیوں رہ گئے ہیں؟

مزید ستم یہ کہ مائی لارڈ ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اگر کسی نے کسی عہدے کی پیش کش کی تو پیش کش کرنے والا خود شرمندہ ہو گا۔

مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کروں؟ ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پارلیمنٹ چاہے تو یہ قانون بھی منظور کر سکتی ہے کہ امریکہ کی طرز پر چیف جسٹس کی کوئی ریٹائرمنٹ ایج نہیں یا پھر یہ قانون ہی بن جائے کہ چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت میں تین بار توسیع ہو سکتی ہے۔ مگر مجھے معلوم ہے کہ پارلیمنٹ کو اس معاملے کی اہمیت کا قطعاً احساس نہیں (بالخصوص پیپلز پارٹی اور نون کو)۔

اب کچھ حاسد یقیناً پوچھ سکتے ہیں کہ بھائی اس طرح کی تجاویز دینے میں میرا کیا مفاد ہے۔ مفاد صرف اتنا ہے کہ التوا میں پڑے لگ بھگ 17 لاکھ کیسز تو ترجیحاتی بنیاد پر تیز رفتاری سے نمٹانے کا میکنیزم کوئی بھی چیف جسٹس وضع کر سکتا ہے۔ عدالتی کیسز تو ویسے بھی گردشی قرضے (سرکلر ڈیبٹ) کی طرح ہوتے ہیں۔ آج نمٹ بھی گئے تو کل پھر اتنے ہی ہو جائیں گے۔

مگر خدشہ مجھے یہ ہے کہ کوئی بھی نیا چیف جسٹس پانی کی قلت کے معاملے اور نئے ڈیموں کی تعمیر کا اتنا بڑا اور موثر وکیل شاید نہ بن پائے جس کا اظہار موجودہ عزت ماآب چیف جسٹس لمحہ با لمحہ دامے درمے قدمے سخنے کر رہے ہیں۔

میں تو بس ہر محبِ وطن پاکستانی کی طرح یہی چاہتا ہوں کہ عزت ماآب تب تک اپنے منصب پر رہیں جب تک کم ازکم بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل نہیں ہو جاتی۔

خدا نہ کرے کہ عالی جاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں ڈیم کی تعمیر کے فنڈ کا بھی وہی حشر نہ ہو جو جنرل ضیا کے دور سے 1995 تک تعلیمی انقلاب لانے کے لیے جمع کردہ 65 ارب روپے کے اقرا سرچارج اور نواز شریف کے دوسرے دور میں قرض اتارو ملک سنوارو کے لیے دیے گئے اربوں روپے کے عوامی عطیات کا ہو چکا ہے۔

ایسا گیا کہ پھر نہیں آئی کوئی خبر

دل سے کہا تھا عشق کا حاصل کہیں سے لا ( احمد نوید )۔

مائی لارڈ کی بے مثال دردمندی کا اندازہ یوں لگائیے کہ لاہور میں دو روز قبل منرل واٹر کمپنیوں کی مبینہ لوٹ مار کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران مائی لارڈ نے ایک موقع پر فرمایا کہ جو لوگ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کر رہے ہیں ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے اور میں نے یہ گنجائش دیکھنے کے لیے آرٹیکل چھ کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔

تربیلا ڈیم کا ایک منظر
تربیلا ڈیم کا ایک منظر

بادی النظر میں آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ کسی ایسے فرد یا افراد کے خلاف قائم ہو سکتا ہے جنہوں نے ماورائے آئین طاقت کے بل پر آئین کو منسوخ، معطل یا تبدیل کرنے کی کوشش، مدد یا سازش کی ہو اور ایسے کسی اقدام کو جائز یا قانونی قرار دینے کا اختیار کسی بھی عدالت کو حاصل نہ ہوگا۔

بال کی کھال نکالنے والے حاسد کہتے ہیں کہ آرٹیکل چھ آئین توڑنے یا مسخ کرنے والوں پر لاگو ہوتا ہے اور اگر کسی ڈیم کی مخالفت بھی آئین شکنی کے دائرے میں آتی ہے تو عالمی آئینی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی نادر جوڈیشل تشریح ہو گی۔ مزید یہ کہ آرٹیکل چھ عدالت ازخود کسی پر لاگو نہیں کر سکتی جب تک وفاقی حکومت اس بابت عدالت سے رجوع نہ کرے۔

میرا بس چلے تو ایسے دلائل دینے والوں پر بھی آرٹیکل چھ لاگو کرنے کی سفارش کروں۔ مجھے تو یہ خوشی ہے کہ ایک ایسا آرٹیکل جس کے تحت آج تک کسی کو سزا نہیں ملی کم ازکم کسی پر تو پورا پورا لاگو ہو۔ اس کارِ نیک کا آغاز ڈیم کی مخالفت کرنے والے بلڈی ڈیم فولوں سے ہی ہو جائے تو کسی کو کیوں اور کیا پرابلم ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *