بیت المقدس کی معمولی زندگیاں

"کے کے شاہد"

کیا ہوتا اگر کوئی گلیزیا میں چھت کے اوپر چڑھتا، جہاں یروشلم کا پرانا شہر  نئے شہر مین ملتا ہے اور ممکنہ ڈیٹنگ پارٹنرز کو دیکھنے کے لیے ٹینڈر پر لاگ آن ہوتا؟عیسائیوں کے حاجی، مقامی آرمینیا والے، انتہا پسند یہودی، فلسطینی مسلمان، کچھ سیاح،  اس کے علاوہ آپ کووہاں کون کون مل سکتا ہے؟ یروشلم میں کونسی جگہ حقہ پینے کے لیے بہترین ہے؟ زیادہ تر منعقد  ہونے والی بار کے بارے میں کیا کہنا ہے؟اس  ہمیشہ کے متنازعہ علاقے میں کتنے ہک اپ سپاٹ ہیں ؟

ہزار سالہ پرانے اس مذہبی فلیش پوائنٹ پر ڈیٹنگ کافی مشکل ہے،  بلکہ اگر آپ کسی دوسرے کے ساتھ وہاں موجود ہیں تو یہ خطرناک بھی ہے۔ اور یہ ایک انسانی عنصر ہے  کہ  Jerusalem, Drawn and Quartered: One Woman’s Year in the Heart of the Christian, Muslim, Armenian and Jewish Quarters of Old Jerusalem کو ایکسپلور کرتی ہے  جب اس میں عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر روشنی ڈالی جاتی ہے جو کہ بے چادرے اپنی کمیونٹی کی طرف سے زبردستی کی تاریخ  کی تعریف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔

''یہ جگہ ہے جہاں ابراہیمؑ کی جڑیں تقسیم ہوتی ہیں، جہاں بھائی بھائی کا دشمن ہے، اور ہم، ہمزاد لوگ ہزار سال بعد بھی آپس میں لڑتے ہیں ۔''

مصنفہ، سارہ ٹٹل سنگر اس جگہ کا اور یہاں کے لوگوں کا پاک شہر میں لیے گئے انٹرویوز کی ایک فہرست کے ذریعے  مشاہدہ قلمبند کرتی ہیں کیوں کہ وہ یروشلم کے کوارٹرز میں یہودیوں، مسلمانوں، عیسائیوں اور امریکیوں کے ساتھ تین ماہ گزار چکی ہیں جہاں ''وقت کا شبت کے سائرن اور گرجا گھر کی گھنٹیوں اورموذن کی اذان میں جو پتھر کو چیر دیتی ہے سے اندازہ لگایا جاتا ہے ۔''

ٹٹل سنگر، ایک امریکی یہودی، اپنی 'لوو سٹوری' کی داستان اسرائیل کی طرف اپنے پہلے سفر کو بیان کرتے ہوئے شروع کرتی ہیں۔ 16 سال کی عمر میں  ان کی ماں نے انہیں اس جگہ کا  گرمیوں میں دورہ کرنے کا کہا جسے بہت سے آرتھوڈوکس یہودی اپنے 'آباؤ اجداد کا ملک' تصور کرتے ہیں۔ خوبرو نوجوان لڑکی نے  اس سفر کی حامی بھر لی جس نے ایک دن اس کے وجود  کے معنی بدل دینے تھے۔ یہ اس کے آرتھوڈاکس یہودیت کی جڑوں  کے ساتھ مذہبی تعلق کی وجہ سے نہیں ہوا ، 1999 کی گرمیاں مصنفہ کے لیے یادگار تھیں  کیونکہ تب مصنفہ نے ایک ایسے درخت کے پاس کھڑے ہو کر کافی پی تھی جو ایک پتھر میں اگا ہوا تھا۔  اس موقع پر انہوں نے آرمینیا سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس کو صیہونی گیٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا  اور حقہ پینے،  موسیقی سے لطف اندوز ہونے ، سبت کی موم بتیوں ، جفہ گیٹ کے پاس کھڑے ہو کر فلافل کھانے اور ایک غزہ کے شہری کو چومنے جیسی یادیں اپنے ساتھ سمیٹ لی تھیں۔

ٹٹل سنگر کا یروشلم کے ساتھ  تعلق بیسویں صدی کے شروعات سے ہے جب ان کی پردادی ایک پولش فیملی کے ساتھ ایک غیر ملکی معاون کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ سلطنت عثمانیہ کے ایک غیر یہودی عہدیدار کی محبت میں گرفتار ہو گئیں جس کے لیے وہ واپس پولینڈ چلی گئیں۔ بعد میں وہ یونائٹڈ سٹیٹس کی طرف بھاگ گئیں جہاں وہ مصنفہ کے پردادا سے ملیں۔

ٹٹل سنگر کے اسرائیل اور خاص طور پر یروشلم کی محبت میں گرفتار ہونے کے بعد، اس شہر کے پہلے دورے کے دوران انہوں نے اسے اگلی گرمیوں  اور اس سے بھی اگلے سال کی گرمیوں کی سیر کے لیے منتخب کر لیا۔ لیکن بعد والا سفر ان کی لوو سٹوری کے ساتھ  بے رحم حقیقت کے ساتھ ختم ہوا جب 18 سال کی ٹٹل دمشق گیٹ کے پاس ایک مزاحمتی تحریک کےد وران پتھر بازوں کے ہاتھ چڑھ گئی۔ ٹٹل سنگر نے اس کے بعد  کافی عرصہ تک دوبار اسرائیل کا سفر نہیں کیا۔ وہی 2 دورے ان کے لیے سینڈوچ کی شکل اختیار کر گئے جن میں ایک موقع پر وہ پتھر بازی سے زخمی ہوئی اور دوسری بار انہیں  طلاق یافتہ ہو کر دو بچوں کے ساتھ لوٹنا پڑا۔

اس دووران ایک اور مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوا اور پھر وہ ختم بھی ہو گئی۔ اسرائیل اور فلسطین کے بیچ بات چیت جاری رہی  لیکن کامیاب نہ ہوئی کیونکہ اسرائیل نے  سیٹل منٹس کو پھیلانے اور فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ جاری رکھا۔

اب ٹٹل سنگر ایک صحافی کے طور پر دی ٹائم آف اسرائیل، ایک آن لائن اشاعت جو 2012 میں جاری ہوئی کے ساتھ منسلک ہو کر  یروشلم میں رہ رہی تھیں۔ 2015 میں تشدد کی ایک نئی لہر کے بعد مصنفہ نے  12 ماہ کر عرصہ شہر کے چار مختلف علاقوں میں گزارا  او ر وہاں کے شہریوں سے انٹرویوز لے کر ان کی کہانیوں کو اپنی کتاب میں یکجا کیا۔

مصنفہ جفہ گیٹ کو  اس نقطہ کے طور پر پیش کرتی ہیں جہاں اسرائیلی اور فلسطینی عوام اکٹھے ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہ فلسطینی عورتوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کو نمایاں کرتی ہیں جو ماضی میں جینز پہنا کرتی تھیں اب سر اور بدن ڈھانپنے کے لیے ایک فرسودہ  لباس پہنتی ہیں۔ ایک  عورت تسلیم کرتی ہے کہ  ''جینز میں بھاگنا اور پتھر مارنا آسان ہوتا تھا''۔ وہ ایک ہوموفوبک آرتھوڈوکس مذہبی طبیعت  والے شخص  کے ساتھ بات کرتی ہیں  جسے پوری زندگی ہم جنس پرستوںسے نفرت کرنا سکھایا گیا لیکن 60 سال کی عمر میں اس پرعیاں ہوا کہ وہ خود ہم جنس پرست ہے۔ وہ ٹوپی  پہنے چھوٹے لڑکوں اور حجاب والی چھوٹی لڑکیوں کے بارے میں بات کرتی ہیں جو سانٹا کلاز سے ملنے کے لیے قطار بنائے ہوئے ہیں، اور یہودی اور عرب نسل کے ٹیکسی ڈرائیوروں کے بارے میں بتاتی ہیں  جو ایک  طرح کی ٹیکسی چلاتے ہیں اور ایک طرح کے  بے ہودہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

''اور یہ بہت عجیب بات ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اتنی نفرت کرتے ہیں جب کہ ہم ایک جیسے نظر آتے ہیں۔  ہم ایک جیسی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ہم ایک جیسے کندھے اچکاتے اور آنکھیں گھماتے ہیں، اور خدا کے عظیم ناموں کی تسبیح کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کی ماؤں کے رحم پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس سب کے باوجود ہم دوسروں کو 'دوسرا' سمجھتے ہیں ۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ فلاں شخص یہودی ہے، عرب ہے، کون ہے؟ مجھے لگتا ہے  کہ یہ قبائلی نظام کے دور کی خصوصیات ہیں اور اعتماد کا فقدان  ہے۔

ٹٹل سنگر اسرائیل کے فلسطین پر قبضہ کی ناقد کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ #neveragain جیسے ٹرینڈ صرف یہودیون کے لیے نہیں ہونے چاہیے۔  در حقیقت، حال  ہی میں  change.org پر ایک درخواست آئی ہے کہ 'اسرائیل ریاست کے خلاف سارہ ٹٹل سنگر کی سازشوں سے نمٹا جائے۔'۔ اب تک ان کی کتاب میں  خود سے نفرت  کی کوئی علامت نہیں پائی گئی، جو کہ اسرائیل پر تنقید کرنے والے یہودیوں کی خاص صفت سمجھی جاتی ہے۔  درحقیقت، واحد چیز جس کے بارے میں   سارہ ٹٹل سنگر  دفاعی پوزیشن پر نظر آتی ہیں وہ یہ ہے کہ انہوں نے کتاب میں لکھا ہے کہ ان کے پسندیدہ سنگر ٹیلر سوئفٹ ہیں ۔

Jerusalem: Drawn and Quartered کا واضح مقصد فلسطین اسرائیل کا وہ علاقہ سامنے لانا ہے جسے ہمیشہ مذہبی منافرت اور تشدد کا مرکز بنایا گیا ہے۔  مصنفہ یروشلم سے مسلمانوں اور یہودیوں کی محبت کو ایک کہانی کے ذریعے بیان کرتی ہیں ۔ یہ کہانی سلمان بادشاہ کے بارے میں ہے۔ ۔ دو ماؤں نے ایک بچی کی ملکیت کا  دعویٰ کیا اور بادشاہ نے حکم دیا کہ بچی کو دو حصوں میں کاٹ دیا جائے۔ حقیقی ماں چیخی کہ بچی کو دوسری عورت کو دیا جائے لیکن تکلیف نہ دی جائے۔ ''یروشلم بالکل اس بچی جیسا ہے، ایک بھی ماں اسے چھوڑے گی نہیں۔ اور یروشلم ان کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا جو کہتے ہیں کہ وہ اس سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔''

لیکن Jerusalem: Drawn and Quartered اس شہر کے ٹوٹنے کے بارے میں نہیں ہے  اور نہ ہی اس کی تقسیم کے بارے میں ہے۔ اس کتاب  کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جو لوگ مذہبی بنیادوں پر اس شہر کی تقسیم کےدرپے ہیں ان کے دل میں بھی دور کہیں اسکے نہ ٹوٹنے کی خواہش دبی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *