...اور تو کوئی بات نہیں!

چیف جسٹس ثاقب نثار بڑے حساس قسم کے انسان ہیں اور پاکستان کی اصلاح کے لئے بڑے جذباتی بھی۔جب سے وہ اپنے عہدے پہ متمکن ہوئے ہیں ، خبروں میں ان کا بڑا چرچا رہا ہے۔ہسپتالوں کے دورے وہ کر رہے ہیں، منافع خور سرمایہ داروں کو ڈانٹیں پلا رہے ہیں، اساتذہ کو نصائح کر رہے ہیں، پولیس اہلکاروں کی گوشمالی کر رہے ہیں، سیاستدانوں کو سزائیں دے رہے ہیں، میڈیا کے لوگوں پہ سنسر لگا رہے ہیں اور اسی نوعیت کے دیگر کاموں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔کچلے ہوئے بے آواز طبقے کی شنوائی کے لئے انہوں نے عدالت کے از خود نوٹس لینے کے اختیارات کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔سونے پہ سہاگہ ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے عدالت کے از خود نوٹس لینے کے اختیارات کا از خود نوٹس لے لیا ہے تاکہ مستقبل میں ان اختیارات کی بد استعمالی کا راستہ روکا جا سکے۔یہ سب کرتے ہوئے اگر چیف جسٹس صاحب مقننہ اور انتظامیہ کے دائرہ کار میں دخل اندازی کے مرتکب ہو رہے ہیں تو کوئی بات نہیں کیونکہ یہ سب وہ بڑی خوش نیتی کے لئے ایک اچھے مقصد ہی کے لئے تو کر رہے ہیں!!!
محترم چیف جسٹس صاحب نے پاکستان میں پانی کی قلت کے خطرے سے نمٹنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر کی غرض سے اب ایک فنڈ بھی قائم کر دیا ہے جس میں سبھی کو عطیات جمع کرنے کا کہا گیا ہے۔اپنی اس سکیم کے بارے میں چیف جسٹس صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ملکی بقاء اور معیشت اس پہ منحصر ہے‘‘ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ کسی نے بھی اگر کسی بھی بات کو بنیاد بنا کر اس سکیم پہ تنقید یا نکتہ چینی کی کوشش کی تو اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ چیف جسٹس صاحب کالا باغ ڈیم کی بھی بڑی شد و مد سے حمایت کر رہے ہیں ۔یعنی ملک کے تین صوبے یعنی سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوااگر اس منصوبے کی شدید مخالفت کر تے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں ! اور یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں کہ ملک کے وزیر خارجہ نے پارلیمان میں کھڑے ہو کر باقی تینوں صوبوں کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کالاباغ ڈیم کے منصوبے کے حوالے سے ان کے شدید تحفظات کا احترام کرتی ہے ۔ شاہ محمود قریشی صاحب نے اس حوالے سے’’غیر ضروری تنازعے‘‘ کے ابھرنے پہ افسوس بھی ظاہر کیا ہے۔ اگر سچ پوچھیں تو ایسا قطعی نہیں کہ چیف جسٹس صاحب ڈیموں کی تعمیر سے متعلقہ معاشی باریکیوں یا پھر ان کے ماحولیاتی نتائج سے واقف نہیں، اور نہ ہی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوامی عطیات اس قسم کے اخراجات کے لئے کافی ہو سکتے ہیں۔چیف جسٹس صاحب تو صرف یہ کوشش کر رہے ہیں کہ پانی کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ بحران کی طرف سب کی توجہ مبذول کرا دیں جو کہ یقیناًآبادی میں اضافے،مالیاتی خسارے اور ملکی قرضوں سے زیاہ بڑا ایک خطرہ ہے۔ عوامی عطیات کی تحریک کا مقصد تو لوگوں میں اس منصوبے کے حوالے سے ملکیت کا احساس پیدا کرنا اورحکمرانوں میں ذمہ داری، فرائض کی تکمیل اور احتساب کا تصور جگانا ہے ۔ اگر چیف جسٹس صاحب کے ناقدین اس بات کو نہیں سمجھتے تو یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں!!چیف جسٹس صاحب کی یہ تمام باتیں اور حرکتیں تو ان کی پشت پہ کارفرما اچھی نیت اور اچھے مقاصد کی بنیاد پہ نظر انداز کی جا سکتی ہیں لیکن نئے وزیر اعظم عمران خان کی حرکتوں کا کیا کیا جائے؟ ڈان اخبار کے مطابق وزیر مملکت کے طور پر ذوالفقار بخاری کی تقرری کے بعد وفاقی کابینہ کے اراکین کی تعداد بتیس ہو گئی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ کوئی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے ہی زلفی بخاری کو عمران خان کے لئے ایک نجی پرواز میں سوار ہونے سے اس لئے روک دیا گیا تھا کہ وہ ایک زیر تفتیش مقدمے میں نیب کو مطلوب تھے اور ان کانام بھی ای سی ایل پر تھا، تاہم موصوف نے اپنی برطانوی شہریت کی بنیاد پر استثنیٰ حاصل کی اور اسی نجی پرواز میں خان صاحب کے ساتھ شریک سفر بھی رہے۔اب وفاقی کابینہ میں نشست پانے کے لئے انہوں نے اپنی پاکستانی شہریت کا استعمال کیا ہے۔ یعنی دہری شخصیت کا حامل شخص پاکستانی پارلیمان کا رکن تو نہیں بن سکتا لیکن نئے پاکستان میں کابینہ کا رکن ضرور بن سکتا ہے۔دوسری طرف عمران اسماعیل کو سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔موصوف گریجویٹ بھی نہیں لیکن اس میں ایسی کونسی بڑی بات ہوگئی؟ہاں عاطف میاں اگر چہ اس دور کے ٹاپ کے ماہرین اقتصادیات میں شامل ہیں لیکن ان کو اقتصادی مشاورتی کونسل سے اس لئے نکال باہر کر دیا گیا کیونکہ عقیدے کے لحاظ سے وہ احمدی ہیں، حالانکہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ اور ان کے علاوہ بھی کئی ایک اعلیٰ سول سرونٹس اور جرنیل بھی احمدی تھے جنہوں نے ملک کے لئے بڑی خدمات بھی سرانجام دی ہیں۔ہمارے ملک کی مشاورتی کونسلسے نکالے جانے کے فوراً بعدسعودی عرب کی مقدس ترین سرزمین میں عاطف میاں کواسلامک فنانس کے حوالے سے منعقد ہ ایک کانفرنس میں مقرر کے طور پر شریک ہونے کی دعوت دی گئی ۔ یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں!بڑی بات تو شاید یہ بھی نہیں کہ موجود وفاقی کابینہ میں مشرف دور کے وزراء بھرے پڑے ہیں۔فروغ نسیم وزیر قانون ہیں اور انورمنصور اٹارنی جنرل۔ یہ دونوں صاحبان جنرل مشرف کے مقدمے میں ان کے وکلاء تھے۔مطلب یہ کہ سابق جرنیل کے خلاف بغاوت کے اس مقدمے کی قسمت پہ اب مہر لگ چکی ہے۔ فروغ نسیم صاحب احتساب قوانین پہ نظر ثانی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تاکہ ہماری مقدس عدلیہ و فوج احتساب سے بچی رہے۔پنجاب کی کابینہ میں بھی بڑے زبردست نام ہیں۔عثمان بزدار کو ہی دیکھ لیجئے، موصوف کواس عہدے کے لئے محترمہ خاتونِ اول صاحبہ نے از خود چنا تھا ۔سمجھنے والے انہیں اس عہدے کے لئے عارضی انتخاب سمجھ رہے ہیں کیونکہ آخر کار وہ یہ عہدے جہانگیر ترین یا علیم خان کے لئے چھوڑ دیں گے۔بزدار صاحب کی کابینہ میں فیاض چوہان اطلاعات و ثقافت کے وزیر ہیں حالانکہ تہذیب، روایات، ثقافت اور معلومات ان میں نام کو بھی نہیں، لیکن یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ پی ایم ایل (ن) کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جو آخری بجٹ پیش کیا تھا اس میں انہوں نے ٹیکسوں کی شرح ان لوگوں کے لئے کم کی تھی جواس ملک کے ایماندار شہریوں کی طرح اپنے ٹیکس گوشوارے باقاعدہ جمع کراتے ہیں جبکہ بغیر کوئی آمدن دکھائے یا ٹیکس ادا کئے مہنگی مہنگی گاڑیاں خریدنے والوں کے ساتھ سختی برتی گئی تھی۔ تاہم اس بجٹ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے پی ٹی آئی کے معاشی افلاطون اسد عمر نے اُن مجوزہ اقدامات کی ترتیب ہی الٹ دی ہے، مگر یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں!!

(یہ کالم رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ کی جانب سے مجاز اخبار ات کو جاری کیا جاتا ہے جن میں یہ مؤقر روزنامہ بھی شامل ہے۔ اس کی کسی بھی صورت میں کہیں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *