بدلتی صورتحال


کہا جا رھا تھا۔ نواز شریف کے ساتھ انہیں مندرجہ ذیل مسائل ھیں ۔ وقت صحیح ثابت کر رھا ھے۔
اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ
پچھلی پارلیمنٹ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے لیے تیار نہیں تھی۔ چناچہ اپنی مرضی کی پارلیمان لائ گئ۔ اور اب عمران حکومت نے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا عندیہ دے دیا ھے۔ یاد رھے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو مالیاتی خود مختاری دی گئ تھی۔ اس نے وفاق کی آمدن میں کمی کر دی تھی۔ نتیجتا اداروں کے مالی حصے میں بھی کمی آ گئ تھی۔
امریکہ اور سی پیک۔
امریکہ سی پیک کو لے کر خوش نہیں تھا۔ ھمارے اداروں پر امریکی دباو بڑھ رھا تھا۔ فوجی امداد بند ھو چکی تھی۔ عمران حکومت آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج لینا چاہ رھی تھی ۔ امریکہ نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اور آئ ایم ایف کو منع کر دیا۔ چناچہ ایک بار پھر مالی دباو کا شور مچا کر سعودی عرب کو سی پیک میں شامل ھونے کی آفر کر دی گئ ھے۔ اب اگر سعودی عرب سی پیک پر سرمایہ کاری کرتا ھے۔ تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ۔ وہ کن شرائط پر یہ پیسہ دے گا۔ اور سعودی عرب کی آڑ میں کونسا ملک سی پیک پر اپنا تسلط قائم کرے گا۔ کیا ھم چین کو ناراض کر سکتے ھیں ۔ ساوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نے خبر دی ھے۔ چینی صدر شی پنگ نے جنرل باجوہ کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں زور دے کر یہ بات کہی۔ کہ سی پیک کو لے کر دونوں ملکوں میں اعتماد کا رشتہ قائم رھنا چاھیے۔ غالبا صدر شی پنگ کا اشارہ اس جانب تھا کہ عمران حکومت سی پیک پر نظرثانی چاھتی ھے۔ تاکہ پاکستان کو مزید فائدہ ھو سکے۔ مارننگ پوسٹ نے یہ بھی لکھا۔ دونوں لیڈروں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر سی پیک کے قرضوں کو لے کر پاکستان کسی تیسرے ملک کی سرمایہ چاھتا ھے۔ تو وہ ایسا کر سکتا ھے۔ لیکن سوال وھی ھے۔ کیا سی پیک کسی اور ملک کی شرائط کے مطابق چل سکتا ھے۔ جبکہ یہ منصوبہ اپنی کامیابی کے لیے مکمل طور پر چینی تجارت پر انحصار کرتا ھے۔
پراپرٹی بزنس اور ٹیکس
آپ کو یاد ھو گا۔ اسحاق ڈار نے پلاٹوں اور پراپرٹی بزنس پر ٹیکس عائد کر دیا تھا۔ اور اس ٹیکس کو پراپرٹی کی خریدو وفروخت پر تین سالوں کے حساب سے فکس کر دیا تھا۔ اسی طرح اسحاق ڈار نے بڑے شہروں میں پراپرٹی کی خریدو فروخت کی قیمتوں میں انڈر انواسنگ روکنے کے لیے ایف بی آر کو قیمت طے کرنے کے اختیارات دے دیے تھے۔ اس سے نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ ھونا تھا۔ اور فراڈ اور بلیک منی پر کنٹرول ھونا تھا۔ اور پراپرٹی کی صحیح قیمت پر ٹیکس لگنا تھا۔ جس سے ریاست کی آمدن میں اضافہ ھوتا۔ آپ جانتے ھیں اس وقت ملک میں کون لوگ پلاٹ، پلازہ اور پراپرٹی کا کاروبار کر رھے ھیں ۔ اسحاق ڈار کی اس ٹیکس پالیسی کو مخصوص حلقوں میں سخت ناپسند کیا گیا تھا۔ اب دیکھ لیں ۔ اسد عمر نے اسحاق ڈار کی اس ٹیکس پالیسی کو ختم کر دیا ھے۔ اور نا ٹیکس دہندگان کو پراپرٹی اور کاریں خریدنے کی اجازت دے دی ھے۔ یعنی جو پہلے ھی ٹیکس دے رھے ھیں ۔ ان پر بوجھ بڑھا دیا ھے۔ اور نان فائلرز کو فائدہ پہنچا دیا ھے۔ اور اندر انواسنگ کا پھر سے دروازہ کھول دیا ھے۔ اسی طرح جائیداد کی قیمتوں کا تعین کرنے کا جو اختیار حکومت کو دیا گیا تھا۔ اس کا نوٹیفکیشن روک لیا گیا ھے۔ اب آپ خود سوچیں ۔ فائدہ کسے پہنچایا گیا ھے۔ اور اسحاق ڈار کیوں اتنا ناپسندیدہ ھو گیا تھا۔ جو بجٹ سے بالا پیسے بھی نہیں دے رھا تھا ۔ اور پراپرٹی بزنس پر ٹیکس بھی لگا رھا تھا۔ اگر آپ نے اس نقطے کو مزید سمجھنا ھے تو ایک نظر ملک کے ان تمام وزراء خزانہ پر ڈال لیں جو ستر سال میں آے ۔ اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے کسقدر قریب تھے۔ اور اسد عمر جو جنرل عمر کا صاحبزادہ ھے۔ اور کیوں اسٹیبلشمنٹ کو اتنا عزیز ھے۔ منی بجٹ میں اسد عمر نے نئے ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی شکل میں 163 ارب مزید رقم اکھٹی کی ھے۔ جبکہ 250 ارب کی ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی کی ھے۔ لیکن ساتھ ھی یہ بھی بتا دیا ھے۔ کہ بجٹ کا کل خسارہ 890 ارب تک پہنچ گیا ھے۔ اور صرف دو ماہ کے امپورٹ بل کے برابر غیر ملکی کرنسی ذخائر رہ گئے ھیں ۔ گویا نئے ٹیکسز اور ڈیوٹیوں میں مزید اضافے کی توقع کی جا سکتی ھے۔ اگر کسی غیر ملک یا بین الاقوامی فنڈر سے امداد یا قرض کی آفر نہ آئ ۔ آپ کو یاد ھو گا۔ عمران خان نے اپنی الیکشن مہم میں نئے ٹیکس دہندگان کے ذریعے 800 ارب روپے مزید اکھٹے کرنے کا دعوی کیا تھا ۔ یہ تقریبا بجٹ خسارے کے برابر ھی رقم بنتی ھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر نئے ٹیکس دہندگان کی بجائے پرانے ٹیکس دہندگان پر ھی بوجھ ڈال دیا گیا ھے۔ اور پراپرٹی مافیا اور آٹو موبائل مافیا کو کھلی چھوٹ دے دی گئ ھے۔ جس سے نہ صرف مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ھو گا بلکہ لوگوں کو جابز سے نکالا بھی جا سکتا ھے۔ یہ صورتحال تحریک انصاف کے اس انتخابی نظریے کی خلاف ورزی ھے ۔ جس میں نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ اور نئ جابز کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور ھاں وہ جو ڈیلی اربوں روپے کی کرپشن پر قابو پا کر ریونیو بڑھانا تھا۔ وہ وعدہ بھی ھوا ھو گیا۔ اسی طرح وہ لوٹی ھوئ دولت کی واپسی؟
بھارت سے تعلقات
اچھا یہ کچھ عجیب سی بات ھے۔ نوازشریف بھارت سے تعلقات کی بات کرنے لگا تو اسے مودی کا یار ڈکلیئر کر دیا گیا۔ کلبھوشن یادیو نکال لیا گیا۔ بھارت میں نواز شریف کا بزنس قائم کر دیا گیا۔ نوازشریف کے کھاتے میں 450 ارب ڈال دیے گئے جو اس نے بھارت پہنچائے اور ڈان لیکس نکال کر نواز شریف کو سیکیورٹی رسک ثابت کرنے کی کوشش کی گئ۔ کیوں؟ کیونکہ وہ بھارت سے امن اور دوستی اور تجارت کی بات کرتا ھے۔ لیکن اب عمران حکومت خط لکھ لکھ کر بھارت سے امن مذاکرات مانگ رھی ھے۔ تجارت کی بات کر رھی ھے۔ بھارت کو وسط ایشیا تک تجارت کی راھداری دینے کی آفر کر رھی ھے۔ اور سب خاموش ھیں ۔ سوچتا ھوں الہی یہ ماجرا کیا ھے ؟ لگتا ھے نواز شریف کی شکل بطور وزیراعظم قبول نہیں تھی یا اس کی وجہ سے کہیں سے بوٹ شدید دکھ رھا تھا؟ یا پریشر بہت بڑھ گیا ھے۔ حیرت ھے۔ نواز شریف واجپائی کو لاھور بلاے تو کارگل ھو جاے اور پھر کارگل کا ھیرو جنرل مشرف بھارت سے امن اور تجارت کی بات کرے۔ نواز شریف پھر یہی بات کرے تو مودی کا یار ، اور اب اپنی یعنی عمران حکومت مذاکرات کی دعوت دے اور سناٹا۔ کم از کم اب آپ کی حکومت ھے۔ بھارت میں نواز شریف کا بزنس اور وھاں بھجوایا پیسہ ، اس کے ثبوت ھی دے دیں ۔
بجٹ میں مختص مالی حصے سے زیادہ کا تقاضہ ۔
خواہ اضافی ٹیکس لگاو ، ترقیاتی فنڈ میں کمی کرو یا سی پیک سے نکالو ۔ پیسے کی سخت ضرورت ھے۔ نوازشریف حکومت نے انکار کر دیا تھا۔ عمران حکومت نے خزانہ خالی ھونے کا رولا ڈال کر اضافی ٹیکس لگا دیے ھیں ۔ اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی ھیں اور سی پیک میں مخصوص حصے کے لیے نظر ثانی جاری ھے۔
سویلین محکموں پر کنٹرول
ریلوے کارگو اور پی ٹی وی پر آغاز ھو چکا۔ باقیوں پر جلد علم ھو جاے گا۔ ریڈیو کی مرکزی عمارت لیز پر دینے کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کر رھی ھے۔
باقی خاکی و سویلین برتری کی کشمکش تو ھے ھی، اب تو اندھوں کو بھی نظر آ رھا اس وقت ملک پر کون حکومت کر رھا ھے۔ اور کون چندے اکھٹے کر رھا ھے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *