عادی سگریٹ نوشوں کو ہدایت: ’سگریٹ نوشی اچانک ترک نہ کریں‘

برطانوی حکامِ صحت نے سگریٹ کے نشے میں مبتلا افراد کو خبردار کیا ہے کہ وہ یکایک سگریٹ نہ چھوڑیں۔

حکام کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے میں زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس (برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس) کے ترکِ سگریٹ نوشی پروگرام کا سہارا لیا جائے، یا پھر شروع میں ای سگریٹ استعمال کیے جائیں۔

تحقیق کے مطابق اچانک سگریٹ چھوڑنے والوں میں سے 96 فیصد ایک سال کے اندر اندر دوبارہ اس موذی لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تاہم نکوٹین ’ریپلیسمنٹ تھیراپی‘، مثال کے طور پر چوسنے والی گولیاں یا پیچ، استعمال کرنے سے کامیابی کا تناسب ڈیڑھ گنا بڑھ جاتا ہے۔

جب کہ این ایچ ایس کے ترکِ سگریٹ نوشی کے کلینکس کی مدد حاصل کرنے سے اس شرح میں چار گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

حکومت اکتوبر کے مہینے میں Stoptober کے نام سے خصوصی ترکِ سگریٹ نوشی مہم چلا رہی ہے جس کے تحت ایک آن لائن پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔

اس پروگرام میں سگریٹ نوشوں سے کئی سوال پوچھے جاتے ہیں اور اس کے بعد ان کی عادت کے مطابق انھیں مشورے دیے جاتے ہیں۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جینی ہیریز نے کہا: 'ترکِ تمباکو نوشی کے لیے کئی مختلف اقسام کی مدد موجود ہے، اس لیے کسی تمباکو نوش کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس کے لیے کون سا پروگرام زیادہ مناسب رہے گا۔‘

انھوں نے کہا: 'اہم بات یہ ہے کہ اگر ماضی میں آپ سگریٹ ترک کرنے میں ناکام رہے ہیں تب بھی ہمت نہ ہاریں۔'

برطانیہ میں سگریٹ نوشی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اب صرف 15 فیصد لوگ سگریٹ پیتے ہیں۔ 2011 کے مقابلے میں یہ تعداد ایک چوتھائی کم ہے۔

ملک بھر میں سگریٹ چھوڑنے میں سب سے مددگار چیز ای سگریٹ ہے، جس کے 32 لاکھ صارفین موجود ہیں۔ ان کی اکثریت پہلے سگریٹ نوش تھی۔

جیریمی کائل
میزبان جیریمی کائل: میں روزانہ 20 سگریٹ پیتا تھا لیکن ای سگریٹ نے تمباکو نوشی ترک کرنے میں مجھے مدد دی

ان میں سے ایک ٹی وی کے میزبان جیریمی کائل ہیں جنھوں نے 35 برس سگریٹ پینے کے بعد اس لت سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔

وہ کہتے ہیں: 'میں دن میں 20 سگریٹ پیا کرتا تھا، اور مجھے فخر ہے کہ میں نے اس سال سگریٹ چھوڑ دیے۔ جس چیز نے مجھے سگریٹ چھوڑنے میں مدد دی وہ ای سگریٹ ہے۔

'میں اس وقت سب سے کم نکوٹین والے ای سگریٹ پی رہا ہوں اور جب وقت آئے گا تو اسے بھی ترک کر دوں گا۔

'سگریٹ چھوڑنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ کتنا اہم ہے کہ سگریٹ یکایک نہ ترک کیا جائے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *