بھارتی آرمی چیف پاکستان پر الزام تراشیوں سے ایک بار پھر باز نہ آئے

نئی دلی: ضد اور جھوٹی انا پر ڈٹے بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے پاکستان کی امن کی دعوت پر مضحکہ خیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل پاکستان کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کو فروغ نہیں دے رہا ہے۔

بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے آج بھارتی میڈیا سے گفتگو میں ایک بار پھر اپنی ہٹ دھرمی کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف بے سروپا الزامات کا بازار گرم کر رکھا اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی منسوخی پر اپنی حکومت کے قصیدے پڑھے۔

بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے پرانا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملاقات منسوخ کر کے درست عمل کیا اور اس حوالے سے بھارت کی پالیسی واضح ہے کہ مذاکرات کے عمل سے قبل پاکستان کو خود پر لگے دہشت گردی کے فروغ کے الزام کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔

بہیمانہ مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکام ہونے والی بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اپنی ناکامی کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرا تے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں سرحد پار سے دراندازی ہو رہی ہے اور پاکستان کشمیری نوجوانوں کے جذبات بھڑکا رہا ہے۔

پاکستان رینجرز کی جانب سے حقائق بیان کرنے کے باوجود بھارتی آرمی چیف نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کے قتل کا الزام پاکستان پر لگایا حالانکہ پاک فوج نے بھارتی اہلکاروں کی لاشوں کی تلاشی کے لیے مدد بھی فراہم کی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی کے بعد گزشتہ روز بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے پاکستان کو کھوکھلی دھمکی دی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *