وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی ہم منصب سے ملاقات 2 اکتوبر کو ہوگی

نیویارک: وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات 2 اکتوبر کو ہوگی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کی غرض سے اِن دنوں امریکا میں موجود ہیں، جہاں 29 ستمبر کو نیویارک میں وہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جبکہ کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم بھی دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

اس سے قبل واشنگٹن میں پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'پاک امریکا تعلقات سے ہمیشہ امریکا نے فائدہ اٹھایا، لیکن اب ہم وہ کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں بہتر ہوگا'۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا، 'ہماری پالیسی پاکستان ہے ،پاکستان صرف پاکستان'۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'امریکا سے روابط برقرار رکھنے ہیں۔ ہماری جو ذمے داری ہے وہ نبھائیں گے، مگر کیا خطے میں ذمے داری صرف ہماری ہی ہے؟'

ان کا کہنا تھا کہ 'پاک امریکا تعلقات سے ہمیشہ امریکا نے فائدہ اٹھایا، لیکن اب ہم وہ کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں بہتر ہوگا'۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ 'ہم امریکا کے ساتھ ساتھ چین سے بھی رابطے رکھیں گے، کیونکہ دونوں سے تعلقات اہم ہیں۔ ہم باہمی احترام اور برابری کی سطح پر خارجہ تعلقات چاہتے ہیں'۔

بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'آمادگی کے بعد ملاقات کی منسوخی سمجھ سے بالاتر ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'کرتارپور کا راستہ کھولنا ہماری امن کی خواہش کا عکاس ہے'۔

اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جنرل اسمبلی اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سمیت عالمی اور علاقائی صورتحال پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر خارجہ کی امریکا میں چالیس سے زائد ملاقاتیں ہوں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *