امن کو موقع کیوں نہ دیا جائے ؟

"آصف خورشید رانا"

کیا جنگ کے علاوہ بھی کوئی آپشن ہے؟ یہ سوال ایک بار پھر سے ذہنوں میں گردش کرنے لگا ہے ۔ وجہ صرف یہ ہے کہ اب جنگ محض دو ملکوں کا مسئلہ نہیں ہو گا بلکہ جنگ کے شعلے جنوبی ایشیا سمیت کئی ایسی ریاستوں کو بھی متاثر کر دیں گے جن کے مفادات اس خطے سے جڑے ہوئے ہیں ۔پاکستان میں حالیہ انتخابات کے بعد نئی حکومت نے بھاگ دوڑ سنبھالی تو ماضی کی حکومتوں کی طرح خطے میں امن کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ اپنی پہلی تقریر میں ہی پاکستان کے نئے کپتان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو جنوبی ایشیا کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے تمام تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کی تجویز دی ۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان کی تقریب حلف برداری میں بھارت سے آئے ہوئے ان کے ذاتی مہمان جب واپس گئے تو دونوں ممالک کے لیے امن کی آواز بن کر ابھرے ۔ بھارتی میڈیا کی تمام تر شر انگیزی کے باجود نجوت سنگھ سدھو پاکستان کی مہمان نوازی کے خلاف ایک حرف بھی نہ کہہ پائے ۔ یہی نہیں پاکستان کے آرمی چیف نے بھارتی مہمان سدھو کو گلے لگا کر بھارتی عوام کو امن کا پیغام دیا جسے بھارتی میڈیا نے منفی پراپیگنڈے میں اڑا دیا ۔پاکستان نے اپنے مہمان کی تکریم کرتے ہوئے سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور سرحد کھولنے کا تحفہ دیا لیکن بھارتی میڈیا کی جانب سے اس خیر سگالی اقدام کو بھی اپنے منفی ایجنڈے کے ذریعے مسترد کر دیا ۔
جنوبی ایشیا میں پاک بھارت تناؤ سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد دنیا کا پانچواں حصہ ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اس بار جنگ محض روایتی ہتھیاروں سے نہیں ہو سکے گی ۔دونوں ممالک جنوبی ایشیا کی ایٹمی قوتیں ہونے کے ساتھ ساتھ جدید مزائل ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہیں جبکہ خطے میں دیگر طاقتوں کے مفادات کی وجہ سے جنگ مزید بڑے پیمانے پر پھیلنے کے امکانات پہلے کی نسبت کہیں ذیادہ ہیں ۔دنیا اس وقت معاشی ترقی اورامن کے لیے اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں اس کی تازہ مثال کوریائی ممالک ہیں ۔پھر کیا وجہ ہے کہ جنگی جنون میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جارہاہے ۔دونوں ممالک کے اس جنگی جنون کی وجہ سے دو ارب کے قریب آبادی مختلف مسائل کا شکا ر ہے جن میں سرفہرست غربت ، ناخواندگی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہو چکا تھاتاہم پاکستان میں نئی حکومت کا اقتدار میں آنا اور جنرل اسمبلی کا عام اجلاس یہ موقع فراہم کررہا تھا کہ مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے شروع ہو جہاں سے منقطع ہوا تھا ۔ کپتان نے اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لیے بھارتی ہم منصب کو خط بھی لکھ ڈالا ۔ اس خط نے راہ مزید ہموار کر دی اور بھارت نے جنرل اسمبلی کے موقع پر وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کا عندیہ دے دیا ۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا نے پھر سے منفی پراپیگنڈا کا آغاز کر دیا جس پر مجبور ہو کر بھارت کو سرکاری طور پر یہ وضاحت دینا پڑ گئی کہ وزرائے خارجہ کی ملاقات تو ہو گی لیکن اس میں کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔بھارتی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے لیے آئندہ آنے والے انتخابات بھی اہم تھے ۔بھارتی میڈیا پر منفی مہم کے بعد حکمران جماعت نے محسوس کر لیا کہ آئندہ انتخابات کے لیے یہ مہم انہیں اقتدار سے محروم رکھ سکتی ہے جبکہ یہ جماعت پاکستان مخالف کی بنیاد پر ہی تو گزشتہ انتخابات جیت پائی تھی ۔اس لیے حکمران جماعت نے یہ رسک نہیں لے سکتی تھی ۔چنانچہ بھارت نے بے بنیاد الزامات لگا کر نہ صرف وزرائے خارجہ کی ملاقات کا ایجنڈا ختم کر دیا بلکہ مذاکرات کا اعلان کرنے کی وجہ سے ہونے والے مقامی سطح پر سیاسی نقصان کو پورا کرنے کے لیے آرمی چیف کے ذریعے غیر سفارتی انداز میں پاکستان کو دھمکی بھی دے ڈالی ۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا دور بغیر کسی ملاقات کے ہی نہ صرف ختم ہو گیا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بھی انتہائی طور پر کشیدہ ہو گئے ۔
بھارت نے مذاکرات کے خاتمہ کے لیے ایک ایسے ایشو کو بنیاد بنایاجو موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے سے پہلے کا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ کرنے پر بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ ان مذاکرات کی منسوخی سے ایک بار پھر دنیا پر عیاں ہو چکا ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہی دوطرفہ مسائل کے حل میں رکاوٹ ہے ۔دوسری جانب بھارتی آرمی چیف کی جانب سے براہ راست دھمکی سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ موجودہ حکومت بھارتی آرمی کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اورسب سے بڑی جمہوریت کا دعوٰی بھی محض ڈھونگ ہی ہے ۔بھارت کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں غربت ، ناخواندگی ، بے روزگاری اور دیگر انسانی مسائل کا گراف مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔حکمران جماعت کی جانب سے معاشی ترقی کے دعووں کے باوجود بھارت میں ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جن کی آمدنی ایک ڈالر سے بھی کم ہے ۔عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایک ارب سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔بھارت کی ایک بڑی آبادی رات کو فٹ پاتھوں پر سونے پر مجبور ہے ۔ بے روزگارنوجوانوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشی ناہمواری میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ امیر طبقہ امیر تر اور غریب طبقہ دن بدن غریب ہو رہا ہے ۔ مودی سرکار کے دور میں معاشی بد حالی کے علاوہ نسل پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کا انڈیکس بھی بڑھنے لگا ہے لیکن اس کے باوجود بھارتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ اپنے جنگی جنون کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے ۔رواں مالی سال کے لیے بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں تیس کھرب کا اضافہ کیا جو گزشتہ سال کی نسبت تقریباً آٹھ فیصد تھا جبکہ گزشتہ سال بھی اس بجٹ میں دس فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔دوسری طرف پاکستان کی معاشی حالت بھی کچھ بہتر نہیں ہے ۔پاکستان کی نئی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج جو درپیش ہے وہ معاشی استحکام ہے ۔اگر موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی تو عوام کسی صورت انہیں قبول نہیں کرے گی کیونکہ توقعات بہت ذیادہ ہیں لیکن وسائل اسی طرح محدود ہیں ۔
ان سب کے باوجود جنوبی ایشیا کا امن دونوں ممالک کے بہترین تعلقات کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔عالمی طاقتوں کے لیے بھی اس خطے میں مختلف قسم کے معاشی مفادات موجود ہیں ۔ امریکہ ایشیا پیسیفک میں بھارت جبکہ چین اقتصادی راہداری کے حوالہ سے پاکستان کو ترجیح دے رہا ہے ۔افغانستان میں عالمی طاقتوں کی موجودگی بھی دونوں ممالک کے ساتھ جڑے مفادات کو واضح کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے دونوں ممالک دنیا کے لیے سٹریٹیجک اہمیت کا مرکز بن چکے ہیں اور یہاں پر کسی قسم کی بھی جارحیت ایک بہت بڑے حادثے کو جنم دے سکتی ہے ۔ لہٰذا جہاں دونوں ممالک کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اس کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھارت کے رویے پر بھی غور کرنا چاہیے کیونکہ بھارت نے ہمیشہ اپنی داخلی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کو ثبو تاز کیا ہے ۔ بھارت کا جنگی جنون اور آرمی چیف کا غیر سنجیدہ بیان بھی اس خطے میں جنگی آگ بھڑکا سکتا ہے ۔ پاکستان کسی قیمت پر بھارتی بالادستی قبول نہیں کرے گا اور برابری کی سطح پر مذاکرات کا حامی ہے ۔موجودہ حکومت نے ایک مثبت قدم اٹھایا جس کا بھارت کی جانب سے منفی جواب دیا گیا ۔جب تک عالمی قوتیں اس مسئلہ میں ثالثی کا کردار ادا نہیں کرتیں مسائل کے حل کی امید ممکن دکھائی نہیں دے رہی ۔ سو عالمی قوتوں کو چاہیے کہ اپنے معاشی مفادات کو سمیٹنے کے لیے اور دنیا کو نئی تباہی سے بچانے کے لیے امن کو موقع دیا جائے اور یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب بھارت سنجیدہ ہو گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *