یہاں پلان اور سٹریٹیجی کیا بیچیں گے؟

شیکھر دھون سینچری کر چکے تھے۔ روہت شرما ون ڈے میں سات ہزار رنز مکمل کر چکے تھے۔ پاکستانی بولروں کے چہروں پہ ہار نوشتۂ دیوار کی مانند رقم تھی اور مکی آرتھر سر نیہوڑائے اپنی کاپی میں کچھ لکھ رہے تھے۔

نجانے مکی آرتھر کیا لکھ رہے تھے۔ شاید یہی کہ پچھلے میچ کی طرح ایک بار پھر پاکستان نے پلان کو فالو نہیں کیا۔ یہی لکھنے اور کہنے میں عافیت ہے کیونکہ اس سے کم از کم یہ بھرم تو رہ جاتا ہے کہ پلان تو تھا جی مگر شومئی قسمت کہ وہ شرمندۂ تعبیر نہ ہو پایا۔

اور نہیں تو پریس کانفرنس میں اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ دیکھیں ناں جی اگر ہم بیس تیس رنز اور کر لیتے یا اگر ہم تین چار کیچز نہ چھوڑتے یا اگر وہ پاور پلے میں لیگ سپنر کو نہ لاتے یا کم از کم دھونی ہی روہت شرما کو ریویو لینے پہ مجبور نہ کرتے تو آپ دیکھتے ہمارے پلان کیسے تیر بہدف ثابت ہوتے۔

ٹاس جیت کر بیٹنگ کا انتخاب کرتے ہوئے سرفراز کے ذہن میں تھا کہ آج کوئی بیٹنگ کا بحران نہیں آئے گا کیونکہ آج صرف کریز پر مسلسل جم کے جواب دیا جائے گا۔ رن ریٹ بھلے سست رہے مگر وکٹیں بچائی جائیں گی۔

پچھلے دورۂ نیوزی لینڈ پہ جب پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹنگ یکسر ریت کی دیوار ثابت ہوئی تو اسد شفیق نے اگلے میچ کے لئے لائحہ عمل یہ طے کیا کہ وکٹ پہ رکنے کی بجائے، اچھا گیند پڑنے سے پہلے پہلے رنز کر لیے جائیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ اچھا گیند کبھی بتا کر نہیں آتا۔ اور اگلے ٹیسٹ میں یہی ہوا کہ اچھا گیند بار بار بتائے بغیر آتا رہا اور رنز کہیں دور لبِ بام وصل کی آس لئے پڑے رہ گئے۔

جب بھی کوئی سٹریٹیجی خوف کے حصار میں رہ کر تشکیل دی جاتی ہے تو اس کے اثرات بھی خوف کے سائے سے نہیں نکل پاتے۔

دھونتصویر کے کاپی 

کل پاکستان کا پلان یہ تھا کہ وکٹیں گنوائے بغیر کھیل کو آخر تک لے جایا جائے اور ڈیتھ اوورز میں بھرپور اٹیک کیا جائے۔ مگر یہ عقدہ تشنۂ جواب ہی رہا کہ ڈیتھ اوورز میں اٹیک کس نے کرنا تھا اور کس پہ کرنا تھا؟

اس میں دو رائے نہیں کہ بمرہ اور بھوونیشور نے اچھی بولنگ کی مگر امام الحق اور فخر زمان احتیاط کی دامن گیری میں ایسا گِھرے کہ پھر پلو نہ چھڑا پائے۔ دھیرے دھیرے اچھے گیند اور بری قسمت کا تال میل پاورپلے کے سارے درخشاں پلان لے ڈوبا۔

سرفراز نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر چوتھے نمبر پہ بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو اپنے تئیں بارآور بھی ثابت ہوا۔ شعیب ملک اور سرفراز کی پارٹنرشپ نے یہ امید بندھا ڈالی تھی کہ پاکستان ڈھائی سو کے لگ بھگ ہدف ترتیب دے سکے گا۔

واقعی اگر پاکستان ڈھائی سو رنز بنا جاتا تو جیت کے امکانات بہت بڑھ سکتے تھے کیونکہ یہ وکٹ پہلے استعمال شدہ تھی اور شام کے وقت فلڈ لائٹس میں اچھی سیم بولنگ بھارتی مڈل آرڈر کی ناپختگی کو آشکار کر سکتی تھی۔

لیکن حقائق اس اگر مگر سے بہت مختلف نکلے۔ سیم بولنگ کی کاٹ تو اپنی جگہ کچھ نہ کچھ موجود ہی تھی مگر جب شاداب خان جیسے بہترین فیلڈرز بھی جھولی میں گرتے کیچ سے ذرا سا پیچھے رہ جائیں تو دنیا بھر کے پلان اور سٹریٹیجی کیا بیچیں گے؟

چیمپئینز ٹرافی سے اب تک پاکستان کی فتوحات میں بنیادی کردار پاکستانی سیمرز کی تباہ کن بولنگ اور معیاری فیلڈنگ کا رہا ہے۔

ویسے تو تاریخی طور پہ پاکستانی فیلڈنگ کبھی بھی قابلِ رشک نہیں رہی لیکن پچھلے ڈیڑھ سال میں نئے ٹیلنٹ نے یہ تاریخ ہمیں بالکل بُھلا ڈالی تھی۔ اب جبکہ فیلڈنگ کے انہی ناقص معیارات کی نشاطِ ثانیہ کا آغاز ہو چکا ہے تو سیمرز کس دیوار سے سر ٹکرائیں؟

پاک بھارت میچ کا پریشر ویسے ہی بہت زیادہ ہوتا ہے اور ایسی صورتحال میں اگر دو مستند اوپنرز کے تین کیچز ڈراپ کر دئیے جائیں تو گیم خود بخود دم توڑ جاتی ہے۔

پاکستان

فیلڈنگ ہی کی طرح پاکستانی بیٹنگ نے بھی تاریخ میں بہت کم ایسے مواقع پیدا کئے ہیں کہ زریں حروف ڈھونڈنے کی نوبت آئے مگر پچھلے ڈیڑھ سال میں فخر زمان کی شکل میں پاکستان کو ایک ایسا چہرہ میسر آیا تھا کہ مڈل آرڈر کی کمیاں کوتاہیاں اس کے پیچھے چھپ گئی تھیں۔

مگر اب کہ فخر زمان فارم سے آوٹ ہوئے ہیں تو وہی نوے کی دہائی کے بھوت پاکستانی کرکٹ کے سر پہ منڈلانے لگے ہیں۔

ڈریسنگ روم پہ سراسیمگی طاری ہے۔ گراؤنڈ میں سرفراز کا چہرہ سفید گلوز کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایک کونے میں مکی آرتھر سر جھکائے خاموشی سے اپنی کاپی میں کچھ لکھ رہے ہیں۔

شاید وہ لکھ نہیں رہے بلکہ اس دیوار پہ لکھے مستقبل کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی آڑی ترچھی لکیروں کا کوئی سرا نہیں مل رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *