پاکستان، چین اور سی پیک

سڑسٹھ سالوں کا بیانیہ یہ تھا ۔ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری ، ھمالہ سے بلند ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ھے۔ اور حالیہ بیانیہ یہ ھے۔ چین پاکستان میں ایک نئ ایسٹ انڈیا کمپنی بن رھا ھے۔ چین نے پاکستان کو قرضوں میں جکڑ لیا ھے۔ چین پاکستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کر لے گا۔ سی پیک کے معاھدں میں کرپشن شامل ھے۔ ان معاھدں سے پاکستان کو نقصان پہنچ رھا ھے۔ سارا منافع چین لے جاے گا۔ اگر چین ان معاھدں پر نظر ثانی کے لیے تیار نہ ھوا۔ تو ان معاھدں کو اوپن کر دیا جاے گا۔ سی پیک میں نئے پارٹنرز شامل کیے جائیں گے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے اسی نظر ثانی کے لیے ابھی حال ھی میں چین کا دورہ کیا۔ اور چینی صدر سے ملاقات کے بعد سعودی عرب کو ایک تیسرے پارٹنر کے طور پر سی پیک میں شامل کرنے کا فیصلہ ھوا۔ جس کے مطابق گوادر میں تعمیر ھونے والا آئل سٹی پروجیکٹ چین سے لے کر سعودی عرب کو دیا جا رھا ھے۔
اس سے پہلے کہ میں سی پیک اور چین کے متعلق جن شکوک و شبہات اور جس منفی پروپیگنڈے کا اظہار کیا جا رھا ھے۔ اس کے متعلق کچھ لکھوں ۔ بہتر ھے۔ ایک نظر پاک چین دوستی پر ڈال لی جائے ۔ شائد اس نظر ڈالنے سے ھی ھمیں اپنے اس منفی پروپیگنڈے کا جواب مل جائے ۔
چین نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اب تک بےشمار اقدامات اٹھاے ھیں ۔ اور پاکستان کی عملی مدد کی ھے۔ پاکستان چین کی ٹیکنیکل مدد سے کے 8 قراقرم تربیتی ھوائ جہاز بنا رھا ھے۔ جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا جہاز تیار کر رھا ھے۔ الخالد ٹینک بنا رھا ھے۔ جدید اواکس طیارے بنا رھا ھے۔ پاکستان نے چین سے ایل وائ 80 ائر ڈیفینس سسٹم حاصل کیا ھے۔ چین کی مدد سے اٹھ آبدوزیں تیار کر رھا ھے۔ خلائ ٹیکنالوجی میں ترقی کر رھا ھے۔ جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا جہازوں کا جدید ورثزن جے ایف 17 بلاک تھری بنا رھا ھے۔ اس کے علاوہ پاکستان چین سے ففتھ جینریشن جدید سٹیلتھ لڑاکا طیارے جے 31 پاکستان میں تیار کرنے کا معاھدہ کر چکا ھے۔ اور پہلی کھیپ کے طور پر 40 طیارے حاصل ھوں گے۔ یہ لڑاکا طیارے جدید امریکی ایف 35 کے برابر ھیں ۔گولہ بارود کی فیکٹریوں میں چین کی مدد سے خود کفیل ھو چکا ھے۔ آپ کو یاد ھو گا ۔ جنگ پینسٹھ میں ھمارا گولہ بارود ھی ختم ھو گیا تھا اور امریکہ نے ھم پر پابندیاں لگا دی تھیں۔
ایٹمی ٹیکنالوجی میں چین پاکستان کی بہت زیادہ مدد کر رھا ھے۔ بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لیے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ایٹمی بجلی گھروں کے ذریعے 8800 میگا واٹ بجلی تیار کرنا چاھتا ھے۔ اس وقت چین کی مدد سے تیار کردہ چشمہ کے مقام پر چار اور کراچی میں ایک ایٹمی ری ایکٹر کام کر رھا ھے۔ اس کے علاوہ کراچی2 اور کراچی3 زیر تعمیر ھیں ۔ جبکہ چشمہ 5 کا معاھدہ ھو چکا ھے۔ ان ایٹمی ری ایکٹرز سے افزودہ یورینیم اور پلوٹونئیم حاصل ھوتی ھے جو ھمارے ایٹمی پروگرام کے کام آتی ھے۔ یاد رھے۔ جب مغربی ممالک نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر پابندیاں لگائ تھیں ۔ اس وقت چین نے پاکستان کی مدد کی تھی۔ اور تجارتی سطح پر افزودہ یورینیم پاکستان کو مہیا کی تھی۔
سفارتی سطح، بھارت اور امریکہ کے خلاف اور کشمیر کے معاملے میں چین کی پاکستان کے ساتھ کھڑے ھونے کی تاریخ سے پاکستان کا ھر زی روح واقف ھے۔
1978 میں تعمیر ھونے والی شاہراہ قراقرم کی پاکستان کی معاشی و جغرافیائی و سماجی ترقی میں اہمیت سے کون واقف نہیں ۔
2013 میں چین نے پاکستان کے ساتھ سی پیک کا معاھدہ کیا۔ ابتدائی طور پر یہ 46 ارب ڈالر کا تھا۔ جو بعد میں بڑھا کر 61 ارب ڈالر کا کر دیا گیا۔ اور ایک اندازے کے مطابق مکمل ھونے تک سی پیک کی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاے گی۔ جب یہ معاھدہ ھوا۔ اس وقت پاکستان اوسطا 4500 میگا واٹ بجلی کی کمی کا شکار تھا۔ اور 12 گھنٹے سے اٹھارا گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ھو رھی تھی۔ دھشت گردی کی وجہ سے کوئ ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان کے اپنے سرمایہ کار اپنا بزنس بنگلہ دیش میں منتقل کر رھے تھے۔ اور پاکستان کے پاس صرف تین ارب ڈالر کے غیر ملکی کرنسی ذخائر رہ گئے تھے۔ ایسے وقت میں چین کی جانب سے اتنی بڑی سرمایہ کاری اس کی بے مثال دوستی کی شاندار علامت تھی۔ سی پیک معاھدے کے مطابق 11 ارب ڈالر کے قرضوں سے پاکستان میں روڈ انفراء سٹرکچر یعنی موٹر ویز تعمیر ھونا تھیں ۔ یہ قرض 1.6 فیصد سود کی بنیاد پر لیا گیا۔ جبکہ اس وقت ورلڈ بنک کا ریٹ 5 سے 8.5 فیصد تک تھا۔ جبکہ عالمی مارکیٹ میں سود کی شرح 12 فیصد تھی۔ یہ نوازشریف حکومت کا کمال تھا۔ کہ اس نے اتنی کم شرح پر یہ معاھدہ کیا۔ 33 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 2018 تک 10400 میگا واٹ بجلی تیار کرنے کے منصوبے شامل تھے۔ جن کی بنیاد اس اصول پر طے کی گئ کہ پیسہ لگاو اور انہی پراجیکٹس سے منافع حاصل کرو۔ یہ سرمایہ کاری کا ایک بنیادی اصول ھے۔ اور پوری دنیا میں قابل قبول ھے۔ اس کے علاوہ نئ ریلوے لائن ، نیا گوادر ائر پورٹ ، بندر گاہیں، فائبر آپٹیکل لائن، بجلی ترسیل کی نئ لائنیں، اور زرعی پیداوار اور آئ ٹی کے بے شمار منصوبے شامل ھیں ۔
ایک اندازے کے مطابق سی پیک مکمل ھونے پر پاکستان کی سالانہ آمدن میں 50 ھزار ارب ڈالر کا اضافہ ھو گا۔ جبکہ پاکستان 30 سالوں میں چین کو سالانہ 2سے تین ارب ڈالر واپس کرے گا۔ ابتدائی طور پر 25 لاکھ لوگوں کو نوکریاں ملیں گی۔ اور پاکستان کی معاشی ترقی 2025 تک 7.5 فیصد تک بڑھ جاے گی۔ جو نوازشریف حکومت میں پہلے ھی 2.5 سے 5.5 فیصد ھو چکی ھے۔ صرف اتنا سوچ لیں ۔ کہ گوادر کی بندرگاہ دنیا کی سات ارب کی آبادی میں سے پونے تین ارب کی آبادی مستفید ھو گی۔ اور صرف ٹیرف کی مد میں پاکستان کی کتنی آمدن ھو گی۔
چین کی پاکستان کے ساتھ اس تاریخی دوستی ، دفاعی و معاشی مدد ، سفارتی حمایت اور اخلاص کے بعد اگر یہ دھمکایا جاے کہ ھم معاھدے اوپن کر دیں گے۔ کیونکہ ان میں شریف خاندان کی کرپشن شامل ھے۔ اور وقتی فائدے کے لیے سی پیک پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا جاے۔ اس سے زیادہ حماقت نہیں ھو سکتی۔ چین اور امریکہ ایک شدید تجارتی جنگ میں داخل ھو چکے ھیں ۔ اور ھم اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کر رھے ھیں ۔ پورے خطے میں چین کے علاوہ ھمارا کوئ دوست نہیں ۔ اور ھم اسے بھی ناراض کر رھے ھیں ۔ اگر کوئ اعتراض ھے بھی تو اسے خاموشی سے ریاستی سطح پر حل کیا جاے۔ کھلے عام چین جیسے آزمودہ اور مخلص دوست کو محض بغض نواز میں یوں ایمبیرس کیا جاے۔ اس پر کرپشن یا غیر ایمانداری یا ناانصافی کے ان ڈائریکٹ الزامات لگاے جائیں ۔ اپنے پاوں پر کلہاڑی مارنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ اوپر بیان کردہ زیادہ تر معاشی و دفاعی معاھدے نواز شریف نے وقتا فوقتا اپنے مختلف ادوار میں چین کے ساتھ کیے ھیں اور پاکستان کو خود کفیل بنانے کی مخلص کوشش کی ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *