ٹی وی سے گھبرائے ہوئے لوگ

گر آپ   ایک پہاڑی تودے کے گرنے جیسے ماحول  کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو ٹیلیویژن آن کر لیں۔ اب جیسے ہی میں یہ کالم لکھ رہی ہوں تو سامنے ٹی وی کا تین چوتھائی حصہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے لیے وقف کیا گیا نظر آ رہا ہے۔ ہر  دو منٹ کے وقفے کے بعد  کیمرے نیشنل اسمبلی   پر یا پھر نیشنل اسمبلی سپیکر پر فوکس کرتے ہیں  جو اپنی سیٹ پر بوریت کے مارے پریشانی کے عالم مین بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ٹی وی کا ایک تہائی حصہ تین طرح کے ٹکرز سے بھرا پڑا ہے۔ سب سے اوپر والے میں تقریر کے جملے بار بار ظاہر ہوتےنظر آتے ہیں  اور کئی بار یہ ٹکر ٹی وی کے نصف سے بھی زیادہ حصے پر قابض نظر آتا ہے۔ نیچے والے ٹیکر میں ادھر اُدھر کی خبریں ٹمٹماتی نظر آتی ہیں،ابھی اس پر نظر جمتی نہیں کہ ایک نئی ہیڈ لائن سکرین پر ظاہر ہونے لگتی ہے۔ عام طور پر یہ ہیڈ لائنز نہیں بلکہ کمرشل بریکس ہوتی ہیں جن میں بہترین رہائشی منصوبے، بالوں کی خوبصورتی، اور اچھے کوکنگ آئل کی خوبیان اور طریقے بیان کیے جاتے ہیں۔

اس سب کچھ کے  لوگ اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ  وہ اس میں سے بہت کم چیزوں کو توجہ سے نوٹ کر پاتے ہیں۔ ٹکرز، میوزک، فلیشنگ سکوئر، ریکٹینگلز  وغیرہ آج کل پاکستان میں نارملائز کر لیے گئے ہیں۔جب میڈیا کو کچھ خاص نہیں ملتا تو  یہ ان ذرائع کو استعمال کر کے  ناظرین کی آنکھوں اور دماغ پربُری طرح اثر اندداز ہوتے ہیں  اور ان کا ذہنی سکون برباد کر ڈالتے ہیں۔ ان کا مقصد ہی ناظرین کی توقعات اور بے چینی بڑھانا ہوتا ہے۔

جب معاملات بگڑ جاتے ہیں تو اس سے بھی برا رویہ اختیار کر لیا جاتا ہے،  خاص طور پر تب جب بہت زیادہ بارشیں ہوں، زلزلے آئیں یا دہشت گردی کے واقعات پیش آئین ۔ ایسے موقعے پر رپورٹرز سے توقع کی جاتی ہے کہ  وہ زیادہ سنجیدگی اور پشمانی کا اظہار اپنی آواز میں لائیں  ۔ اس مقصد کے لیے رپورٹرز ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ خود موت کے منہ میں پھنسے ہوں ۔ نیوز روم میں بیٹھے اینکرز اپنا کام خوشی سے کرتے ہیں ۔ جس چیز کا اظہار وہ میک اپ سے نہیں کر سکتے وہ اپنی آواز سے کر لیتے ہیں  اور چھوٹی چھوٹی خبروں کو بھی بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ٹاک شوز بھی ایک حادثہ کی ہی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کافی عرصہ سے سیاست ہمارے ہاں ایک انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ بن چکی ہے  لیکن عام دنیامیں یہ بری جب کہ پاکستان میں یہ سب سے بُری انٹرٹینمنٹ ہے۔  ٹاک شوز میں بیٹھے پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کچھ ریگولر اہلکار ڈیکورم کا خیال نہیں رکھتے ۔ یہ لوگ ٹانگیں چوڑی کر کے ، ہاتھ سمیٹ کر اور ایسے طریقے سے بولتے ہیں کہ اپنے الفاظ پر بلکل توجہ نہیں دیتے۔

پارٹی کی طرف سے دئیے گئے نکات کو پیش کرنا ارو کسی خبر کا اصل تجزیہ  کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ آج کل زیادہ تر وقت پارٹی نظریات بیان کرنے پر اور کم وقت  اصل تجزیہ کو دی جاتی ہے اور اگر کوئی تجزیہ کار موجود نہ ہو تو لوگ کنفیوژ ہو سکتے ہیں۔  پھر مردوعورت کے فرق کا بھی بہت بڑا مسئلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔  زیادہ تر مردوں کو ہی ٹالک شوز میں بلایا جاتا ہے  خواتین تجزیہ کاروں کو بہت کم مواقع ملتے ہیں ۔ ایسی خواتین کا مقصد بھی  محض کیوں کیسے جیسے سوالات پوچھنے تک محدود رہتا ہے۔

مارننگ شوز کو خواتین کا وقت قرار دیا جاتا ہے  لیکن وہاں بھی بہت سے مسائل ہیں۔ اگر سیاسی ٹالک شو میں حصہ لینے والی خواتین  سجاوٹ کے کاموں سے تعلق رکھنے والے شوز میں بیٹھیں گی  اور خود کو سجاوٹ کے کاموں میں ماہر ظاہر کریں گی تو کیسا محسوس ہو گا؟  کتنے افسوس کی بات ہے کہ خواتین ہی دوسری خواتین کے راستے میں حائل ہو جاتی ہیں  اور اس مقصد کے لیے کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔

ایک عجیب سا ماحول بنا ہوا ہے صرف اسلیے نہین کہ پاکستان میں صرف نوجوان خواتین کو مثالی سمجھا  جاتا ہے  یعنی ایسی خواتین کو جن کی عمر 25 سال سے کم ہو۔ اسوجہ سےشو کی میزبان کو ایسا دکھانا پڑتا ہے جیسے وہ 25 سال یا اس سے کم عمر ہو  تا کہ ملک کے عوام کی توقعات پر پورا اتر سکیں چاہے اس کے لیے مصنوعی طریقہ ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔ بڑی عمر کے انسان کی ایکٹنگ کرنا یا یا پھر بڑی عمر کا ہونا معاشرے میں قابل قبول نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی  25 سال کے زیادہ عمر کے لوگ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

نوجوان، مزاحیہ اور سمارٹ دکھنے کے شوق مین جہاں نوجوان سے مراد کم عمر نہیں بلکہ جسمانی طور پر پتلا ہونا ہے، بہت سے شوز ایسے ہوتے ہیں جو گھنٹو ں مختلف رسیپیز، گپ شپ اور ایک دوسرے پر تنقید جیسے بورنگ اور عدم دلچسپی کے مواد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ٹی وی پر تنقیدی نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ ٹی وی آج کے دور کا سب سے اہم ویژول کلچر کی علامت ہے۔ سیاسی گفتگو پر مشتمل پروگراموں کی کمی ، خواتین کی  معاشرے میں حالت جیسے مسائل پر پروگراموں کی کمی جہان کچھ عرصہ قبل عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر جیسے لوگوں کو اکثر خراج تحسین پیش کیا جاتا تھا  اور دوسرے غیر ضروری موضاعا ت پر حد سے زیادہ توجہ آج کے دور کی سب سے بڑی مشکل صورت حال ہے۔ اس کے بعد  ہیڈل لائنز کے علاوہ بار بار نئی خبروں کا آنا اور ٹکرز کا چلنا بھی تکلیف  دہ ہے۔  اس طرح کے تمام چینلز کو چاہیے کہ عوام پر رحم کھائیں  جو پہلے ہی2018 میں آنے والی مشکلات سے بہت تنگ ہیں  ان سے تھوڑا رحم کا معاملہ کریں اور خاص طور پر ان لوگوں کے بارے میں سوچیں  جن کے لونگ رومز کی وجہ سے ان کی دکان چلتی  ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *