نواز شریف اور قانون کی لٹکتی تلوار

13؍ جولائی کو کینسر میں مبتلا اپنی شریک حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر وطن واپسی کا فیصلہ یقیناً ایک مشکل اور کٹھن ترین مرحلہ تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز نے لندن سے پاکستان آ کر گرفتاری پیش کی۔ انہیں اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے عدالتی فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کر دی۔ جس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عدلیہ نے تینوں ملزمان کی سزا معطلی کا فیصلہ جاری کر دیا۔ میاں نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزائوں کی معطلی ایک عارضی ریلیف ہے۔ قانون کی تلوار ان کے سروں پر لٹکتی رہے گی۔

11؍ ستمبر کو لندن میں بیگم کلثوم نواز کی رحلت کا صدمہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے جواں مردی اور بلند حوصلہ سے برداشت کیا۔ شریک حیات کی جدائی نے ان پر غم کے پہاڑ توڑے مگر وہ ثابت قدمی سے تعزیت کے لئے آنے والوں سے گفتگو کرتے رہے۔ ان کے عمل سے ثابت تھا کہ وہ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ پیرول پر محدود رہائی کے بعد وہ دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیئے گئے بالآخر اسلام آباد ہائیکورٹ سے 19؍ ستمبر 2018بروز بدھ سزا کی معطلی کا فیصلہ غم میں ڈوبے شریف خاندان کے لئے قدرے سکون کا باعث بنا تاہم مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کو ایک طویل مسافت ابھی طے کرنا ہے۔

وطن واپسی اور جیل جانے کا فیصلہ نواز شریف کا اپنا تھا۔ اگر وہ چاہتے تو کلثوم نواز کی صحت کے پیش نظر لندن میں تیمار داری کے حوالے سے وقت گزار سکتے تھے لیکن انہوں نے شاید پابند سلاسل ہونے کا فیصلہ اس لئے بھی کیا کہ ان کی جماعت یا خود انہیں یہ طعنہ نہ دیا جا سکے کہ نواز شریف بھاگ گیا یا جیل جانے سے ڈر گیا۔ سیاسی منظر نامہ میں ابھی نواز شریف کی رہائی مشروط اور نامکمل ہے۔ فی الحال تو وہ کلثوم نواز کی وفات کے باعث عملی سیاست سے کچھ دن دور رہیں گے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ای سی ایل سے اپنا نام ہٹوانے کے لئے بھی عدالت سے رجوع کریں اور بعید از قیاس نہیں کہ حکومت بھی اس عمل کو اپنی عافیت سمجھ کر غنیمت جانے۔ نواز شریف ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ وہ جیل سے باہر رہ کر بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ کیا کر سکتے ہیں؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

نواز شریف وقتی طور پر سہی اڈیالہ جیل سے جاتی امرا پہنچ چکے۔ ن لیگی رہنما ان کی سزا کو انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد وقتی طور پر ہی سہی جیل سے باہر آنے کے بعد کیا سیاسی طرز عمل اختیار کرتے ہیں؟ ان کے سیاسی بیانیے میں کیا وہی جوش و خروش اور زور و شور نظر آئے گا جس کے تحت وہ جیل جانے سے پہلے مقتدر قوتوں کو للکارتے رہے۔ بعض حلقے ان کی رہائی کے حوالے سے ڈیل اور ڈھیل دونوں کی بات کر رہے ہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ان کی اہلیہ مرحومہ کلثوم نواز کے جنازے اور تعزیت کے موقع پر ملکی و غیر ملکی اہم ترین شخصیات سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ امکان ظاہر کیا گیا کہ شاید اسی دوران کوئی مفاہمت بھی طے پا گئی ہو۔ لیکن نواز شریف کا سابقہ عمل اور کردار گواہی دیتا ہے کہ وہ اس طرح کی سفارشوں سے ہی بے نیاز ہو چکے،انہوں نے پیرول سے رہائی کی درخواست پر دستخط کئے اور نہ ہی اس میں توسیع لینے پر اتفاق کیا، وہ اپنے موقف پر اسی طرح ڈٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جیسے پہلے تھے البتہ معروضی حقائق کے مطابق ان کے انداز سیاست میں تبدیلی باعث حیرت ہو گی نہ تعجب خیز۔

پاکستان میں جہاں ہمیشہ غیر یقینی حالات رہتے ہیں اور کسی بھی قسم کے ماحول کی سو فیصد پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، اس میں نواز شریف اور مریم نواز کا سیاست میں کلیدی کردار رہے گا۔ ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کی سیاست ماڈل ٹائون سے جاتی امرا شفٹ ہو چکی ہے بیگم کلثوم نواز کی وفات کے بعد سیاسی قوتوں خصوصاً پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا یہاں آنا اور رنج و الم کی گھڑی میں شریف خاندان کے ساتھ شامل ہونا دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان برف پگھلنے کا باعث بنے گا اور پارلیمنٹ کی سطح پر اہم ایشوز پر اکٹھے نظر آنے کے امکانات بھی معدوم نہیں۔ نواز شریف حکومت کے حوالے سے شدید تحفظات رکھنے والی پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ سیاسی فیصلوں کا اختیار آج بھی نواز شریف کے پاس ہے اور ان کا جاتی امرا میں آ بیٹھنا اور خاموشی اختیار کر لینا بھی بہت سے سیاسی محرکات کا باعث بن سکتا ہے۔ حالیہ الیکشن 2018میں سزائوں کے عمل کے باوجود انتخابی نتائج نے ظاہر کیا کہ نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں بند تو کیا جا سکتا ہے لیکن قومی سیاست سے آئوٹ نہیں کیا جا سکتا۔ نواز شریف اور ان کی سیاست ایک حقیقت ہے اور ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ حقیقت بہرحال تسلیم کرنا پڑے گی۔

دنیا بھر میں جمہوری حکومت کو کسی مقصد کے حصول کے ایک ذریعے کے بجائے خود ایک مقصد تصور کیا جاتا ہے چنانچہ اکثر حکمران اپنے آپ کو جمہوریت کے رکھوالے اور جمہوری تحریکوں کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ زبانی کلامی ہی سہی لیکن دنیا میں جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کی بات بھی کرتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ عین اسی وقت آمریت پسندوں کے ساتھ بھی ان کا محبت و نفرت کا رشتہ نظریہ ضرورت کے تحت استوار رہتا ہے۔ امریکی دانشور فرینک لی نے 2012میں نیو یارک ٹائمز میں شائع اپنے ایک فکر انگیز مضمون میں لکھا تھا کہ: ’’انسانی حکومتوں کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ تاریخ میں جمہوریت پر دو بڑے تجربات ہوئے ہیں۔ پہلا تجربہ ایتھنز میں ہوا جو 150سال چلا۔ دوسرا تجربہ مغرب میں ہوا، اور اگر جمہوریت کا مطلب ایک شہری ایک ووٹ ہے تو اس حساب سے امریکی جمہوریت صرف 100سال پرانی ہے۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ بہت سارے لوگ اس مختصر تجربے کے ساتھ بڑی بہادری سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے بنی نوع انسان کے لئے جمہوریت بطور ایک مثالی سیاسی نظام کے دریافت کر لیا ہے، اس کی کامیابی ہمیشہ کے لئے یقینی ہے‘‘۔

مغرب کا موجودہ جمہوری تجربہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے شروع ہوتا ہے جس کے دو بنیادی آدرش ہیں۔ فرد عاقل ہے اور فرد اپنے حق کے لئے وقف ہے۔ جدید دور میں انسان کے یقین کی یہ بنیاد ہے جس کا آخری یا حتمی اظہار جمہوریت ہے۔ مغربی دنیا میں ابتداء میں گورننس میں جمہوری سوچ نے صنعتی انقلاب کا راستہ ہموار کیا اور معاشی زبوں حالی اور فوجی طاقت کی نئی مثال قائم کی لیکن بہت ابتداء ہی سے کچھ لوگ جانتے تھے کہ اس تجربے کے اندر ایک مہلک خامی پوشیدہ ہے اور انہوں نے اس پر قابو پانے کی کوشش کی۔ حاصل کلام یہ کہ جمہوریت بذات خود کوئی مقصد نہیں بلکہ کچھ نیک مقاصد کے حصول کا ایک راستہ ہے۔ عام طور پر ایک سچی جمہوریت کے ساتھ جڑے مقاصد میں سماجی و معاشی انصاف، انسانی حقوق اور شہری آزادیاں شامل ہیں۔ ان مقاصد کو نظر انداز کر کے محض جمہوریت ہی کو منزل سمجھ لینا تاریخی منشاء کے خلاف ہے۔

پاکستان میں کمزور جمہوریت اور مضبوط آمریت کے تجربات کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔ سماجی و معاشی انصاف کے ساتھ ’’سیاسی، قانونی اور آئینی انصاف‘‘ سے بھی کون واقف نہیں۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیاں ہنوز بہت دور ہیں۔ سیاستدانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے تذکرہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جس طرح ملک کے سابق وزیراعظم اور اس کے خاندان کے مقدمہ کی سماعت ہوئی، بنچ کے بھرپور سوالات کے جواب میں نیب کو پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا گیا۔ ہر لحاظ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ ایک کمزور فیصلہ اور کمزور تحقیقات تھیں جس کی نشاندہی سپریم کورٹ میں بھی ہوئی جہاں نیب کو شدید سبکی اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔ چوٹی کے تمام قانونی ماہرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ ایک کمزور کیس تھا۔ اس کیس نے پاکستان کے سیاسی ماحول کو بدل کے رکھ دیاجو ایک سنگین دوراہے پر پہنچ چکا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کا دورانیہ اور اس کے بعد قانونی جنگ کتنی طویل ہو گی ہم نہیں جانتے تاہم مقبول لیکن معتوب سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کی روش نے ہمارے ملک کے سیاسی و جمہوری نظام کو گدلا کر کے رکھ دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *