اقبال کا ایک شعر اور منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘

لاہور سے گرینڈ ٹرنک روڈ پر راولپنڈی کی طرف روانہ ہوں تو کوئی 22 کلومیٹر کی مسافت پر مریدکے کا قصبہ واقع ہے۔ یہاں سے داہنی طرف ایک سڑک نکلتی ہے جو نارووال سے گزرتی ہوئی شکر گڑھ تک پہنچتی ہے۔ کوئی تیس برس گزرے، اس سڑک پر بار بار سفر کرنے کا موقع ملا کیونکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے رزق کا دانہ اس خطے میں رکھ دیا تھا۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ جہاں دانہ ہو، وہاں دام بھی کہیں قریب ہی ہوتا ہے۔ درویش دو برس بعد دام کے دائمی امکان سے گھبرا گیا اور دانہ چھوڑ کر لاہور واپس چلا آیا۔ لاہور میں دوست، کبوتر، چڑیا اور پرانے پیڑ تھے۔ نانک شاہی اینٹ سے بنے کچھ مکان باقی تھے جہاں لکڑی سے بنے نازک مگر خستہ دریچوں سے رات گئے تک روشنیاں چھنتی تھیں۔ علم کے ٹھنڈے میٹھے پانیوں سے ذہنوں کو سیراب کرنے والے استاد تھے۔ اے وقتِ تو خوش کہ وقت ما خوش کردی۔ یہ فرد کے اپنے انتخاب کا معاملہ ہے۔ چاہے تو دل کے راہوار کو لامتناہی خواہش کی پگڈنڈیوں پر ڈال دے، اور اگر چاہے تو نعمت کی سرخوشی میں دن کاٹ لے۔ نیلے آسمان پر بادل کی ایک آوارہ ٹکڑی دیکھنا کتنی بڑی مسرت ہے یہ کوئی اس زندانی سے پوچھے، جس سے آسمان چھین لیا جاتا ہے۔ آسکر وائلڈ نے ریڈنگ جیل کا گیت لکھا تو پانچویں کینٹو میں قلم توڑ دیا…

I know not whether Laws be right,

Or whether Laws be wrong;

All that we know who lie in gaol

Is that the wall is strong;

And that each day is like a year,

A year whose days are long.

آسکر وائلڈ کو کیا خبر تھی کہ اس کے بعد آنے والوں میں محی الدین ابوالکلام نام کا ایک مرد آزاد قلعہ احمد آباد کے زنداں میں ’غبار خاطر‘ لکھے گا، اس دنیا میں گرامچی، فیض احمد فیض، ناظم حکمت، مقبول بٹ اور نیلسن منڈیلا آئیں گے۔ اونچی دیوار اور طویل دن کی روایت پاکستان نامی ایک ملک میں سندھو دریا کے کنارے واقع اٹک قلعے تک پہنچے گی۔ (عزیزان گرامی قدر! لکھنے والا جانتا ہے کہ اس حکایت کو مزید طول دیا تو سطر کٹ جائے گی۔ لہٰذا، واپس منظور شدہ نصاب سے رجوع کرتا ہے)

ذکر مریدکے سے شمال کی طرف مڑنے والی سڑک کا تھا، یہاں پر دو کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی اکیڈمی ہے۔ زرخیز زمین کے وسیع قطعات کو سبز میدانوں میں بدل دیا ہے۔ خدا نہ کرے کہ نئے پاکستان کے ناخداؤں کی نظر اس پر پڑے۔ نیلام کر دیں گے۔ اس اکیڈمی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایک ملحقہ عمارت تعمیر کی گئی ہے جہاں نجی اور سرکاری ادارے مناسب ادائی کر کے اپنے اجلاس اور تربیتی پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ سال گزشتہ یہاں پر مدعو کیا گیا۔ جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ کے نوجوانوں سے بات کرنا تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ پروفیسر، مولوی اور وکیل کو موضوع جاننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اذن اظہار دیا جائے اور کلام کی روانی دیکھی جائے۔ مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا۔ اوائل سرما کی اس دوپہر البتہ حیرت ہوئی جب کہا گیا کہ آپ کو مختلف شعبوں میں پاکستان کے قابل فخر شہریوں کے بارے میں بات کرنا ہے۔ گویا اچھوں کا ذکر کرنا ہے۔ ہمیں تو نسل درنسل عیب جوئی، الزام تراشی اور دشنام گوئی کی تربیت دی گئی ہے۔ بڑے سے تختے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی کی فہرست لکھی اور ستارے گنوانا شروع کئے۔ رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں کی آنکھوں میں تعجب اتر آیا۔ سیاست، وکالت، طب، سماجی خدمت،ادب، دفاع وطن، انتظامی خدمات، رفاہ عامہ، صحافت، تعلیم… غرضیکہ جس شعبے کا ذکر ہوا، معروف، گمنام لیکن بہرصورت قابل احترام ناموں کی کہکشاں اتر آئی۔ جو نام لیا، کردار کی ایسی روشنی کوندی کہ آنکھ کو تاب نظارہ نہ تھی۔ کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است۔ ایک گیانی نے کہا تھا کہ رات زیادہ تاریک ہو تو ستاروں کی روشنی بڑھ جاتی ہے۔

یہ قصہ اس لئے دہرایا کہ مہذب معاشرہ خوبی کی تحسین اور خامی کی نشاندہی میں توازن قائم کرنے سے تشکیل پاتا ہے۔ تنقیدی شعور سے عاری معاشروں میں شخصیت پرستی سے بات شروع ہوتی ہے۔ اور جب زمینی حقائق سے واسطہ پڑتا ہے تو گزرے ہوئے کل کے مرمریں صنم کو شیطان مجسم قرار دے کر ایک نیا بت تراش لیا جاتا ہے۔ معاشرہ مسلسل قطبیت اور قطعیت کے جادوئی قالین پر سوار رہتا ہے۔ بامعنی مکالمہ مرتب نہیں ہو پاتا۔ وقفے وقفے سے ایک دوسرے سے پوچھا جاتا ہے کہ کل جس کو مسیحا جان کر پرستش کی تھی، وہ مٹی کا مادھو کیوں نکلا؟ اس لئے صاحب کہ ہم نے دستور، ادارے، ضابطے اور تحقیق سے منہ موڑ کر کالے جادو کا توڑ کرنے والے تعویز مرموز اور محبوب گل رخ کو اپنے قدموں پر جھکانے والے معجون مجرب سے توقع باندھ رکھی ہے۔ ایک عارف عصر کہتا ہے کہ فلاں مرد ناداں کی تربیت میں سات برس گنوائے۔ ایک صاحب قلم بارہ برس کی پیش گاہی کا نوحہ لکھتا ہے۔ اور کچھ سند باد جہازی ابھی اپنے خواب نیم روز میں ہیں۔ 2012 کے آخری ایام تھے۔ گجرات یونیورسٹی کے ایک اجتماع میں عصائے شیخ کو قلم باندھنے والے صحافی نے جب خود تراشیدہ میر کارواں کی تعریف میں کچھ زیادہ ہی غلو کیا تو استاد محترم آئی اے رحمن روسٹرم پر تشریف لائے اور اقبال کا ایک شعر پڑھا۔ سنئے۔

خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی

پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام!

چھ برس گزر گئے۔ خیال آتا ہے کہ اب تو بات اقبال کے شعر سے کئی درجے آگے نکل گئی۔ منٹو کے افسانے ’کھول دو‘میں ستم رسیدہ بچی مسلسل تشدد، زیادتی اور بے بسی کی آزمائش سہتے سہتے خوئے اطاعت میں اس کیفیت کو پہنچ گئی کہ اسے مخاطب کرنے کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ مخصوص لفظ سنتے ہی مردہ بدن بھی حکم کی تعمیل کے لئے حرکت میں آ جاتا تھا۔ واللہ لکھنے والے کا اشارہ ان پچاس کے لگ بھگ الیکٹ ایبلز کی طرف نہیں جنہوں نے مردہ خانے میں اسم اعظم کی بازگشت سنتے ہی اشارہ فیض پر سپر ڈال دی لیکن لیلیٰ کے محمل میں داخلے کا اذن نہیں مل سکا۔ مجھے تو ان آشفتگان سلوک کے انجام کی فکر ہے جنہیں حریم ناز میں نشست مل گئی ہے مگر مختار صدیقی کی ’ـباز یافتہ‘کی طرح کھوئی کھوئی نظروں سے چاروں طرف دیکھتے ہیں…

طوفان میں جو ناؤ کھو گئی تھی

پھر آن لگی ہے اس کنارے

یوں تو ہے خدا کا شکر واجب

مگر کسے ناخدا پکارے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *