ہندوستان اور پاکستان کی "مذاقیہ" جنگ

کراچی: چار سال قبل جب بھارت نے بی جے پی کو اقتدار کے لیے چنا  تو پاکستان کے فیمنسٹ شاعر اور امن کی خواہشمند فہمیدہ ریاض نے نئے انڈیا کو پرانے پاکستان کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے ایک مایوس کن نظم پڑھی۔

اب معلوم ہوا تم بھی ہم جیسے ہو،

اتنی دیر تم کہاں چھپے تھے بھائی؟

پاکستان میں مسز ریاض کو نہ صرف ایک مایوس پیسنک تصور کیا جاتا ہے بلکہ ایک ہندوستان  کا عاشق بھی مانا جاتا ہے۔ ان کے پاس اس کی وجہ بھی ہے۔ 1980 کی دہائی میں بہت سے مصنفین اور  ایکٹوسٹس کی طرح، مسز ریاض کو اس وقت کی فوجی حکومت نے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا۔ جہاں  دوسروں نے مغربی ممالک کی طرف ہجرت کی، مسز ریاض نے انڈیا میں جلاوطنی  اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں وہ اس وقت 6 سال تک رہیں۔ ان کے بے شمار مداح ہیں اور وہ اپنے ملک میں یا بیرون ملک اقتدار پر قابض لوگوں کے خلاف سچ بولنے سے نہین گھبراتیں۔

پچھلی جمعرات پاکستان اور ہندوستان مین امن چاہنے والے بھی پر امید تھے جب بھارت اور پاکستان مذاکرات پر متفق ہوئے۔ امید کی لہر ایک دن مین ہی ختم ہو گئی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ہندوستانی حکومت کو ایک خط لکھا تھا یہ مشورہ دیتے ہوئے کہ پاکستانی اور ہندوستانی وزرا خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سالانہ تقریب میں ملیں ۔ ہندوستان نے یہ مشورہ تو قبول کر لیا لیکن یہ واضح کر دیا کہ یہ میٹنگ مذاکرات کی دوبارہ شروعات نہیں بلکہ صرف ایک میٹنگ ہی  ہو گی۔

یہ دیکھتے ہوے کہ تین سال قبل وزارت خارجہ کی طے شدہ میٹنگ آخری لمحے کینسل کر دی گئی تھی، موجودہ حکومتوں کا اتفاق کر لینا ایک اچھا شگون سمجھا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے یہ رپورٹس بھی آئیں کہ پاکستان کے آرمی چیف امن کی بحالی کی کوشش  کے لیے اپنے ہندوستانی ہم منصب سے ملے۔

اور اس وقت ہندوستان اور پاکستان نے وہی کیا جو وہ کرتے ہیں۔ جمعے والے دن ہندوستانی حکومت نے ایک سخت بیان میں اچانک یہ اعلان کیا کہ  انہوں نے مسٹر خان کا ''اصلی چہرہ'' دیکھ لیا ہے اور اب کوئی میٹنگ نہیں ہو گی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ذرائع ابلاغ کی مہریں جاری کی   جن پر ایک کشمیری ملی ٹینٹ کی تصویر چھپی ہوئی تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بھارت مخالف کشمیری جنگجوؤں کا ساتھ دے رہا ہے۔ ۔ ہندوستان نے پاکستان پر لائن آف کنٹرول پر تین ہندوستانی پولیس  اہلکاروں  کے قتل کا الزام بھی لگایا ہے۔

لیکن یہ مہریں تب جاری کی گئی تھیں جب مسٹر خان وزیر اعظم نہیں تھے۔ اور بارڈر کے دونوں اطراف فوجیوں اور عام لوگوں کا قتل عام کئی سالوں سے ایک خوفناک روٹین رہی ہے۔

اس دن سے دونوں ممالک کا میڈیا  ایک جنگی صورتحال کا سماں پیدا کیے ہوئے ہے۔ مسٹر خان نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندرا مودی کا واضح حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹ کیا، ''اپنی پوری زندگی میں میں نے چھوٹے لوگوں کو بڑے دفتروں پر قبضہ کرتے دیکھا''۔ہندوستانی آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کو اس کی بربریت کی سزا ملنی چاہیے اور انہیں درد کا احساس ہونا چاہیے۔ پاکستانی آرمی کے ترجمان نے اعلان کیا کہ پاکستان جنگ کے لیے تیار ہے لیکن امن کا انتخاب کرنا بہتر سمجھتا ہے۔  پاکستان کے سیزنل جہادیوں نے بیان دیا کہ آرمی کو چاہیے کہ وہ  انہیں بارڈر پر تعینات کرے تا کہ وہ ملک کا دفاع کر سکیں۔

72 گھنٹے کے اندر حالات ''آئیں بیٹھیں اور مذاکرات کے بارے میں بات کریں'' سے ''میں تمھارا منہ توڑ دوں گا'' کی طرف آ گئی۔  اس طرح کی لڑائیاں تو سکول کے بچے بھی نہیں کرتے۔

پاکستانی فوج کے مقابلے میں ہندوستانی فوج سویلین  حکومت کے احکام ماننے کی پابند ہے۔ پاکستانی جمہوریت پسند ہمیں یاد دلانا پسند کرتے ہیں کہ ہندوستانی فوج سیاست سے دور رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت  مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن ہندوستانی آرمی چیف کے درد کے وعدے کے بعد پاکستانی حکومت کے ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ بھارتی جنتا پارٹی کے کارندے کے طور پر کام کر رہا تھا۔

ایک پاکستانی فوج ہے جس نے ملک  کی تاریخ کے نصف سے زیادہ  حصہ تک براہ راست حکومت کی، اس نے ہندوستانی فوج پر سیاسی معاملات میں مداخلت  کا الزام لگا کر ایک دلچسپ صورتحال پیدا کر دی۔ طنز نے نمستے کہا اور گنگا میں چھلانگ لگا دی۔

پنڈت جمعہ کے واقعات کو ہندوستان میں انتخابات  سے جوڑتے ہیں جو اگلے سال ہونے کو ہیں۔ مسٹر مودی اگلے سال سخت انتخابات کا سامنا کرنے والے ہیں، اور ان کی حکومت ایک سکینڈل میں پھنسی ہے جس کے تحت وہ 9 بلین سے زائد ڈالر ایک ہندوستانی ریئس کو فرانسیسی جیٹ فائیٹر بنانے کے لیے دینے میں ملوث ہیں۔ اس رئیس نے کبھی  جہاز سے ملتی جلتی بھی کوئی چیز نہیں بنائی ہے۔ مسٹر مودی کو ان کے سیاسی حریفوں کی طرف سے بد عنوان کہا جا رہا ہے۔ ان کا جواب یہ ہے کہ  اپنے پیچھے دیکھو! پاکستان ہم سب کو مارنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

کچھ ماہ پہلے جب مسٹر خان مہم چلا رہے تھے، ان کا  بیان یہ تھا کہ موجودہ نواز شریف ہندوستان کے ساتھ نرم ہیں۔ ان کے سپورٹرز نے مسٹر شریف کو ''مودی کا یار'' کہا، کیوں کہ نواز شریف نے 2014 میں مسٹر مودی کے وزیر اعظم  بننے کی تقریب میں حصہ لیا اور ہندوستان کے وزیر اعظم نے 2015 میں لاہور سے باہر نواز شریف کے  ذاتی  گھر کا نجی دورہ کیا۔ اب بی جے پی، حکومتی پارٹی کے چیئرمین امیت شاہ کہتے ہیں: ''دیکھو، پاکستان مسٹر مودی کو چلتا کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ ہندوستانی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی چاہتے ہیں۔'' اگر آپ کے گھر میں مسئلہ ہے تو اس کا ملبہ پڑوسی پر پھینک دو اور اپنے پڑوسی ملک کے لوگوں کو فسادی کہہ دو۔

ستمبر 28 سے 30 تک ہندوستان کا برائے نام سرجیکل سٹرائیک کی یاد منانے کا ارادہ ہے۔ بھارت کا دعوی ہے کہ اس نے 2 سال قبل پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کیا تھا  جس میں بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کراس کر کے  پاکستانی فورسز کو سبق سکھا دیا تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ایسی کوئی سٹرائیک کبھی ہوئی  ہی نہیں۔ لیکن ساتھ ہی پاکستان بھارت کے خلاف ہونے والی جنگوں کی یاد بھی مناتا ہے جو پاکستان کبھی جیت نہیں پایا ہے۔ اب انڈیا ایک ایسی جنگ کی یاد منانا چاہتا ہے جو پاکستان کے مطابق کبھی ہوئی ہی نہیں ۔

یہ جنگی جوش دونوں اطراف میں کچھ بنیادی معاملات کو ڈھانپنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں ایک ہندوستانی مقتول فوجی کے بیٹے سے پوچھا گیا آیا کہ وہ اپنے والد کی موت کا بدلہ چاہتا ہے؟ لڑکا پریشان دکھائی دیتا تھا، اور اس نے ادھر ادھر دیکھا جیسے  وہ نہ جانتا ہو کہ اس سے ایسا سوال کیوں پوچھا گیا۔ میرے والد واپس نہیں آ سکتے، اس نے کہا، لیکن کیا آپ میرے چھوٹے بھائی کو ملازمت دے سکتے ہیں؟ ''مجھے اپنے چھوٹے بھائی کی ملازمت کے لیے کتنی بار پوچھنا پڑے گا؟''

لوگ انتقام چاہتے ہیں یا ملازمتیں چاہتے ہیں؟ جبکہ دونوں اطراف کروڑوں لوگ اپنی فیملی کو کھانا فراہم کرنے کی سکت نہیں رکھتے  جب کہ کئی لوگوں کے لیے جنگ کا طبلہ بجانا ایک اچھی نوکری ہے۔ جنگ کی فضا کا مطلب ملازمت کی فضا ہے۔

خوراک اور موسیقی کے علاوہ  بھی ہندوستان اور پاکستان میں بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں۔ انڈیا نے دوسری حکومتوں کی بنسبت دنیا کی تاریخ کے ریکارڈ میں بہت زیادہ کشمیری سویلینز کو پیلٹ گن کے ساتھ اندھا کیا۔ پاکستان نے اپنے بہت سے شہریوں کو اغوا کیا اور سالوں تک انہیں غائب رکھا۔ دونوں نے یہ قومی تحفظ کے نام پر کیا۔

ایک ہندوستانی صحافی نے حال ہی میں میرے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں  مسز ریاض کی  نظم کا ذکر کیا۔ مسز ریاض کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: تم پاکستانی ضرور اچھا اور اطمینان بخش محسوس کر رہے ہوں گے کہ انڈیا میں کیا ہو رہا ہے۔

وہ  ایسے بات کر رہی تھیں جیسے بھارت کا پاکستان کے ساتھ  جنگ ہماری ناکامی کا ایک مثبت جواب ہے۔ میں نے کہا نہیں زیادہ تر پاکستانی اس نظم کو دہراتے نظر نہیں آتے۔

میں نے حال ہی میں اسے دوبارہ پڑھا۔ اس نظم کا عنوان ہے ، تم ہمارے جیسے ہو۔  بہت  تکلیف کے اظہار اور خواہشات کا موازہ کرنے کے بعد نظم ایک انتباہی نوٹ اور تقریبا ایک تھکے ہوئے محبوب کے  آخری الفاظ پر ختم ہوتی ہے جو یہ ہیں:

جب تم اپنی سر زمین پر پہنچ جاو

تو کبھی کھبار ہمیں خط ضرور لکھ دینا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *