کوچہ ء محبت

موجودہ دور کا انسان اِس زعم میں مبتلا ہے کہ آج کا انسان تاریخ انسانی کے بہترین دور میں ہے مو جودہ دور کا انسان جن ایجادات سے لطف اندوز ہو رہا ہے ۔ماضی کے حکمران اِن پر تعیش ایجادات سے محروم تھے اِس میں کو ئی شک نہیں کہ مو جودہ دور بلا شبہ مشینی ترقی اور سائنسی ترقی کے عروج کا دور ہے انسا ن اپنے نقطہ کمال پر نظر آتا ہے لیکن اگر ہم موجودہ دور کی تر قی کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ راز عیاں ہو جاتا ہے کہ بلا شبہ انسان بہت تر قی کر گیا ہے لیکن اِس تر قی کا جو انسان نے نقصان اٹھا یا ہے وہ بہت بھیا نک ہے مو جودہ دور کی عالمگیر تحریک جو ما دیت پر ستی پر مشتمل ہے اُس نے انسان کے حقیقی حسن کو زنگ آلودہ کر دیا ہے انسان جو اچھا ئی محبت پیار امن بھائی چارے خدمت خلق کا مر قع تھا ما دیت پر ستی نے اُس سے یہ حسن چھین لیا ہے آج کا انسان ما دی جانور کا روپ دھار چکا ہے آج کا انسان خود پسندی اور ما دیت پر ستی کے تکبر میں ڈھل چکا ہے بلکہ آج کا انسان ما دی جانور کے روپ میں دوسروں کو کچلتا جارہا ہے آج کا انسان اچھائی کے زیور سے محروم ہو چکا ہے دولت پانے کے لیے وہ ہر جائز نا جا ئز کے دائرے سے آزاد ہو کر دیوانہ وار مادیت پر ستی کی ختم نہ ہو نے والی شاہراہ پر دوڑا جا رہا ہے ‘ یہ بیما ری امر بیل کی طرح انسان کی ہڈیوں تک سرائیت کر چکی ہے آج کا انسان اپنی ہی ہستی کا غلام ہو گیا ہے وہ صرف اپنے لیے جینا چاہتا ہے دولت کے پیچھے دیوانہ وار دوڑ کر وہ تمام مذہبی اخلا قی اقدار اور روایات کو دفن کر چکا ہے جاہل مو لوی حضرات نے بھی اِس پر خوب تیل چھڑکا ہے ‘ کفر کے گو لے داغ داغ کر معاشرے کا اصل حسن چھین کر نفرت تفرقہ بازی کی طرف معاشرے کو دھکیل دیا ہے مغرب کی مصنوعی چکا چوند کر نے والی ترقی نے تیسری دنیا کے عوام کو بھی اپنے پیچھے لگا لیا ہے آپ آج کے پاکستان کو دیکھ لیں ‘ دانشور حضرات سے میڈیا کے اینکر صاحبان اور پھر سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر اور ان کے لیڈروں کے خوشامدی چیلے جنہوں نے مدح سرائی کے سارے ریکارڈ تو ڑ کر کرپٹ سیاستدانوں کو مومن بنا کر پیش کر دیا ہے ‘ دوستوں کو شکست دینا ‘ نیچا دکھا نا خو د کو سب سے افضل قرار دینا لفظوں کے مداری الفاظ کے جادوگر اپنی تما م مہا رت کر پٹ سیاستدانوں پر خر چ کر رہے ہیں اِس طرح معاشرہ بانجھ اور مر دہ ہو چکا ہے اِن حالات میں ہمیں ایک بار پھر اہل حق کی محافل و مجالس کی طرف رجو ع کر نا ہو گا موجودہ مادیت پرست انسان جو اخلاق کے زیور سے محروم اور با نجھ ہو چکا ہے اِس انسان کو پھر صوفیا کرام کی مٹھاس سے بھر پور محفلوں کی طرف جانا ہوگا یہ مجالس امن محبت پیار اور اخوت کے وہ آنگن ہیں جہاں محبت اور آسانیاں بانٹی جاتی ہیں جہاں پر انسان کی حقیقی کردار سازی کی جاتی ہے جہاں امن و محبت کا سبق دیا جا تا ہے جہاں قلب و روح کوباطن کا زنگ دھو کر نور ایمانی سے چمکا یا جاتا ہے اِن کی مجالس میں جب جنت کے مرغزاروں کا ذکر ہو تا ہے تو چہروں پر خو شی سے نور پھیل جاتے ہیں جہنم کا ذکر ہو تو آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے جو گداز کی نعمت سے ہمکنار کرتی ہے جہاں احترام انسانیت کی مالاجپی جاتی ہے جہاں آدمیت کا نور با نٹا جاتاہے خدا کے عدل پر جسم آتش فشاں کی طرح لر زتے ہیں اُس کے فضل پر باچھیں کھل جا تی ہیں غیرت فقر کا مو ضوع چھڑ جا ئے تو اِن خاک نشینوں اورخر قہ پو شوں کے دما غ میں سکندر کا خیال آجا تا ہے خدمت خلق کا ذکر ہو تو پنداروناموس کے آبگینے چھناکے سے ٹو ٹ جاتے ہیں اِن کی باتیں ایجاو اختصار کا شاندار مر قع ہو تی ہیں قطرے میں دریا اور ذرے میں صحرا کو ئی اِن سے سیکھے اِن کی مجالس میں محمود و ایاز جس طرح ہم رنگ ہو تے ہیں یہ بھی خو ب نظارا ہو تا ہے امیروں غریبوں عالموں جاہلوں گوروں کالوں نیکو کاروں سیا ہ کاروں کی یکجائی کا خوب منظر ہو تا ہے نہ تکبر نہ غرور نہ خو د پسندی نہ تنقید نہ تعریفیں نہ طنز نہ منا ظرانہ پن نہ تحقیر نہ دل آزاری ایک ہی بات جو سب کے دلوں میں اوس بکھیرتی چلی جاتی ہے ۔ اِن کی مجالس جلتے جھلستے ریگستانوں کے مسا فروں کے لیے ٹھنڈی چھاؤں ہے اور ایسے میٹھے چشمے کہ صدیوں کی تھکاوٹ لمحوں میں دور کردیتے ہیں اِن کی اصلاح کا بھی کیاخوب طریقہ ہے ۔ اِس کا اندازہ اِن کے ملفوظات سے ہو تا ہے ان کی گفتگو علمی فنی نہیں بلکہ تبلیغی اور اصلاحی ہوتی ہے یہاں باتوں کی برسات نہیں عمل کا نظارہ ملتا ہے انسان سے پیار احترام انسانیت خوف خدا تعاون ایثار قربانی تقوی محبت خدمت خلق عجز و نیاز کی خو شبو بانٹی جاتی ہے انسان سے محبت رواداری اِن کی سوغات ہے جو روزانہ بانٹی جاتی ہے انسانوں سے بلا امتیاز حقیقی پیار اِن کا عملی مظاہرہ نظر آتا ہے ۔توکل کیا ہے تو کل کا مغز کیا ہے حضرت ابوبکر شبلی ؒ نے فرمایا ایک بار ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھے اپنے زیادہ بچوں کا مسئلہ بیان کیا تو میں نے اُسے کہا اُن افراد یا بچوں کو گھر سے نکال دو جن کے رزق کا ذمہ دار اللہ نہیں تم ہو‘ تم صرف ان کی کفالت کرو جن کا رزق تمہارے ذمہ ہے یہ سن کر اُسے بات سمجھ آگئی اور چلا گیا ۔ ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالمالک ؒ نے صوفی حضرت ابو جازم ؒ سے پو چھا ہم مو ت سے خو فزدہ کیو ں رہتے ہیں‘ آپ ؒ نے فرمایا اِس لیے کہ تم لوگوں نے دنیا کو آباد کر لیا ہے ۔ اپنی آخرت خراب کر لی ہے اِس لیے آبادی سے نکل کر کس کا دل چاہے گا وہ ویرانے میں جا ئے ۔ سلیمان بن عبدالمالک ؒ نے پھر سوال کیا جناب قیامت کے دن ربِ کائنات کے سامنے پیش ہو نے کی کیاصورت ہو گی تو فرمایا اللہ تعالی کے حضور نیک شخص اِس طرح آئے گا جیسے کو ئی گمشدہ شخص گھر لوٹ آیا اور گھر والوں کو بہت خو شی ہو ئی جبکہ گنا ہ گار اِس طرح پیش ہو گا کو ئی بھاگا ہوا غلام پکڑ کر واپس لایا جا ئے اور وہ اپنے جرموں کے سبب کانپ رہا ۔ہو انسانوں سے پیار کا مظاہرہ ایک مر تبہ با یزید بسطامی ؒ رات کے وقت قبرستان سے گزرے تو دیکھا ایک نوجوان بر بط بجاتا گزر رہا تھا جب وہ قریب آیاتو آپ ؒ نے لاحول ولاقوۃ پڑھا نوجوان سن کر غصے میں آگیا اور بربط کو آپ ؒ کے سر پر دے مارا بر بط ٹوٹ گیا آپ ؒ کا سر زخمی ہو گیا آپ ؒ اُسے کچھ کہے بغیر خاموشی سے چلے گئے صبح آپ ؒ نے ایک طباق میں لذیذ حلوہ ڈال کر اور ساتھ میں بر بط کی رقم دے کر غلام کو بھیجا اور ساتھ میں پیغام دیا یہ پیسے تمہارے بر بط کے ہیں جو ٹوٹ گیا اور حلو ہ اِس لیے جو تمہیں غصہ آیا تا کہ تمہارے دل کی تلخی مٹھاس میں ڈھل جا ئے ‘ خادم نے جا کر جب حلوا دیا تو نوجوان بہت شرمندہ ہوا اپنے ساتھیوں کے ساتھ آپ ؒ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر معافی کا خوا ستگار ہوا آپ ؒ کی صحبت غلامی کا طو ق گلے میں ڈال کر روحانی منازل کا مسافر بنا ‘ انسان برائی کا مرقع ہے اس کی اصلاح کے لیے حضرت شیخ جنید بغدادی ؒ اِس طرح فرماتے ہیں کوئی شخص اُس وقت تک بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہو سکتا عارف کامل نہیں کہلا سکتا جب تک کہ وہ زمین کی طرح نہ ہو جا ئے کہ نیک سیاہ کار دونوں اُس پر چلتے ہیں اور وہ سب کے سامنے بچھتی ہے اور بادل نہ بن جائے جو ہر جگہ سایہ کر تا ہے گلشن ہو یا ریگستان سورج کی طرح نہ بن جائے جو ہر جگہ کو روشنی دیتا ہے آبادیوں کا لحاظ یا امتیاز نہیں کر تا بارش نہ بن جائے جو ہر چیز پر بر ستی ہے پھولوں پر بھی کانٹوں پر بھی ۔ آج کا انسان اگر صوفیاء کرام کی تعلیمات کواپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو پھر اپنی فردوس گمشدہ کو دوبارہ پا سکتا ہے جس کی تلاش میں وہ صدیوں بھٹکا ہے انسان جتنی بھی ما دی تر قی کر لے حقیقی خو شی اورمسرت اللہ والوں کی صحبت میں ہی نصیب ہو گی ‘ خو شی کی سوغات کو چہ محبت میں ہی ملتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *