یہ سب پاکستان میں ہو رہاہے!

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

 طالب علموں کی جماعت پر ایک تجربہ کیا گیا، تجربہ کافی دلچسپ تھا، استاد نے جماعت کے نصف طلبا کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ تم ریاضی میں بہت نالائق ہو، مجھے ڈر ہے کہ تم ریاضی کے امتحان میں فیل ہو جائو گے، تمہارے نمبر بہت کم آئیں گے، اس مضمون میں تم بہت کمزور ہو وغیرہ وغیرہ۔ باقی طلبا کو استاد نے کچھ نہیں کہا اور انہیں نارمل انداز میں ہی تعلیم دی گئی، جب امتحان کا نتیجہ آیا تو طلبا کا وہ گروپ جسے استاد صاحب اٹھتے بیٹھتے ریاضی میں کمزوری کے طعنے دیتے تھے، ان میں سے کئی حقیقت میں ریاضی میں فیل ہو گئے جبکہ اس گروپ کے باقی طلبا بھی مشکل سے ہی پاس ہوئے اور وہ طلبا جنہیں نارمل انداز میں پڑھایا گیا تھا ان میں سے کچھ کے نمبر بہتر ہوئے اور باقی کا نتیجہ ویسا ہی آیا جیسے پہلے آتا رہا تھا۔ انگریزی میں اس صورتحال کو Self Fulfilling Prophecyکہتے ہیں یعنی کسی صورتحال کی مستقلاً مبالغہ آرائی پر مبنی تصویر کشی کرنا جس کے نتیجے میں وہ عوامل حقیقت میں پیدا ہو جائیں جواس سے پیشتر اصل میں موجود نہیں تھے ۔یہ نہایت دلچسپ تھیوری ہے ،نفسیات دانوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ اپنے ذہن کو مسلسل کوئی پیغام دیتے رہیں گے تو آپ کا ذہن اسی سمت میں کام کرنا شروع کردے گا ، اس کی مثال یوں ہے کہ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں اور وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو کوئی بھی چیز کھانے سے پہلے خود کو بلند آواز میں پکار کر کہیں کہ میں اپنا وزن کم کرنا چاہتا ہوں اور جو چیز میں کھانے لگا ہوں اس سے وزن بڑھ جائے گا (دھیان رہے کہ یہ حرکت اپنے گھرمیں کی جائے تو بہتر ہے ،کسی ریستوارن میں بیٹھ کر آوازلگانے سے پرہیز کریں) ،یہ عمل ہر مرتبہ کچھ بھی کھانے سے پہلے کریں اور مسلسل تیس روز تک جاری رکھیں ،اس کے دو ممکنہ نتائج سامنے آئیں گے ،یا تو آپ کھانا کم کردیں گے اور آپ کا وزن کم ہو جائے گا یا پھر آپ یہ آواز بلند کرنا چھوڑ دیں گے ،یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ مسلسل ہر کھانے سے پہلے یہ بیان بھی جاری کریں اور ڈٹ کر کھانا بھی کھائیں،وجہ اس کی یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا رہے ہیں کہ زیادہ کھانا موٹاپے کا باعث ہے چنانچہ ذہن آپ کو اس حرکت سے روکے گا بالکل ویسے جیسے ریاضی کے استاد نے بچوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ تم ریاضی میں پاس نہیں ہو سکتے سو وہی بچے جو پہلے پاس ہوتے تھے اب فیل ہو گئے!
آئے روز ہم پاکستان پر بھی یہی self fulfilling prophecyتکنیک استعمال کرتے ہیں، روزانہ اس ملک کو صلواتیں سناتے ہیں ، لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ لہرا لہرا کر اسے طعنے دئیے جاتے ہیں ، اس کے مستقبل سے لوگوں کو مایوس کیا جاتا ہے ،منفی باتوں کو محدب عدسہ لگا کر دکھایا جاتا ہے جبکہ مثبت باتوں کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں لاج آتی ہے ۔یقیناً پاکستان میں دودھ اور شہر کی نہریں نہیں بہہ رہیں ،یہاں انتہا پسندی کا ہمیں سامنا ہے ،اختلافی آواز اٹھانے والوں کو گولی مار کر چپ کروا دیا جاتا ہے ،دہشت گردی ہماری جڑوں میں بیٹھی ہے، جہالت، مہنگائی اور غربت نے ہماری مت ماردی ہے مگر ان سب باتوں کا یہ مطلب کیسے نکلتا ہے کہ مثبت کاموں کا ذکر نہ کیا جائے اور مشکلات کا حل تلاش نہ کیا جائے !
’’کرپشن سے لتھڑے‘‘ ہوئے اس ملک میں یہ معجزہ بھی ہوا ہے کہ لاہور کی عدالت عالیہ نے 177سول جج عین میرٹ پر بھرتی کئے،ریکروٹمنٹ کمیٹی کے سربراہ موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منظور ملک صاحب تھے جبکہ رکن جسٹس امین الدین خان تھے ،ان دونوں جج صاحبا ن نے بغیر سفارش کے اور عین انصاف کے تقاضوں کے مطابق یہ بھرتیاں کیں جس پر کسی ایک شخص نے بھی انگلی نہیں اٹھائی، یہ اسی ملک میں ہوا۔اور یہی نہیں ،جوڈیشل پالیسی کے تحت اب ماتحت عدالتوں میں پرانے مقدمات کو نمٹانے کے لئے جج حضرات پر بے پناہ دبائو ہے جس کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی ہے ،اورہر جج کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر ماہ کم از کم دس fully contested مقدمات کا فیصلہ کرے اور ان کی نقول متعلقہ سیشن جج کو ارسال کرے،اس کے علاوہ 696نئے سول جج بھی بھرتی کئے جا رہے ہیں جس سے مقدمات کا دبائو موجودہ ججوں پر مزید کم ہو جائے گا،یہ پاکستان میں ہی ہو رہا ہے !
اسی اتوار کو ایک اشتہار نظر سے گزرا جس نے طبیعت خوش کردی ،خیبر پختونخوا کی حکومت نے شہریوں کی آسانی کے لئے ایک آن لائن نظام کی بنیاد رکھی ہے ، اس نظام کے تحت پختونخوا کے شہریوں کے لئے ایک آن لائن سہولتی مرکز بنایا گیا ہے جہاں سے ڈومیسائل، ڈیتھ سرٹیفکیٹ وغیرہ حاصل کئے جا سکتے ہیں،دفاتر میں دھکے کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ،عام شہریوں کی معلومات تک رسائی بھی اسی آن لائن سسٹم کے تحت ممکن ہے ،نادرا کی مدد سے زکوٰۃ کی تقسیم کا آن لائن نظام بھی وضع کیا جا رہا ہے اور اسی طرح حکومتی خریداری کے نظام کو بھی شفافیت کی غرض سے آن لائن کیا جائے گا،یہ سب کچھ کے پی کے میں کیا جا رہا ہے اور یقیناً یہ صوبہ پاکستان میں ہی واقع ہے۔
ایک صاحب ہیں، نام ان کا صدیق الفاروق ہے، متروقہ وقف املاک کے چیئرمین ہیں ‘ عجیب درویش آدمی ہیں ،ہر وقت اپنے خلاف سازش کرتے رہتے ہیں ،اپنے چیف اکائونٹینٹ کویہ حکم جاری کر رکھا ہے کہ آج کے بعد تم نے اس محکمے کا یوں آڈٹ کرنا ہے جیسے تم میرے بد ترین دشمن ہو ،جب سے چیئرمین بنے ہیں ننکانہ صاحب میں یاتریوں کے لئے مختصر عرصے میں اتنے کام کئے ہیں کہ جس کے لئے ایک طویل کالم درکار ہے ،آج کل انہو ں نے دو نئے کاموں کا بیڑہ اٹھایا ہے جس میں سے ایک لاہور کی تاریخی دیال سنگھ لائبریری کو جدید خطوط پر استوار کرکے آن لائن کرنا اور دوسرے تاریخی بریڈ لے ہال کو بحال کرکے اسے شہر کے ماتھے کا جھومر بنانا ہے،یہ درویش بھی اسی پاکستان میں رہتاہے !
پنجاب حکومت کا ایک ہونہار افسر ہے ،نام ہے علی سرفراز، یہ مرد عاقل پنجاب اسکل ڈیویلپمنٹ کا سربراہ ہے، یہ ادارہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا کام کرتا ہے ،آپ اس ادارے کی ویب سائٹ پر جائیں یا ان کی ہیلپ لائن پر فون کریں ،آپ سے کوائف لئے جائیں گے اورآپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ کس شعبے میں ہنر سیکھنا چاہتے ہیں، اس کے بعد آپ کو متعلقہ ادارے اور افسر کا نام اور نمبر دیا جائے گا،آپ وہاں فون کریں تو آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کے کورس، یونیفارم ،کتابوں وغیرہ کا تمام خرچہ حکومت دے گی‘ اس کے علاوہ آپ کو پندرہ سو روپے ماہوار وظیفہ بھی دے گی ‘یہ پنجاب میں ہو رہا ہے اور ظاہر ہے کہ پنجاب پاکستان میں ہے!
یہ دیگ کے صرف چند دانے ہیں۔لاتعداد مثالیں مزید بھی دی جا سکتی ہیں ،بے شمار کام ایسے ہیں جنہیں کرنے کے لئے کسی بجٹ کی ضرورت ہے نہ کسی نئے قانون کی، صرف ایک ویب سائٹ بنانے سے لوگوں کی زندگیاں آسان کی جا سکتی ہیں ‘سب کچھ ہو سکتا ہے مگر صرف اس صورت میں اگر ہم اپنے ملک self fulfilling prophecyکی زد سے آزاد کردیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *