پاکستان کا ترین نامی شخص

ان کے بہت سے دوست اور حریف بخوشی جہانگیر ترین کے سیاسی اختتام کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔  انہیں چاہیے کہ رفتار تھوڑی دھیمی رکھیں ۔

دیکھنے میں تو ان کی کہانی ختم ہو چکی ہے۔ اس ہفتے سپریم کورٹ نے ترین کے  سیاسی کیریئر پر آخری کیل ٹھونکتے  ہوئے ان کی نااہلی کے خلاف  اپیل مسترد کر دی ہے۔ لیکن  کیا یہ اس شخص کے لیے راستہ بند ہونے کی علامت ہے جس نے  مختلف طریقوں سے پی ٹی آئی  کو حکومت تک پہنچایا؟ ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان وزیر اعظم نہ بنتے اگر ترین ان کے ساتھ نہ ہوتے۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہو سکتی۔

ترین ایک کامیابی کی کہانی ہیں۔ تمام کامیابی کی کہانیوں کی طرح ان کی کہانی میں بھی موڑ اور نشیب و فراز اور اونچ نیچ اور گہرے سائے ہیں۔ لیکن شخصیت کے طور پر ترین 65 سال میں دنیا کے کئی کونوں میں رہے ہیں، وہ سب حاصل کیا ہے جس کو حاصل کرنے کا لوگ خواب دیکھتے ہیں۔ یہ  حقیقت اس چیز  کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ ان کی کہانی کیسے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی۔

مختصر احوال یہ ہے۔ جہانگیر ترین 4 جولائی 1953 میں مشرقی پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پولیس افسر تھے اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد جب ان کا خاندان مشرقی پاکستان سے واپس آیا نوجوان جہانگیر نے اپنے سال معروف پبلک سکولوں میں گزارے۔ وہ ایک اچھے طالب علم رہے ہوں گے کیوں کہ انہوں نے بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریاں یونائٹڈ سٹیٹس سے لیں۔ اس کے بعد انہوں نے بینک جاب شروع کی اور ایک موقع پر انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار کے طور پر کام  کیا۔ ابھی تک یہ ایک محنتی انسان کی عام کہانی ہے  جو ایک پروفیشنل متوسط طبقے / اعلیٰ متوسط طبقے  سے تعلق رکھتا ہے۔

یہاں سے، ترین کی کہانی اونچے گیئر میں جاتی ہے۔ وہ اپنی آستینیں چڑھاتے ہیں اور لودھراں میں کچھ زمین خرید کر اس پر ایک فارم بناتے ہوئے کاروباری میدان میں کودتے ہیں۔ جلد ہی وہ صنعت کاری میں داخل ہوتے ہیں اور ایک شوگر مل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ دونوں کاروبار بڑی کامیابی کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ لوگ ان کی کامیابی کی بہت سی وجوہات بیان کرتے ہیں لیکن ان میں سے ایک وجہ عام ہے:'' ترین نظام کو تعمیر کرنے کے لیے حکمت، تصور اور بہترین مشقوں کو اپناتے ہیں۔شاید طاقت کے ساتھ قربت نے بھی ان کی مدد کی۔'' اس عمل میں وہ خود کار امیر آدمی بن جاتے ہیں۔

اور پھر وہ وہی  کرتے ہیں جو زیادہ تر خود کار امیر  لوگ کرنا پسند کرتے ہیں: ''سیاست میں قدم''۔ پی ایم ایل ایف کے ساتھ کچھ عرصہ  کا تعلق، 1999 سے پہلے شہباز کے ساتھ زراعت پر کچھ مشاورتی کام، پھر مشرف دور میں پی ایم ایل کیو کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ میں آمد (اس وقت وہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی شخصیت ہیں)۔ انہیں وزیر بنایا جاتا ہے اور وہ ایک بے داغ معرفت کے ساتھ ایک قابل اور لائق کارکن کے طور پر اپنی سیاسی پہچان بڑھانا شروع کرتے ہیں۔ تاہم  ان پر ان سائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات  لگ جاتے ہیں جو ان کے پورے کیریئر پر  ہمیشہ کا داغ بن جاتے ہیں ۔

مشرف کے بعد وہ کچھ ہم خیال سیاست دانوں کے ساتھ مل کر اپنی پارٹی تشکیل کرنے کے خیال میں مگن ہوتے ہیں۔ لیکن آخر کار یہ پورا گروہ عمران خان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے اور ترین اپنے کامیاب کیریئر کے اگلے سفر کا آغاز ، وہ سفر جو انہیں ان بلندیوں پر پہنچا دے جس کی کوئی حد نہ ہو اور اس گہرائی تک لے جائے جس کا انہوں نے تصور بھی نہ کیا ہو۔

ان کا موازنہ فطری طور پر ان کے معاصرین کے ساتھ  کیا جاتا ہے ۔ ان کے ہم عمر افراد جو ایک جیسے پیشے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے مقابلے میں آ کھڑے ہوتے ہیں ۔ ایسے حریف دوسروں کے کیریئر پر نظر رکھتے ہیں، ایک دوسرے کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا موازنہ کرتے ہیں اور دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے ہر طرح کا حربہ اپناتے ہیں۔  1980 کی دہائی کے اواخر میں اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں پاکسانی سیاست کے بہت سے نوجوان اپنی جوانی کے سایوں سے نکلے اور سیاست کی اندھی روشنی میں ابھرے۔ زیادہ تر اپنی تیس کی دہائی گزار چکے تھے اور اپنی عمر کی چالیسویں دہائی میں داخل ہو رہے تھے،  یہ وہ عمر ہے جس میں جوانی کا جوش بھی ہوتا ہے اور زندگی کی میچورٹی بھی حاصل ہوتی ہے۔  90 کی دہائی کے اوائل میں یہ وہ لوگ تھے جو 1950 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے۔

پیدائش کے سال  پر ایک نظر دوڑائی جائے: شہباز شریف(ستمبر 1951) اعجاز الحق (مئی 1952)، عمران خان (نومبر 1952)، جہانگیر ترین (جولائی 1953)، چوہدری نثار (جولائی 1954)، ہمایوں اختر (اپریل 1955)، شاہ محمود قریشی (جون 1956)۔ 90 کی دہائی ان تمام لوگوں کے لیے  کسی نہ کسی طرح ایک خاص اہمیت رکھتی ہے ۔

شہباز شریف ایک منتظم کارکن کے طور پر اس وقت  ابھرے جب وہ 1997 میں پنجاب کے چیف منسٹر بنے۔ اعجاز الحق نے اپنے والد کی وفات کے بعد عوام کی نظروں میں زور پکڑا۔ عمران خان نے 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا اور یہ ان کی کل تاریخ ہے۔ چوہدری نثار 1980 کی دہائی میں ضیاء کی شوریٰ میں رہے تھے لیکن 90 کی دہائی میں نواز ٹیم میں ایک سر گرم سیاست دان بن گئے۔ ہمایوں اختر نے بھی جہاز کی تباہی جس میں ضیاء مارے گئے میں ان کے  والد جنرل اختر عبد الرحمان کی وفات کے بعد اہمیت حاصل کی، اور شاہ محمود نے بھی اسی دور میں سیاسی شہرت حاصل کی۔

ان تمام لوگوں کا ایک مضبوط تعلیمی پس منظر ہے (عمران، نثار اور شاہ محمود ایچیسن کالج سے) اور ایک مضبوط فیملی بیک گراونڈ رکھتے ہیں ۔ تین آرمی افسروں کے بیٹے ہیں (نثار، اعجاز اور ہمایوں)، دو سرکاری ملازمین کے بیٹے ہیں (عمران اور ترین)، ایک جاگیر دار کا بیٹا ہے (شاہ محمود) اور ایک صنعت کار کا بیٹا (شہباز)۔

ان میں سے زیادہ تر اس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر ہیں، اور ان کی کامیابی  ایک خاص نمونہ کی شکل رکھتی ہے۔  لیکن ترین ان سے مختلف ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی دولت وراثت سے نہیں حاصل کی بلکہ اپنی ہوشیاری اور قابلیت سے حاصل کی۔ اپنی چالاکی اور مہارت سے ہی وہ کامیاب سیاسی جماعت کا حصہ بن گئے۔

لیکن اداروں کی طرف سے انہیں وہ چوٹ لگی جو بہت درد کی وجہ بنتی ہے ۔ ایسی چوٹ عدلیہ  کی تلوار کے ذریعے لگائی جاتی ہے۔ بہت سے پہلو وں سے دیکھا جائے تو ترین اسی تلوار کا نشانہ بنے ہیں جو ان کے باس نے ان کے ساتھ مل کر نواز کو کاٹنے کے لیے تیار کی تھی۔  اس بلیڈ سے ستم ظریفی ٹپک رہی تھی۔

کیا ترین کے ساتھ انصاف ہوا؟ اگر ہوا تو پھر نواز کے ساتھ بھی ہوا۔ کیا ترین کو صرف تکنیکی بنیاد پر نا اہل کر کےان کے ساتھ زیادتی کی گئی؟ اگر ایسا ہے تو یہی اصول نوازشریف پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

ترین ایک  مہارت  سے تیار شدہ انسان ہے۔ وہ چیزوں کو  تفصیل سے پرکھتا ہے۔ چیزوں کو جوڑ کر کچھ نیا بناتا ہے اور اگر کوئی چیز کام نہیں کرتی تو اسے ٹھیک کر دیتا ہے۔ وہ ایک پارٹی جو نا تجربہ کار لوگوں اور گرم جوشی سے بھرے سیاستدانوں سے بھری ہے میں واحد عقل مند اور سمجھدار رکن ہیں۔ لیکن کیا اس کی آواز، اس کا اثر اور اس کی نصیحت رفتہ رفتہ طاقت کے راستے سے غائب ہو جائے گی؟

سیاست کے اصول  اور تاریخ کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ترین کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ لیکن ترین کی کہانی اور زندگی کی روش بتاتی ہے کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ شاید وہ دفتری  عہدہ یا خاص مقام نہ پا سکے، لیکن اس کے پاس ایک گھر ہے، اس کے پاس پیسہ ہے، اس کے پاس نظریات ہیں اور اس کے پاس ایک صلاحیت ہے اس وقت کے لیے جب اس کی پارٹی میں اس کی کمی دکھائی دے۔

اس سیاسی خاتمے کے ماتم کو  کچھ دیر اور رکنا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *