پی ٹی آئی کا لوکل گورنمنٹ سسٹم

"ریاض خان"

وزیر اعظم عمران خان نے باقی صوبوں میں بھی کے پی کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے نفاذ کے پلان پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے ۔ 2013 ایکٹ مشرف کے 2001 ماڈل جیسا ہے  لیکن اس میں اختیارات کی تقسیم  کی نوعیت تھوڑی مختلف ہے۔ چونکہ یہ ایکٹ بابو لوگوں نے بڑی چالاکی سے بنایا ہے اس لیے یہ عمران خان کے ویژن پر پورا نہیں اترتا۔ لوکل کونسل ایسوسی ایشن  کے پی نے 2001 ماڈل کو بہتر قرار دیا ہے۔ کمزور اور خراب طریقے سے چلنے والی لوک گورنمنٹ کا قیام درست سمت کی طرف صحیح قدم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ آئین کے مطابق لوکل حکومتیں  مرکزی حکومت کا خود مختار حصہ نہیں ہیں۔ کے پی ماڈل میں  بھی حکومت لوکل گورنمنٹ کو پالیسی اور احکامات جاری کر سکتی ہے اور اگر لوکل حکومت عمل نہ کرے تو ناظم کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ صوبائی حکومت کی غیر ضروری مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ کمشن ایک توازن برقرار رکھتا ہے لیکن اس کا جھکاو مرکزی حکومت کی طرف ہوتا ہے۔ یہ ایک بے اختیار ادارہ ہے جب کہ اس کے فیصلے اہمیت کے حامل ہونے چاہیے۔ ایسے سرکاری اہلکار جو کمیشن کو وقت نہیں دے سکتے انہیں ہٹا کر ماہرین کو کمیشن میں بھرتی کرنا چاہییے۔

گاوں کی سطح تک اختیار منتقلی کا دعوی غیر حقیقی اور پاپولسٹ نظریہ کا عکاس ہے ۔  26 ڈسٹرکٹ کونسلز  میں پہلے سے قائم  1,001 یونین کاؤنسل  جن میں ہر ایک میں  13 ممبران شامل  تھے  ان کو 3,501  ویلیج اور نیبر کونسلز میں بدل دیا گیا ہے ۔ ہمیشہ ان کونسلوں کو چلانا، سرمایا  مہیا کرنا اور حساب کتاب کرنا ایک مشکل کام رہا ہے۔  اور آج تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ اور سسٹم  پر حد  سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے سب سے چھوٹی سطح کو یونین کونسل کی سطح تک محدود   رکھا جانا چاہیے لیکن ممبران کی تعداد13 سے بڑھا کر 25 کر دینی چاہیے تا کہ گاوں کی سطح تک نمائندگی ممکن بنائی جا سکے۔ کو کم کرنے کے لئے  درجہ یونین کاؤنسل کا ہی ہو لیکن   ان  ممبران کی تعداد 13 سے 25 تک ہو تاکہ گاؤں کی سطح پر نمائیندگی سہل اور یقینی ہو سکے۔  گنجائش کی کمی  کو پورا کرنے کے لئے  30 فیصد سیٹیں تجربہ کاروں کے لئے مختص ہونی چاہیں۔ اور ان میں  نوجوانوں، کسانوں اور  کارکنوں کی سیٹیں ختم کر دینی  چاہییں۔

اختیارات کے بغیر انٹرا ڈسٹرکٹ کور آرڈینیشن اور مونیٹرنگ کا نظریہ بھی غیر حقیقی ہے۔  لوکل گورنمنٹ  کی ہر سطح  کو چاہیے کہ گورنمنٹ آفسز کی اپنی حدود میں کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں اور اس کو سوپروائز کریں۔  ویلیج کونسل کا کام پولیس کی بھی نگرانی کرنا ہے جو کہ بہت خطرناک کام ہے۔   محض ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زریعے نچلی سطح کی گورنمنٹ  کی جانچ پرتال غیر ضروری مداخلت کی وجہ بنتی ہے۔  صوبائی ڈیپارٹمنٹس کا ورک لوڈ کم کرنے اور کمیونیکیشن، رپورٹنگ اور نگرانی  کے لیے  ہر ڈسٹرکٹ میں ایک صوبائی افسر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ گورنمنٹ کے  بین الحکومتی  معاملات دیکھے جا سکیں۔   بڑی ترقیاتی سکیمیں ڈسٹرکٹ یا صوبائی سطح پر جاری کی جائیں۔ ڈسٹرکٹ لیول پر کوئی ٹاون پلاننگ نظر نہیں آتی  تحصیل سطح پر تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ گاوں کی سطح پر صرف ایک سیکرٹری/اکاونٹنٹ تعینات کیا جاتا ہے۔ کسی ویلیج کونسل سے یہ توقع کرنا  کہ وہ بڑے پراجیکٹس مکمل کرے اور وہ بھی اسے کسی قسم کے ذرائع مہیا کیے بغیر ایک غیر حقیقی عمل ہے۔ پنجاب میں ڈسٹرکٹ حکام کی قسمت  کا بھی فیصلہ ہونا چاہیے۔ ن لیگ پہلے سے ہی کے پی ماڈل کے سخت خلاف ہے۔ اس کی  کچھ پکی تجاویز کے بعد پنجاب کے میدان بھی پی ٹی آئی کا واٹر لوُ ثابت ہو سکتا ہے۔

موجودہ قوانین کے مطابق  لوکل گورنمنٹ سٹاف میں لوکل گورنمنٹ کے نوکر  اور لوکل سروس سٹاف جو لوکل سروس بورڈ کے تحت ہوتا ہے شامل ہوتے ہیں اور اس یہی صورتحال صوبائی اور مرکزی حکومت کے ملازمین کی ہوتی ہے۔   اس مسئلہ کا حل پی کے ایکٹ کے تحت نکالا گیا ہے۔ لوکل حکومتوں کو اپنی الگ سروس کا بندو بست کرنا چاہییے۔ ماضی میں ڈی سی او ناظم سے زیادہ با اختیار ہوتے تھے۔ اس سے صورتحال مزید خراب ہی ہوئی ہے۔ اب ڈی سی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے کوآرڈینیٹنگ ہیڈ کے طور پر ناظم کے سامنے جواب دہ نہیں ہے۔ گریڈ 16 سے اوپر کی تمام تعیناتیاں اور تبادلے  اور افسران کے خلاف ایکشن اور پرفارمنس کی ایویلیو ایشن  حکومت کے ذمہ ہیں۔

کے پی کے میں پارٹی الیکشنز  کا طریقہ گاوں اور ہمسایہ کی سطح تک متعارف کروایا گیا ہے۔ ھارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے عمران خان ڈسٹرکٹ تحصیل کونسل کے ناظم اور نائب ناظم کے براہ راست انتخابات کا طریقہ متعارف کروانا چاہتے ہیں۔

پارٹی بیسڈ سسٹم کو بدلنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس  کی ایویلیو ایشن ضروری ہے  کیونکہ پارٹی پولٹیکس کی وجہ سے ایلیٹ کپیچر کونسلز کو فروغ مل رہا ہے۔ ای سی پی کے اختیارات بھی محدود کر دئیے گئے ہیں کیونکہ فیصلہ سازی کا  اختیار صرف حکومت کو ہے۔ 2013 ایکٹ کے ذریعے پروونشل فنانس کمیشن کے اختیارات کو بھی کافی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ٹوٹل صوبائی ترقیاتی بجٹ کی کم سے کم شرح  لوکل گورنمنٹ کے لیے 50 فیصد کے قریب ہونی چاہیے۔مقامی اور ضلعی  ٹیکس چھوٹ پی ایف سی ایوارڈ میں شامل کر دی جائے۔

خلاصہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے کے پی کے میں متعارف کروایا جانے والا اصلاحاتی پلان  فنکشن، انسٹیٹیوشنل سٹرکچر اور ذرائع کی تقسیم کے حوالے سے فائد مند نہیں ہے  نہ ہی اس میں  لوکل گورنمنٹ کی سطح پر خواتین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ یہ صرف ڈی سی راج کو مزید فروغ دینے کا آلہ ثابت  ہوا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *