نظامِ شمسی میں نیا ’بونا سیارہ‘ دریافت

ایریزونا: سائنس دانوں نے نظامِ شمسی میں ایک ننھا منا بونا سیارہ دریافت کرلیا جسے ٹی جی تھری ایٹ سیون 2015 کا نام دیا گیا ہے۔

امریکا میں واقع کارنیگی انسٹی ٹیوٹ فار سائنس کے اسکاٹ شیپرڈ، ناردرن ایریزونا یونیورسٹی کے شاڈ ٹروجیلو اور جامعہ ہوائی کے ڈیوڈ تھولن نے مشترکہ طور پر گوبلن کو دریافت کیا ہے۔ یہی ٹیم ایک عرصے سے سیارہ ایکس کی دریافت میں مصروف ہے۔

اس سیارے کو تکنیکی نام کے علاوہ ’دی گلوبِن‘ کا نام بھی دیا گیا ہے کیوں کہ اس سیارے کا قطر صرف 300 کلومیٹر ہے۔ بونا سیارے کی دریافت سے ایک مرتبہ پھر نظامِ شمسی میں ’سیارہ ایکس‘ کی بحث چھڑگئی ہے جس کی موجودگی کے بارے میں ماہرین کئی دہائیوں سے قیاس کرتے رہے ہیں۔ کچھ ماہرینِ فلکیات نے پیش گوئی کی تھی کہ پلانیٹ ایکس نامی ایک سیارہ ہمارے نظامِ شمسی کے بعید ترین حصے میں موجود ہے۔

زمین سے سورج کا اوسط فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے جسے ایک فلکیاتی اکائی (ایسٹرو نامیکل یونٹ) کہا جاتا ہے۔ پلوٹو کا زمین سے 39.5 ایسٹرو نامیکل یونٹ (اے یو) ہے لیکن یہ سیارہ ہم سے بہت دور ہے اور 80 اے یو پر موجود ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سورج یا اپنے اپنے ستارے کے گرد گھومنے والے سیارے بالکل گول دائرے کی بجائے انڈے کی طرح بیضوی انداز میں چکر کاٹتے ہیں۔

اس طرح وہ کبھی اپنے سورج سے قریب اور کبھی دور ہوتے رہتے ہیں۔ اسی بنا پر گوبلن کا مدار بہت عجیب و غریب ہے۔ یہ گھومتے ہوئے کبھی سورج کے اتنے قریب ہوجاتا ہے کہ 65 اے یو تک پہنچ جاتا ہے لیکن جب پرے ہوتا ہے تو بہت بہت دور یعنی 2300 اے یو تک جاپہنچتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے کئی برس تک اس پر نظر رکھی ہے۔

ہماری زمین سورج کے گرد ایک سال میں چکر مکمل کرلیتی ہے لیکن گوبلن کو سورج کے گرد ایک چکر کاٹنے میں 40 ہزار سال لگتے ہیں۔ فلکیات دانوں کے مطابق گوبلن کی کمیت زمین سے دس گنا زائد ہے۔ پروفیسر شیپرڈ کے مطابق اس دریافت سے نظامِ شمسی میں ایکس سیارے کی تلاش میں مدد ملے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *