جسم میں گیسوں کے ذریعے بیماری کا پتا چلانے والا کیپسول

پرتھ: معدے اور پیٹ کے اندر گیسوں کو پہچاننے والا ایک کیپسول اپنی تیاری کے اختتامی مراحل میں ہے۔ اس کے ذریعے جسمانی گیسوں کی نوعیت دیکھتے ہوئے ڈاکٹر بہتر طور پر مرض کی کیفیت معلوم کرسکیں گے۔

ایک عرصے تک تحقیق کے بعد آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے ذیلی ادارے ایٹمو بایوسائنسز نے ایک انقلابی کیپسول بنایا ہے جو پیٹ میں جاکر ہرطرح کی گیسوں کی شناخت کرتا ہے۔ پھر ماہرین ان گیسوں کو دیکھتے ہوئے مرض اور مریض کو بہتر شناخت کرسکیں گے۔

یہ کیپسول انسانی آزمائش کے آخری مراحل میں ہے۔ پیٹ میں جاکر غذا ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوتی ہے اور اس طرح مسلسل گیسیں نکلتی رہتی ہیں۔ غذا ہضم ہونے کے عمل میں اس سے زیادہ گیسیں خارج ہوتی ہیں لیکن یہ سب جسم سے باہر نہیں آتیں۔ اس لیے انہیں پیٹ کے اندر ہی جاننے کی کوشش میں یہ کیپسول بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

مثلاً گیسی بایومارکر سے السر کی ایک قسم کے السر یا بوویل ڈِزیز کی آسانی سے شناخت ہوسکتی ہے۔ فی الحال اس کےلیے ایک لمبی نلکی پیٹ میں اتاری جاتی ہے تو مریض کو درد سے بے حال کردیتی ہے۔ دوسرا طریقہ سانس کی بو ہے لیکن سانس تک آتے آتے گیس بہت ہی کمزور ہوجاتی ہے۔

معدے میں گیسیں سانس کے مقابلے میں 10 ہزار گنا زائد طاقتور ہوتی ہیں۔ اس پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر کائل کہتے ہیں کہ معدے میں بننے والی گیسوں کو براہِ راست جاننے سے بہت سے معمے حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیپسول مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کا ڈیٹا ایک ایپ کے ذریعے موبائل فون پر دیکھا جاسکتا ہے۔

ایٹمو گیس کیپسول، سانس کے ذریعے جسمانی گیسیں شناخت کرنے والے طاقتور ترین ڈٹیکٹر سے بھی 3000 گنا مؤثر ہے۔ 2022 میں یہ ڈاکٹروں کے ہاتھ میں ہوگا جس سے مریضوں کو شفا دینے میں بھی مدد ملے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *