’’اب سمجھ آئی بچو‘‘

بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کے اسد عمر کی جانب سے مفتاح اسماعیل کے پیش کردہ بجٹ میں ہوئی تبدیلیوں کے بارے میں بدھ کے ر وز قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے تین بنیادی سوالات اٹھائے۔ وزیر خزانہ نے ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ ان اہم ترین سوالات کو قطعی نظرانداز کرتے ہوئے بھی لیکن ایک دھواں دھار تقریر جھاڑدی۔ اپنے ساتھیوں سے بارہاڈیسک بجاتی دادوصول کی۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب داد دینے والوں میں نمایاں تھے۔اسد عمر کی تقریر کے دوران چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے وزیر اعظم بلکہ ہمیں یہ کہتے نظر آئے کہ ’’اس کو کہتے ہیں سخن ورسہرا‘‘۔

غالبؔ کا یہ مصرعہ لکھنے کے بعد اگرچہ میں کنفیوز ہوگیا ہوں کہ اصل مصرعہ کہیں ’’اس طرح کہتے ہیں…‘‘ سے شروع تو نہیں ہوتا۔ چیک کرنا چاہیے تھا۔ اس کے لئے مگر ضروری تھا کہ قلم روکتا۔ اپنے بستر کی طرف جاتا۔ وہاں سرہانے کے ساتھ رکھے دیوان غالب کو اٹھاتا اور صحیح جواب معلوم کرلیتا۔ ایسا کرتے ہوئے لیکن میری تحریر کا نام نہاد Flowٹوٹ جاتا۔ کچھ وقت بھی خرچ ہوتا۔ انتہائی ڈھٹائی سے لہذا اپنی قوم کی اجتماعی علت یعنی سستی پر قائم رہا۔

میری مرحومہ ماں کو اکثر یہ گلہ رہا کہ ہمارے لوگ ا پنے ذمے آئے فریضوں کو ’’مغروں لاہندے‘‘ہیں۔سرپر آیا بوجھ اُتارنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔ صبح اُٹھ کرمیرا بوجھ یہ کالم لکھ کر اسے جلد از جلد دفتر بھیجنا ہوتا ہے۔قلم اٹھائوں تو کالم ختم کرنے کے بعد ہی واپس رکھتا ہوں۔ مختصراََ الفاظ میں کالم لکھتا نہیں اسے ’’مغروں لاہندا‘‘ ہوں۔ دوسروں کی سرزدہوئی کوتاہیوں کو مگر فوراََ تاڑلیتا ہوں۔ ان کے ذکر سے بلکہ اپنا دھندا چلتا ہے اور آج کا موضوع غالبؔ کا مصرعہ نہیں اسد عمر کی بدھ کے روز قومی اسمبلی میں ہوئی تقریر ہے جو میری دانست میں واقعتا تقریرِ دل پذیر تھی لیکن اس میں چند بنیادی سوالات کے جوابات موجود نہیں تھے۔ اسد عمر نے بھی گویا اپنے ذمے آئے فرض کو ’’مغروں لاہیا‘‘۔ مجھے کالم کا مواد فراہم کردیا۔

بہرحال اہم ترین سوال بلاول بھٹو زرداری نے یہ اٹھایا کہ تحریک انصاف نے قوم سے ایک کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ مکان فراہم کرنے کا وعدہ کررکھا ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین یہ معلوم کرنا چاہ رہے تھے کہ مفتاح اسماعیل کے بنائے بجٹ میں تبدیلیاں لاتے ہوئے عمران خان صاحب کے لگائے وزیر خزانہ نے کونسی مد اور شق میں ان دو اہداف کے لئے کتنی رقوم مختص کی ہیں۔ بجٹ کی دستاویزات میں انہیں ڈھونڈنا ممکن نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ حکومت ’’چند ہی دنوں بعد‘‘ آئی ایم ایف سے پاکستان کے لئے ایک اور بیل آئوٹ پیکیج کے حصول کے لئے رجوع کرنے والی ہے ۔موصوف کی خواہش تھی کہ اسد عمر ضمنی بجٹ پر ہوئی بحث کو سمیٹتے ہوئے ان کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید کریں۔

اسد عمر نے اس سوال کو بھی نظرانداز کردیا اور نہ ہی اس سوال کا جواب دیا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال کر مزید کونسے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس ادارے کا ایک وفد آئندہ ماہ پاکستان اپنے اٹھائے سوالات کا جواب حاصل کرنے آئے گا۔ ہمارے وزیر خزانہ نے ان کے اطمینان کا کیا بندوبست کیا ہے۔یہ بندوبست نہ ہوا تو پاکستان کو ’’بلیک‘‘ والی فہرست میں ڈالا جاسکتا ہے۔

شمالی کوریا اور ایران بھی بلیک فہرست کا حصہ ہیں۔ ’’بلیک‘‘ ٹھہرائے جانے کی وجہ سے انہیں عالمی منڈیوں سے سودے کرتے ہوئے ہزاروں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان ایسی مشکلات کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ برآمدات ہماری کئی برسوں سے جمود کا شکار ہیں۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ ہورہے ہیں۔ برآمدات سے ہوئی آمدنی اور درآمدات پر ہوئے خرچ کے درمیان تفاوت کی وجہ سے جو خسارہ ہے اسے پورا کرنے کے لئے 10سے12ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔ اتنی خطیر رقم ہمارے سعودی عرب اور چین جیسے دوستوں کے لئے ہمیں یکمشت فراہم کرنا ممکن ہی نہیں۔ IMFکے پاس لہذا ہر صورت جانا ہوگا۔معاشی استحکام کے لئے پاکستان کو FATFکی بنائی بلیک لسٹ سے بچنے کا بھی ہر صورت بندوبست کرنا ہوگا۔

اسد عمر صاحب نے اپنی تقریرِ دل پذیر میںان معاملات کا ذکر ضروری نہ سمجھا۔ ان کی تقریرکا اصل مقصد ٹھوس اعدادوشمار کو ہنرمندی سے استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا تھا کہ کاروباری افراد پر مشتمل پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت جسے اپنے بارے میں بہترین معاشی منیجر ہونے کا زعم تھا اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں اقتصادی اعتبار سے اس ملک کا بھٹہ بٹھاکررخصت ہوئی۔ قومی خزانہ ان دنوں تقریباََ خالی ہے۔ بجلی پیدا کرتے کارخانوں کو ادا کرنے کے لئے رقم موجود نہیں۔ گردشی قرضہ ایک بار پھر ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے۔اسے ادا کرنے کے بعد بھی شاید بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔

بات فقط بجلی کی پیداوار اور ترسیل تک ہی محدود نہیںرہی۔ گھریلو اور صنعتی صارفین کو میسر گیس کی سپلائی میں بھی بے تحاشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

نواز حکومت کی ’’معاشی مہارتوں‘‘ کو بے نقاب کرتے ہوئے اسد عمر صاحب نے آصف علی زرداری کی موجودگی میں اس حکومت کی بہت ہوشیاری سے تعریف کی جو 2008سے 2013تک وفاق میں حکمران رہی۔ تحریک انصاف کے وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بے تحاشہ مہنگی قیمت اور بین الاقوامی کسادبازاری کے ماحول میں بھی اس حکومت نے اپنا ’’ڈنگ‘‘ مسلم لیگ نون کے مقابلے میں زیادہ بہترانداز میں ’’ٹپایا‘‘۔

پریس گیلری میں بیٹھے مجھے آصف علی زرداری کے چہرے پر ’’اب سمجھ آئی بچو!‘‘ کہتی مسکراہٹ نظر آئی۔ شہبازشریف نے مگر اسد عمر کی چال بھانپ لی۔ تڑپ کر سپیکر سے مائیک طلب کیا اور حکمران پارٹی کو واضح طورپر بتادیا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان نفاق پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

اسد عمر کی کاری گری مگر اپنا اثردکھاچکی تھی۔ پیپلز پارٹی کے گیلانی صاحب کے بعد لگائے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دورِ اقتدار کے ’’اچھے دن ‘‘بہت فخر سے یاد کئے۔

مجھے فکر اگرچہ یہ لاحق رہی کہ اسد عمر جیسے ذہین وفطین شخص کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی کے بعد عام پاکستانی کے لئے ’’اچھے دن‘‘ کب سامنے آئیں گے۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں ہوئی تقاریر نے مجھے اس ضمن میں کوئی امید نہیں دلائی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *